طالبان نے بونیر کا کنٹرول سنبھال لیا: ناظم/ نوجوانوں کی بھرتی شروع

سوات / پشاور (نیٹ نیوز + مانیٹرنگ نیوز + بیورو رپورٹ) سوات کے طالبان نے بونیر میں نوجوانوں کو بھرتی کرنا شروع کر دیا ہے اور لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ ان کے ساتھ شامل ہو جائیں۔ ذرائع کے مطابق علاقے کی تقریباً تمام مساجد کو مقامی افراد کو طالبان فورس میں بھرتی مراکز کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ بونیر کے ڈی سی او جاوید احمد کا کہنا ہے کہ وہ طالبان رہنمائوں کے ساتھ رابطے میں ہیں اور آئندہ چند روز میں صورتحال معمول پر آ جائے گی۔ انہوں نے ان اطلاعات کی تردید کی کہ بونیر میں طالبان نوجوانوں کو بھرتی کر رہے ہیں۔ یونین کونسل بونیر کے ناظم افسر خان گریزئی نے کہا ہے کہ بونیر میں طالبان نے علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا۔ طالبان کے قبضے کے بعد مقامی لوگوں نے علاقے سے نقل مکانی شروع کر دی ہے۔ بونیر میں لوگوں کے گھروں اور املاک پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔ صوبہ سرحد کے صوبائی وزیر افتخار حسین نے کہا ہے کہ بونیر پر مکمل طور پر طالبان کا قبضہ نہیں ہے البتہ اِکا دکا واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ دریں اثناء بونیر میں طالبان کے خلاف پولیس آپریشن کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے اس سلسلے میں پشاور سے پولیس کمانڈوز کے 11 پلاٹون روانہ کر دئیے گئے ہیں۔ امن معاہدے کے تحت مزید پانچ طالبان قیدی رہا کر دئیے گئے۔ ہنگو کے علاقہ شناوڑی زرگری کے قریب مقابلے کے بعد پولیس نے ایک شخص محمود خان قوم علی خیل کو گرفتار کرکے راکٹ اور دیگر اسلحہ برآمد کرلیا۔ وزیرستان میں پفلٹ کے ذریعے کہا گیا ہے کہ پاک آرمی کے کانوائے کے گزرتے وقت لوگ اپنی جانوں کو محفوظ بنائیں۔ دیر بالا کے علایق ڈوگ درہ سے عسکریت پسندوں کو نکالنے کیلئے قومی جرگہ اور ضلعی انتظامیہ کے مابین مذاکرات کامیاب ہو گئے‘ کل تک علاقہ خالی کرنے پر اتفاق ہو گیا۔
بونیر بھرتی