پاک فوج کیخلاف سازش

 پاک فوج کیخلاف سازش

ملک کی سا لمیت کے ذمہ دار اداروں کی حالت زار کسی سے بھی پوشیدہ نہیں۔ عدالتی نظام میں دہائیوں تک لوگ انصاف کو ترستے ترستے جہان فانی سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ اور یہی نہیں، ذولفقار علی بھٹو کی پھانسی کا معاملہ ہو یا نظریہ ضرورت ، ملکی عدالتی نظام میں انصاف کی حقیقی اور بروقت فراہمی ایک خواب ہی رہا۔ افتخار چوہدری صاحب کی بحالی کے بعد ملکی عدالتوں سے عوام نے جو توقعات وابستہ کی تھیں، بد قسمتی سے وہ بھی حسرتوں کا کفن پہن کر دفن ہو گئیں۔ حالیہ سیاسی بحران میں بھی نون لیگ اور تحریک انصاف کے درمیان بھی عدلیہ کا کردار متنازع ہی رہا اور اب فوجی عدالتوں کے قیام کے معاملے نے تو سارے عدالتی نظام پر بہت بڑا سوالیہ نشان اٹھا دیا ہے ۔ سیاسی عدم استحکام اورملکی درد سے زیادہ اپنے مفادات کی خاطر قومی و مِلًی مفادات کا سودا کرنے والے سیاستدانوں کے سبب عوام اگر اعتماد کریں اور امید وابستہ کریں تو آخر کس سے ؟ انہی فوجی عدالتوں کے قیام کا ہی معاملہ لے لیجئے، ہر پارٹی اور اسکے سربراہان ایک طرف تو فوج کو خوش کرنے کے لئے فوجی عدالتوں کے قیام کی حامی بھرتے ہیں اور دوسری طرف کسی حجت بازی سے اس بات کو ٹالنا بھی چاہتے ہیں کہ کہیں انہی عدالتوں سے ان کے اپنے اعمال ناموں کی سزا نہ مل جائے اور جو حربے روائیتی عدالتوں میں اپنا کر یہ لوگ بچ جاتے ہیں وہ حربے وہاں چلانے شاید مشکل ہوں ۔ اسی خطرے کے پیش نظر گڑھی خدا بخش میں تقریر کرتے ہوئے زرداری صاحب نے اپنے چھوٹے بھائی میاں صاحب کو متنبہ کیا کہ کہیں ان عدالتوں کے قیام سے ہم خود ہی جیل کی ہوا نہ کھا رہے ہوں اور اب حکومت تمام پارٹیوں کو اعتماد میں لے رہی ہے کہ ان عدالتوں کو صرف دھشت گردی کے مقدمات تک محدود رکھا جائے گا۔ کیونکہ تقریباً تمام ہی پارٹیوں میں ، میاں صاحبان کے سمیت ایسی ہستیاں موجود ہیں جن پر دھشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات درج ہیں ، لہٰذا ایوانوں میں یہ بازگشت بھی سنائی دی کہ ”مذہبی دھشت گردی“ کیخلاف ان عدالتوں کو استعمال کیا جائے اور سیاستدانوں کو کسی طریقے سے ان عدالتوں سے استثناءحاصل ہو جائے۔پولیس عدلیہ اور سیاسی نظام کی زبوں حالی کے بعد اب صرف ایک افواج پاکستان ہی ایسا محکمہ بچا ہے جو اس ملک کا شیرازہ بکھرنے سے روک سکتا ہے اور اگر خدانخواستہ افواج پاکستان کو کمزور کر دیا گیا تو پاکستان کے لئے اس سے زیادہ خوفناک صورتحال شاید اور نہ ہو۔ اسی بات کے پیش نظر ملک دشمنوں نے اب ہاتھ دھو کر اس واحد ادارے کی تباہی کے لئے سر توڑ کوششیں شروع کر دی ہیں۔ 2014 کے اختتام پر نیٹو فورسز نے بھی اپنے مشن کو ختم کرنے کا اعلان کیا۔ طالبان کہا کرتے تھے کہ امریکہ کے پاس اسلحہ ہے اور ہمارے پاس وقت اور جب بھی اسلحہ اور وقت کی لڑائی ہو تو اسلحہ ہمیشہ وقت کے ہاتھوں ہارا کرتا ہے۔ یہ بات سچی ثابت ہوئی اورنیٹو فورسز طالبان سے شکست خوردہ افغانستان چھوڑنے پر مجبور ہو گئیں۔ اس انتہائی شرمندگی کے باوجود امریکی صدر اوباما نے نہایت ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مضحکہ خیز بیان دیا، انہوں نے نہ صرف نیٹو افواج کو نہایت ذمہ دار افواج قرار دیا بلکہ یہ بھی فرمایا کہ امریکہ نے افغانستان سے جو ترقی اور خوشحالی کے وعدے لئے تھے وہ بھی پورے کئے۔ جب تک امریکہ افغانستان میںوارد نہیں ہوا تھا پاکستان نے دھشت گردی کا نام تک نہیں سنا تھا ، نیٹو افواج کی ذمہ داری کا عالم یہ ہے کہ پچھلی دہائی میں دھشت گردی افغانستان سے پورے عالم اسلام میں پھیل گئی ہے۔ جس افغان سکیورٹی فورس کو تیار کرنے کا امریکہ دعویدار ہے اس پر طالبان سے مقابلے کے حوالے سے کسی کو بھی اعتماد نہیں بشمول امریکہ کے، خود امریکہ اس ہاری ہوئی جنگ میں کسی اور کو استعمال کر کے شرمندگی سے بچنا چاہتا ہے ، یہ ساری باتیں اس وقت میں ہوئیں جب پاکستان میں سانحہ پشاور کے بعد افواج پاکستان اور حکومت پر شدید دباو¿ پایا جاتا ہے۔ اور پھر یہی نہیں بلکہ سانحہ پشاور کی کڑیاں بھی افغانستان سے جا ملیں ، اس کے ساتھ ساتھ افغان فورسز کی تربیت کی ذمہ داری بھی پاکستان کے حوالے باخوشی کر دی گئی جہاں پہلے امریکہ کی آنکھوں کا تارا بھارت بنا ہوا تھا۔ امریکہ نے اپنا افغانستان میں استعمال شدہ اسلحہ بھی پاکستان کو فروخت کرنے کا وعدہ کر لیا ہے۔ یہ ساری باتیں اس بات کی واضح عکاس ہیں کہ اب امریکہ اپنی شرمندگی کو افواج پاکستان کی گود میں ڈالنا چاہتا ہے۔ دوسری طرف ملک کے اندر برطانیہ میں اپنی آزادی کے بدلے برطانوی سامراج کے ایجنڈوں کو پاکستان میں چلوانے والے ’بھائی صاحب‘ ہوں یا پاکستان میں ایک ایجنٹوں کی نئی شکل ”ایول سوسائٹی“ یعنی سول سوسائٹی ، ان سب نے ایک مذموم سوچ کے تحت اس دھشت گردی کے رخ کو’ تحریک طالبان پاکستان بمقابلہ افواج پاکستان‘ سے ھٹا کر’ اسلام بمقابلہ افواج پاکستان‘ بنانے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ ایسی صورتحال میں افواج پاکستان کی طرف سے نہایت ضروری تھا کہ وہ مساجد کے جلاو¿ گھیراو¿ کے بیان اور عملی مظاہروں کی مخالفت کر کے اس تائثر کو زائل کر دیتے۔ دوسری طرف مدارس کیخلاف حکومتی لائحہ عمل نے بھی ملک میں بالخصوص مذہبی رجہان کے لوگوں میں ایک بے چینی کی فضا قائم کر دی ہے۔ یہ بات بھی بعید از قیاس نہیں کہ بعد میں انہی فوجی عدالتوں کو بھی اپنے سیاسی مفادات کی خاطر سیاسی جماعتیں عوام میں متنازعہ بنا کر افواج پاکستان کی عوام میں ساخت کو مجروح کرنے کی کوشش کریں۔