قومی اداروں سے محاذ آرائی نواز شریف اور ملک و قوم کے مفاد میں نہیں : چوہدری نثار

ٹیکسلا(نمائندہ نوائے وقت)سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے دورہ ٹیکسلاکے دوران ایم پی اے حاجی عمرفاروق کے دفترمیںپریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ عدلیہ اوردیگرقومی اداروںسے محاذآرائی کاعمل کسی طوربھی ٹھیک نہیں،اداروںسے محاذآرائی نہ تو میاں نواز شریف کے مفاد میں ہے اور نہ ہی ملک و قوم کے مفادمیںہمیںبہرطورانصاف کے حصول کےلیئے عدلیہ سے ہی رجوع کرناہوگا،انہوںنے کہاکہ میںنے ہمیشہ پارٹی کے ساتھ رہتے ہوئے اصولی موقف اپنایا،خوشامدسے نفرت کرتاہوں،یہی وجہ ہے کہ قیادت کے سامنے ہمیشہ کھری بات کہی،انہوںنے کہاکہ افواج پاکستان ملکی بقا اور سلامتی کی جنگ لڑ رہی ہیں،اور ہمیں اس بات پرفخرکرناچاہیئے،انہوںنے کہاکہ حقانی نیٹ ورک کے خاتمہ کےلیئے امریکہ سے مل کرآپریشن کرنے کی بات کرنے والوںکواپنے موقف کاخودہی جواب دیناچاہیئے،تاہم اگراس طرزکی کوئی حکومتی وزیرکی طرف سے کوئی بیان دیاگیایابات کی گئی ہے،تویہ انتہائی تضحیکی عمل ہے،پاکستان ایک خودمختاراورایٹمی ملک ہے،ہماری سیکورٹی فورسسزعالمی سطح پراپنی ایک حیثیت رکھتی ہیں،ہمیںکسی کے اشتراک کے ساتھ دہشت گردی کے نیٹ ورک کوختم کرنے کی کاروائی کرنے کی بجائے اپنے سیکورٹی اداروںپرانحصارکرتے ہوئے خودکاروائی کرناہوگی،انہوںنے کہاکہ قبل ازیںبھی ہماری مسلح افواج نے داخلی اورخارجی امن کے قیام کےلیئے بہترین اورکامیاب حکمت عملی کے تحت موثراقدامات اٹھائے،انہوںنے کہاکہ میںشروع دن سے کہہ رہاہوںکہ ہمیںاپنے خلاف تمام ترمقدمات کافیصلہ عدالتوںکے سامناکرنے سے ہی حاصل کرناہوگا،اگرایک عدالت سے ہمیںانصاف نہیںملتا،توپھرہمیںاس سے بڑی عدالت سے رجوع کرناچاہیئے،محٓاذآرائی کی سیاست کسی طرح بھی ہمارے حق میںنہیں،ایک سوال کے جواب میںانہوںنے کہاکہ کسی بھی خود مختار اور آزاد ملک کے اندرونی معاملات میں کسی دوسرے ملک کی جانب سے دخل اندازی قابل قبول نہیں ہوتی، پاکستان نہ صرف ایک ایٹمی طاقت ہے بلکہ پاکستان کی مسلح افواج کا شمار دنیاکی پانچ بڑی افواج میںکیاجاتاہے،ملک کے اندرکسی بھی دہشت گردگروپ کے خلاف کاروائی کرنے کی ضرورت پیش آئی تو افواج پاکستان اور سیکورٹی فورسزخودکرینگیں،انہوںنے کہاکہ میرے اپنے زرائع کے مطابق آئی بی کا خط جعلی معاملہ ہے،نہ ہی مسلم لیگ(ن) میں کوئی گروپ بندی ہے اور نہ ہی کوئی فارورڈ بلاک بن رہا ہے میں پارٹی کے اندرخوشامدی رول اداکرنے والے گروپ کے خلاف ہوں،انہوںنے کہاکہ میں پہلے مسلمان پھر پاکستانی اور پھر سیاست دان ہوں،پارٹی کے ساتھ کھڑا ہوں اختلاف رائے رکھنا میرا جمہوری حق ہے،انھوں نے کہاکہ میںنے ہمیشہ مخلصانہ جذبات سے سرشارہوکرقیادت کومشورے دیئے،تاہم جب میںنے محسوس کیاکہ میری رائے اورمشوروںپرعمل نہیںکیاجاتاتوپھرمیںنے اپنے آپ کومحدودکرلیا،انہوںنے کہاکہ کون وزارت کے منصب سے آسانی کے ساتھ علیحدگی اختیارکرتاہے،میںنے اصولوںکے تحت حکومت ہونے کے باوجودوزارت داخلہ کامنصب نہیںسنھبالا،سیاست کے اندراصولوںکوسربلندرکھناچاہتاہوں،انہوںنے کہاکہ جب میں وزیر داخلہ تھا تومیں نے سائبر کرائم پر خصوصی توجہ دی اور متعدد لوگوں کے خلاف مقدمات بھی بنے اور گرفتاریاں بھی ہوئیں اب جو کچھ ہو رہا ہے اسکا جواب تو موجودہ وزیر داخلہ ہی دے سکتے ہیں، انھوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میرے کس عمل سے شیخ رشیدصاحب کومایوسی ہوئی،وہ ذرا،اس کی وضاحت بھی فرمادیں،انہوںنے کہاکہ میں نے شیخ رشید کا قرضہ نہیں دینا، میرا،اندازسیاست اپناہے،اورمیرے خیال کے مطابق شیخ رشیدمنجھے ہوئے اورتجربہ کارپارلیمنیٹرین ہیں،میںانکے اندازسیاست اورخیال کااپنے آپ کوپابندنہیںکرسکتا،اورنہ ہی میں انکی پسندوناپسند کا کوئی جواب دے سکتا ہوں۔