عید کیلئے پردیسیوں کی گھروں کو واپسی، لاری اڈوں پر رش، ٹرانسپورٹرز کی لوٹ مار

لاہور (سٹاف رپورٹر+ اپنے نمائندے سے+ وقائع نگار خصوصی) عید منانے کیلئے پردیسیوں کی اپنے آبائی علاقوں میں واپسی کے باعث لاہور کی رونقیں ماند پڑ گئیں۔ تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز ریلوے سٹیشن پر بھی مختلف علاقوں کو جانیوالے افراد کا رش رہا اور لوگ اپنے اپنے پیاروں کے ساتھ اپنے گھروں کو جانے والی ٹرینوں کا انتظار کرتے رہے تاہم عید سپیشل ٹرینیں اور میل ایکسپریس بھی حسب معمول کئی کئی گھنٹوں کی تاخیر سے لاہور پہنچیں جس پر مسافروں اور انکے لواحقین نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تو ریلوے پر حکومت کی نظرکرم بھی ہو گئی ہے پھر ٹرینیں گھنٹوں لیٹ ہونے کا کیا جواز باقی رہتا ہے تاہم ریلوے میں بحران کے باعث گذشتہ سالوں کی نسبت لاہور ریلوے سٹیشن پر رش کم رہا اور سارا رش بس اڈوں پر رہا اور ٹرانسپورٹرز مسافروں کی مجبوریوں سے بھرپور فائدہ اٹھاتے رہے۔ بس اڈا مالکان من پسند کرائے نامہ آویزاں کرکے مسافروں سے وصول کرتے جبکہ ہفتہ کے روز سرکاری دفاتر میں حاضری صرف 20فیصد رہی پنجاب حکومت نے اس مرتبہ بھی محکمہ ٹرانسپورٹ کو کوئی خاص ہدایات جاری نہیں کیں اور نہ ہی بس اڈا پر کوئی ٹرانسپورٹ کا آفیسر وزٹ کررہا ہے اور مسافر گزشتہ روز بھی ٹرانسپورٹروں کے رحم و کرم پر رہے۔ دریں اثناءآخری عید سپیشل ٹرین گزشتہ روز کراچی سے ایک ہزار سے زائد مسافروں کو لیکر لاہور کے لئے روانہ ہوئی جبکہ چار نومبر کو چلنے والی2 عید سپیشل ٹرینوںمیں کراچی سے چلنے والی ٹرین گزشتہ روز پونے تین اور کوئٹہ سے چلنے والی عید سپیشل ٹرین8گھنٹے کی تاخیر سے لاہور پہنچ پائیں جس پر مسافروں نے شدید احتجاج کیا جبکہ ریلوے انتظامیہ نے گزشتہ روز مجموعی طور پر118ٹریوں کو منسوخ اور5کو ملا کے چلایا حالانکہ اس کے پاس پسنجر سیکٹر کے لئے92 اور فریٹ سیکٹر کے لئے9 انجن دستیاب تھے۔ گزشتہ روز کراچی ایکسپریس14گھنٹے، کوئٹہ ایکسپریس ساڑھے10گھنٹے، ملت ایکسپریس 9 گھنٹے، جعفر ایکسپریس 7گھنٹے، پاکستان ایکسپریس5گھنٹے، فرید ایکسپریس سوا 4 گھنٹے، خیبر میل5-30گھنٹے، تیز گام ڈیڑھ گھنٹہ کی تا خیر سے لاہور پہنچیں۔