بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ہلاکتوں کی تحقیقات کی نہ قیدیوں کو سہولتیں دیں: وزیراعظم آزاد کشمیر

جنیوا (نامہ نگار) وزیراعظم آزاد کشمیر نے اپنے ایک روزہ قیام کے دوران جنیوا میں اعلیٰ حکام سے اہم ملاقاتیں کیں اور انہیں پاکستان اور آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کی حکومت عوام کو بنیادی سہولیات دینے میں کوشاں ہے۔ وزیراعظم نے انٹرنیشنل کمیٹی ریڈکراس کے ڈائریکٹر جنرل جک کیس دے مائی اور ڈپٹی ڈائریکٹر ہان بونزون سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں بتایا کہ پاکستان اور آزاد کشمیر میں کوئی سیاسی قیدی نہیں۔ وفد کو بتایا مقبوضہ کشمیر میں 2005ءاور 2010ءمیں ہونے والی ہلاکتوں پر بھارت نے ابھی تک کوئی تحقیقات نہیں کی اور نہ ہی وہاں پر قیدیوں کو سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ ہم کمیٹی کے ارکان کو پاکستان و آزاد کشمیر کے دورے کی دعوت دیتے ہیں اور وہ قیدیوں کی سہولیات کا جائزہ لیں۔ اس موقع پر کشمیر سنٹر برسلز کے چیف ایگزیکٹو بیرسٹر عبدالمجید ترمبو نے کہا کہ کمیٹی کو چاہئے وہ اپنا ایک دفتر سرینگر میں بھی بنائے اور اپنے وفود وہاں بھیج کر قیدیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا جائزہ لیں۔ کمیٹی کے سربراہان نے تمام تر سفارشات پر عمل کرنے کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ وہ جلد پاکستان کا دورہ کریں گے۔