منڈی بہا الدین: موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ، اہلسنت و الجماعت کے حافظ محمد جاں بحق

منڈی بہاﺅالدین (نامہ نگار) تین مسلح افراد نے فائرنگ کرکے اہلسنت والجماعت کے رہنما پروفیسر حافظ محمدکے گھر میں گھس انہیں قتل کر دیا اور موٹرسائیکل پر سوار ہو کر فرار ہو گئے، پولیس نے نعش پوسٹ مارٹم کروانے کے بعد ورثا کے حوالے کر دی، گوجرہ پولیس نے تین نامعلوم مسلح افرادکے خلاف ڈکیتی کا مقدمہ درج کر لیا، ہمارے ساتھی کے گھر ڈکیتی کی واردات نہیں ہوئی انہیں ٹارگٹ کرکے قتل کیا گیا ہے، ضلعی صدر اہلسنت والجماعت مولانا اشرف حسینی کی میڈیا سے گفتگو۔ نواحی گاﺅں میں بوسال میں تین موٹرسائیکل سوار مسلح افراد اہلسنت والجماعت کے رہنما پروفیسر حافظ گھر میں داخل ہوئے اور ان کے بیٹے طیب کو اسلحہ کی نوک پر رکھ کر تشدد کا نشانہ بنایا اور شور سن کر حافظ محمد موقع پر پہنچ گئے جنہیں دیکھ کر مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کر دی جس سے وہ موقع پر ہلاک ہو گئے، بعدازاں ڈاکو چار موبائل فون اور1200 سو روپے نقدی لے کر موقع سے موٹرسائیکل پر سوار ہو کر فرار ہو گئے، ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے اور نعش کا پوسٹ مارٹم کیلئے ٹی ایچ کیو ہسپتال ملکوال سے کروا کر ورثاکے حوالے کر دی، اہلسنت والجماعت کے ضلعی صدر مولانا اشرف حسینی نے اس واقعہ کو سانحہ سرگودھا کی طرح ٹارگٹ کلنگ قرار دیا ہے اورکہا ہے ان سمیت تمام ذمہ داران کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں لیکن پولیس نے انہیں ابھی تک تحفظ فراہم نہیں کیا ہے، ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے اور سانحہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی، ان کا کہنا تھا کہ پروفیسرحافظ محمدکے گھر ڈکیتی کی واردات نہیں ہے بلکہ انہیں ٹارگٹ کیا گیا ہے۔