علی گیلانی گھر پر نظربند‘ کشمیری عوام سے بھارتی انتخابات کے بائیکاٹ کی اپیل

سرینگر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں سینئر حریت رہنما سید علی گیلانی کو بھارتی حکام نے گھر پر نظربند کر دیا ہے جبکہ سید علی گیلانی نے کشمیریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بھارت کے نام نہاد لوک سبھا انتخابات کا بائیکاٹ اور پولنگ کے دن مکمل ہڑتال کریں۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سید علی گیلانی نے سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کشمیریوں سے کہا کہ وہ کشمیری شہداء کی بیش بہا قربانیوں کا کو مد نظر رکھیں جو انہوں نے بھارت سے آزادی کیلئے دی ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر مقبوضہ کشمیر اور بھارت کی جیلوں میں نظربند کشمیری نظربندوں کی بگڑتی ہوئی صحت پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر سے باہر جیلوں میں نظربند تمام کشمیریوں کو سات روز کے اندرمقبوضہ کشمیر منتقل کرنے اور 30 اپریل تک تمام کشمیری حریت پسند رہنمائوں اور کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر قابض انتظامیہ نے کسی لیت و لعل سے کام لیا تو اس کے خلاف یکم مئی سے عوامی احتجاجی مظاہرے شروع کئے جائیں گے۔ دریں انثاء قابض انتظامیہ نے سید علی گیلانی کو غیر قانونی طور پر ان کے گھر میں نظر بند کر دیا ہے۔ قبل ازیں سری نگر میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سید علی گیلانی نے کہاہے کہ بھارت مقبوضہ علاقے میں نام نہاد انتخابی ڈھونگ کے انعقاد کے ذریعے زمینی حقائق کو مسخ نہیں کر سکتا اور کشمیری اپنے حق خود ارادیت کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ گیلانی نے کٹھ پتلی وزیر اعلی عمر عبداللہ کے گذشتہ مقامی انتخابات سے قبل کئے گئے ان وعدوں کو یاد دلایا جن میں انہوں نے انتخابات کے فوراً بعد تمام سیاسی رہنمائوں اور کارکنوں کو رہا کرنے کی یقین دہانیاں کرائی تھیں۔ کٹھ پتلی انتظامیہ نے آج تک اپنے کسی وعدے کو عملی جامہ نہیں پہنایا جو اس کی بدنیتی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
علی گیلانی نظربند