بھاشا اور کالا باغ ڈیم کے منصوبے ایک ساتھ شروع کئے جائیں: آبی ماہرین

لاہور (احسن صدیق) آبی ماہرین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ ملک میں دیامر بھاشا ڈیم اور کالا باغ ڈیم کے منصوبوں کو ایک ساتھ شروع کیا جائے ملک ان میں سے کسی ایک کی تعمیر میں تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے۔ واپڈا کے سابق چیئرمین شمس الملک نے کہا کہ ملک میں پانی اور بجلی کی قلت ختم کرنے کے لئے ان دونوں ڈیموں کی اشد ضرورت ہے بھاشا دیامر ڈیم 10 سے 12 سال اور کالا باغ ڈیم تقریباً 6 سے 7 سال میں بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کالاباغ ڈیم بننے سے صوبہ خیبر پی کے کو پانی میسر آئے گا جبکہ بھاشا ڈیم سے آنے والے پانی کو لفٹ کرکے صوبہ کو دینا پڑے گا جس سے اس وقت خیبر پی کے میں کسان جو فی ایکڑ آبیانہ 4 سو روپے سے 5 سو روپے دے رہے ہیں ان کا آبیانہ 3700 روپے فی ایکڑ ہو جائے گا۔ ڈیرہ اسماعیل خان اور بنوں کے غریب کاشتکار اتنا زیادہ آبیانہ نہیں دے سکتے ہیں۔ میں نے 15 سال قبل کہا تھا کہ کالا باغ ڈیم بنائیں اگر ایسا نہ کیا گیا تو قوم کو بجلی اور پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پاکستان انجینئرز فورم کے تھنک ٹینک کے کنوینئر انجینئر غالب عطا نے کہا کہ بھاشا ڈیم کی تعمیر ایک خوش آئند بات ہے لیکن اسے کالا باغ ڈیم کی بجائے تعمیر کرنا غلط ہو گا کیونکہ اس وقت ملک میں پانی اور بجلی کی شدید قلت ہے۔ انہوں نے کہا کہ منگلا ڈیم اور تربیلا ڈیم میں بھل کے باعث پانی ذخیرہ کرنے کی استعداد 28 فیصد کم ہو چکی ہے۔ ملک میں ایسے ڈیم تعمیر کئے جائیں جن سے پانی ذخیرہ کرنے کے ساتھ ساتھ بجلی بھی بنائی جا سکے۔ کالا باغ ڈیم خریف کے موسم میں پانی ذخیرہ کرے گا جب سیلابوں کا خطرہ ہوتا ہے اور ربیع کے سیزن میں پانی فراہم کرے گا جب پانی کی قلت ہوتی ہے۔ پنجاب واٹر کونسل کے ڈائریکٹر حامد ملہی نے کہا کہ بھاشا ڈیم 12 نہیں 22 سال میں بنے گا کیونکہ شاہراہ ریشم 300 کلو میٹر تک زیر آب آئے گی۔ واپڈا کو 5 سو کلو میٹر کے دو لائنیں بنانا پڑیں گی۔