آپریشن سے شمالی وزیرستان میں امن تو شاید لوٹ آئے رومانس نہیں آئیگا، نقل مکانی کرنیوالے شاعر کا خیال

میرانشاہ (نیٹ نیوز) قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے شاعر زوہیب وزیر کا خیال ہے کہ وہاں جاری فوجی آپریشن کے نتیجے میں، امن تو شاید لوٹ آئے لیکن رومانس کبھی نہیں لوٹے گا۔ تحصیل میرانشاہ میں گاؤں سپلغہ کے سلیم کا تخلّص زوہیب وزیر ہے۔ انہوں نے بچپن میں اْنھی رنگوں میں پشتو شاعری شروع کی۔ اْن کی ایک نظم کے اقتباس کا اردو ترجمہ کچھ یوں ہے:’تم میرا ارمان ہو،ارمانوں سے کھیلا نہیں جاتا،آ جاؤ، تم میری جان ہو،اپنی جان سے کھیلا نہیں جاتا‘‘شمالی وزیرستان میں طالبان کے خلاف فوجی آپریشن شروع ہونے کے بعد، زوہیب وزیر نے بھی ہزاروں ہم وطنوں کی طرح بنوں نقل مکانی کی۔ ’پہلے تو، جسے شاعری میں رومانس کہتے ہیں، پیار و محبت کی باتیں کرتے تھے۔2001ء سے ہمارے علاقے کا ماحول تبدیل ہوا، تب سے میں نے کوئی ایسا شعر نہیں لکھا جو زْلف و رْخسار کے بارے میں ہو۔ اپنے علاقے میں لوگوں کو وہ شاعری سناتا ہوں تو اْنہیں محسوس ہوتا ہے کہ میں گالیاں دے رہا ہوں۔ ایک دور تھا جب میں وہ شاعری کرتا تھا۔ لوگ اْس کے ساتھ ٹھیک تھے۔ اب لوگ وہی ہیں لیکن سوچ بدل گئی ہے۔زوہیب وزیر بتاتے ہیں کہ اب شمالی وزیرستان کے لوگ، جنگ و جدل پر مبنی شاعری کو پسند کرتے ہیں۔
شاعر کا خیال