پاکستان کا کشمیر کے 78 ہزار مربع کلو میٹر پر قبضہ غیر قانونی ہے: بھارت

نئی دہلی (اے پی پی + اے این این) بھارتی حکومت نے نیا شوشہ چھوڑتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے کشمیر کے 78 ہزار مربع کلو میٹر کے علاقے پر جبری اور غیر قانونی طور پر قبضہ کر رکھا ہے پاکستان اور چین کا سرحدی معاہدہ غیر قانونی ہے۔ بھارت کی امور خارجہ کی نائب وزیر پرانیت کور نے بدھ کو پارلیمنٹ کے ایوان زیریں لوک سبھا کو بتایا کہ بھارتی حکومت کا موقف ہے کہ چین اور پاکستان کا ’’ بائونڈری معاہدہ ‘‘ غیر قانونی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1963ء میں دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والے معاہدے کے ذریعے کشمیر کا 5180 کلو میٹر کا علاقہ غیر قانونی طور پر چین کو دیا گیا۔ بھارتی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کے 78 ہزار مربع کلو میٹر علاقے پر 1948ء سے جبری طور پر قبضہ جمایا ہوا ہے جبکہ 38 ہزار مربع کلو میٹر علاقہ چین کے قبضے میں ہے۔ پرانیت کور نے کہا کہ پاکستان ممبئی حملوں کی پوری سازش کو بے نقاب کرنے اور اس کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کیلئے ہماری فراہم کردہ معلومات پر اقدامات کرے۔ پاکستان نے تصدیق کی ہے کہ اس کی سرزمین پر موجود عناصر ان حملوں میں ملوث تھے اور یہ کارروائی لشکر طیبہ نے کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو گزشتہ چار سال سے ایک دوسرے کے ملکوں کے زائرین کیلئے زیارت کے مقامات کی تعداد میں اضافہ کرنے کی تجویز پیش کی جا رہی ہے مگر اس نے ابھی تک باضابطہ طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ بھارت نے منشیات کی سمگلنگ اور دہشت گردوں کو مالی تعاون کی فراہمی روکنے‘ ایوی ایشن سکیورٹی‘ سائبر سکیورٹی اور ملزمان کی حوالگی کے لئے پاکستان‘ امریکہ‘ مصر‘ برطانیہ‘ چین‘ فرانس‘ آسٹریلیا اور روس سمیت 27 ملکوں سے جوائنٹ ورکنگ گروپ قائم کر رکھے ہیں۔