پاکستان جب تک دہشت گردی کی مشین کنٹرول نہیں کرتا بامعنی پیشرفت نہیں ہو گی: : منموہن

نئی دہلی (نیٹ نیوز + ایجنسیاں + اے ایف پی) بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے ایک بار پھر کہا ہے کہ جب تک پاکستان اپنی سرزمین پر ”دہشت گردی کی مشین“ کو کنٹرول نہیں کرتا بامعنی پیشرفت نہیں ہو گی۔پاکستان کے ساتھ مسائل کے حل کے لئے بات چیت ضروری ہے۔ پاکستان سے مذاکرات ایک سوچا سمجھا فیصلہ ہے لیکن اسے اپنی سرزمین بھارت کے خلاف کارروائیوں کےلئے بند کرنا ہو گی۔ انہوں نے اس کی تردید کی کہ سعودی عرب یا کسی اور ملک سے ثالثی کی کوئی بات کی گئی ہے۔پارلیمنٹ میں بحث کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بارے میں حکومت کی پالیسی مستقل ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے کبھی اس میں یقین نہیں کیا کہ پاکستان کے ساتھ بات چیت کا راستہ بند کیا جائے۔ سرد جنگ کے زمانے میں بھی امریکہ اور سوویت یونین نے بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا تھا۔ خارجہ سیکرٹری کی سطح پر بات چیت دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ اچانک نہیں تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ جب پوری عالمی برادری پاکستان سے بات کر رہی ہے اور ہم اس سے بات نہ کریں تو بھارت الگ تھلگ ہو جائے گا۔ مہذب ملکوں کے درمیان تمام مسائل بات چیت سے حل کئے جاتے ہیں مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں تاہم انہوں نے کہا یہ بھی صحیح ہے کہ کوئی بھی مذاکرات بامعنی تب ہی ہو سکتے ہیں جب پاکستان‘ دہشت گردانہ سرگرمیوں کو پوری طرح قابو میں رکھے۔ پاکستان کے لئے یہ لازمی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو بھارت کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہ دے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کو دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے‘ مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا ذریعہ ہیں۔ بھارت‘ پاکستان کے ساتھ تعلقات منقطع کرنا نہیں چاہتا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے لئے اوپر کا کوئی دباﺅ ہے اور نہ ہی وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے مداخلت کر رہا ہے۔ مذاکرات کا فیصلہ سوچا سمجھا تھا۔ دورہ سعودی عرب میں پاکستان‘ بھارت تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ وہ پاکستان سے مذاکرات کے سب سے بڑے حامی ہیں۔ پاکستان کو چاہئے کہ وہ اپنی سرزمین بھارت کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔ مقبوضہ کشمیر کے کٹھ پتلی وزیراعلی عمر عبداللہ سے بات چیت کرتے ہوئے منموہن سنگھ نے کہا کہ سرحد پار مقیم نوجوانوں کی واپسی اور آباد کاری کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانا اعتماد سازی کا انتہائی قدم ثابت ہو گا۔ اس ملاقات میں پاکستان بھارت خفیہ مذاکرات ریاستکی تازہ ترین سکیورٹی صورتحال‘ مالی اصلاحات‘ سرنڈر پالیسی اور مجموعی نوعیت کے دیگر معاملات سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق عمر عبداللہ نے وزیراعظم کو بتایا کہ ریاستی سرکار نے پلاننگ کمشن کو سالانہ منصوبہ پیش کیا اس بارے میں گرین سگنل ملنے کا انتظار ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ریاستی سرکار کو 2010-11ء کے دوران سالانہ منصوبے میں 10 فیصد کا اضافہ کیا جائے۔