بھارتی ریاست بہار میں مہنگائی کیخلاف اپوزیشن جماعتوں کی ہڑتال‘ زندگی مفلوج

پٹنہ (اے ایف پی) بھارتی ریاست بہار میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے مہنگائی کے خلاف بہار بند کی کال دی ہے جس کے سبب ریاست میں عام زندگی متاثر ہو رہی ہے۔ راشٹریہ جنتا دل اور لوک جن شکتی پارٹی نے ریاستی ارکار کی ”ناکامیوں“ اور مہنگائی کے خلاف ہڑتال کی کال دی ہے۔ مظاہرین نے جگہ جگہ ٹرینوں کو روک کر احتجاج کیا ہے جس سے ریل سروسز متاثر ہوئی ہے۔ قومی اور ریاستی ہائی وے پر بھی مظاہرین نے احتجاج کیا ہے۔ گذشتہ ہفتے بھارت میں حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے مہنگائی کے خلاف آل انڈیا بند کی کال دی تھی جس کا کافی اثر دیکھا گیا تھا۔ بہار بند کے دوران سیاسی پارٹیوں نے مرکزی حکومت کے علاوہ ریاستی حکومتوں کو بھی مہنگائی کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ مظاہرین نے پٹنہ‘ حاجی پور‘ جہان آباد‘ بکسر اور مظفر پور میں ٹرینوں کو روک کر ان کے سامنے احتجاج کیا ہے۔ لالو پرساد یادو کی راشٹریہ جنتا دل اور رام ولاس پاسوان کی لوک جن شکتی پارٹی نے ریاستی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ مہنگائی پر قابو پانے پر ناکام رہی ہے۔ بہار میں یونیورسٹی اور کالجوں میں ملازمین تنخواہوں میں اضافے کے لئے پہلے ہی ہڑتال ہیں۔ کالج کے ٹیچرز بھی اس ہڑتال میں ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔ یونیورسٹی ملازمین اور اساتذہ نے بھی بند میں حصہ لیا۔