اسرائیل پر تنقید، طیب اردگان مسلم اُمہ کے چیمپئن بن گئے

ٹھٹھہ (اے ایف پی) ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردگان یہودی ریاست اسرائیل پر کھلم کھلا تنقید اور رواں ہفتے پاکستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے اُمت مسلمہ کی یکجہتی کے چیمپئن بن کر اُبھرے ہیں۔ 31مئی کو فریڈم فلوٹیلا پر اسرائیلی فوجیوں کے حملے کے بعد ترکی بالخصوص طیب اردگان کے ردعمل کے بعد ترک وزیراعظم کی عرب اور اسلامی دنیا میں مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے اور انہوں اپنے آپ کو مسلم دنیا کے ہیرو کے طور پر منوایا ہے۔ ان کی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ غزہ میں جگہ جگہ ترکی کے پرچم لہرا رہے ہیں اور والدین اینے بیٹوں کے نام بھی ترک وزیراعظم کا نام رکھ رہے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے پاکستان کے سیلاب سے متاثرہ دورے کے دوران بھی انہوں نے مسلم امہ اور اسلام کے صحیح تشخص کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہاکہ جتنی محبت ترک پاکستانیوں سے کرتے ہیں پاکستان بھی اتنا ہی ہمیں پیار کرتے ہیں۔ انہوں نے 1999ءکے زلزلہ کی تباہ کاریوں پر کہا کہ اس سانحہ پر پاکستان نے ہمیں تنہا نہیں چھوڑا تھا ہم بھی سیلاب کی صورتحال پر پاکستانیوں کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔ ترک وزیراعظم نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران مسلم اُمہ کے اتحاد اور دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے معتدل اسلام کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے دہشت گردی کو مشترکہ جنگ قرار دیتے ہوئے کہاکہ اسلام لوگوں کو قتل کرنا پسند نہیں کرتا۔ انہوں نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ 31مئی کے واقعے پر معافی مانگے اور اس میں ہونیوالے نقصان کا ازالہ کرے۔ انہوں نے کہاکہ اسرائیل اگر ایسا نہیں کرے گا تو وہ مشرق وسطیٰ میں تنہا ہو جائیگا۔