جوڈیشل کانفرنس میں بدنظمی، فاروق نائیک سمیت کوئی اہم حکومتی شخصیت شریک نہیں ہوئی

اسلام آباد (رپورٹ: رانا مسعود حسین) سپریم کورٹ میں منعقدہ تین روزہ انٹرنیشنل جوڈیشل کانفرنس میں وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک اور نوتعینات اٹارنی جنرل عرفان قادر سمیت حکومت کی کسی بھی قابل ذکر حکومتی شخصیت نے شرکت نہیں کی جبکہ کانفرنس انتظامیہ کی نااہلی اور بدانتظامی نے کانفرنس کو ناکامی سے دوچار کر دیا ہے اور بدنظمی دیکھی گئی، متعدد ججز کو کھانا نہ ملنے کی وجہ سے بعد میں ہوٹل میں جاکر کھانا کھانا پڑا۔ تفصیلات کے مطابق لاءاینڈ جسٹس کمشن کے زیرانتظام تین روزہ انٹرنیشنل جوڈیشل کانفرنس کے دو دن انتہائی بدنظمی دیکھی گئی جس میں ملک بھر سے آنے والے معزز ججز، وکلا، دانشوروں اور صحافیوں کو بُری طرح نظر انداز کیا گیا، انتظامیہ کی نااہلی اور بدنظمی کا یہ عالم تھا کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے لئے مخصوص نشستوں پر ججز کی بجائے دیگر مہمان قابض رہے جبکہ انکی رہنمائی کے لئے کوئی خاص انتظام بھی نہ تھا۔ کانفرنس کے دونوں روز متعدد معزز مہمان کھانا کھانے سے محروم رہے جبکہ متعدد ججز اور وکلا کو کھانا نہ ملنے کی وجہ سے ہوٹلوں میں جاکر کھانا کھانا پڑا۔ ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن چودھری محمد اسلم گھمن اور دیگر ارکان نے فاضل چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو اس صورتحال سے آگاہ کیا جس پر چیف جسٹس اور عدالت عظمیٰ کے دیگر فاضل ججز نے بھی ناراضگی کا اظہار کیا۔ واضح رہے کہ اسی طرح کی بدانتظامی کا مظاہرہ عدالت عظمیٰ کے کورٹ روم میں بھی دیکھا جا سکتا ہے جہاں پچھلے کئی ماہ سے خراب ساﺅنڈ سسٹم کی وجہ سے اکثر گفتگو سمجھ میں ہی نہیں آتی۔ آج کانفرنس کا آخری دن ہے۔