”بھارت مسئلہ کشمیر ایجنڈے میں شامل نہیں کرتا تو مذاکرات کی بھیک نہ مانگی جائے“

لاہور (اپنے نمائندے سے) دینی و سیاسی جماعتوں کے قائدین اور آل پارٹیز حریت کانفرنس کے رہنماﺅں نے تحریک آزادی جموں وکشمیر کی مجلس مشاورت سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت سے مذاکرات وقت کا ضیاع ہے بھارت مسئلہ کشمیر مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل نہیں کرتا تو پاکستان کو مذاکرات کی بھیک مانگنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے،کشمیر خون کے آنسو رو رہا ہے پاکستانی حکمرانوں نے بھارتی ظلم پر چپ سادھ رکھی ہے، دینی و سیاسی جماعتیں فوجی و سول قیادت پر مظلوم کشمیریوں کی مدد کے لئے دباﺅ بڑھائیں، کشمیریوں کی لازوال قربانیوں نے آزادی کی منزل کو بہت قریب کر دیا ہے اس سنہری موقع کو ضائع کیا گیا تو تاریخ کشمیریوں کی قربانیاں فراموش کرنے والوں کوکبھی معاف نہیں کرے گی،حکمران پرویز مشرف کی کشمیر پالیسی تبدیل کریں ، مغرب کی بجائے شمال کی سرحدوں پر توجہ دی جائے، بھارت کو پاکستانی دریاﺅں پر ڈیموں کی تعمیر سے بزور بازو نہ روکا گیا تو آئندہ پاکستان کو اور زیادہ سیلاب کی تباہ کاریوں کا سامنا کرنا پڑے گاگزشتہ روز مقامی ہوٹل میں ہونے والی مجلس مشاورت سے جماعة الدعوة شعبہ سیاسی امور کے سربراہ پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی ، جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ ،آل پارٹیز حریت کانفرنس کے کنوینئر غلام محمد صفی ، چیئر مین تحریک آزادی جموں کشمیر حافظ سیف اللہ منصور ، حریت کانفرنس کے مرکزی رہنما سید یوسف نسیم ، علامہ احمد علی قصوری ، مولانا امیر حمزہ ، علامہ زبیر احمدظہیر ، مولانا محمد شفیع جوش، مولانا محمد امجدخان ، مرزا محمد صادق جرال ، علامہ علی غضنفر کراروی ، پیر نوربہار شاہ ، حافظ محمد مسعود، سینیئرصحافی و کالم نگار عطاءالرحمن ، مولانا سیف الدین سیف ، مرزا محمدایوب بیگ ، حافظ خالد ولید ،تحریک خاکسار کے رہنما محمد ایوب ، ظہیرالدین بابر و دیگر نے خطاب کیا مجلس مشاورت کے اختتام پر اعلامیہ ہیومن رائٹس فار جسٹس اینڈ پیس کے چیئر مین حافظ محمد مسعود نے پڑھ کر سنایا حافظ عبدالرحمن مکی نے کہا کہ بھارتی و مغربی میڈیا پہلے پاکستان پرالزامات لگاتا تھا کہ کشمیر میں اس کی طرف سے حالات خراب کئے جا رہے ہیں لیکن کشمیری مسلمانوں نے لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر نکل کر احتجاج کر کے اور گولیوں کا جواب پتھروں سے دے کر بھارت و یورپ کا پروپیگنڈہ غلط ثابت کر دیا ہے کشمیریوں کی تحریک آزادی پورے جموں و کشمیر میں بہت قوت اختیار کر چکی ہے کشمیری قائدین و عوام صبر و استقامت کا پہاڑ بنے ہوئے ہیں دہلی بھی سخت پریشان ہے لیکن اسلام آباد میںبیٹھے حکمران بالکل گونگے بنے ہوئے ہیں۔ عبدالرحمن مکی نے کہا کہ پرویز مشرف نے جہاد کو بدنام کیا امریکہ کی نام نہاد دہشت گردی کیخلاف جنگ میں شریک ہو کر بارڈر پر باڑ لگوائی موجودہ حکومت قومی کشمیر پالیسی پر واپس آئے اور آزاد کشمیر کو تحریک آزادی کشمیر کا کیمپ قرار دیا جائے کشمیر کے مسئلہ پر بے و فائی ختم کی جائے۔ غلام محمد صفی نے کہاکہ کشمیریوں کی نئی نسل نے ماﺅں بہنوں کی بھارتی فوج کے ہاتھوں بے عزتی دیکھ کر تحریک اپنے ہاتھوں میں لی ہے وہ تحریک آزادی کو منزل تک پہنچا کر دم لیں گے اب کشمیر میں تحریک آزادی شروع کرنے اور بند ہونے والا وقت نہیں یہ ہماری زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ حافظ سیف اللہ منصور نے کہا کہ کشمیر ی مسلمان قربانیوں کی ایک نئی داستان رقم کر رہے ہیں مظلوم کشمیری وطن عزیز کے دفاع کی جنگ لڑرہے ہیں کشمیری پاکستانی حکمرانوں کے رویہ سے مایوس نہ ہوں 18کروڑ پاکستانی ان کی پشت پر کھڑے ہیں۔ سید یوسف نسیم نے کہا کہ پاکستانیوں اور کشمیریوں کا آپس میں اسلام کا رشتہ ہے جسے دنیا کی کوئی طاقت ختم نہیں کر سکتی ہمارے نظریات ایک ہیں انڈیا کی کشمیریوں کے خلاف تمام سازشیں ناکام ہوں گی۔ علامہ احمد علی قصوری نے کہا کہ حکمران مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے قومی مﺅقف سے انحراف کر رہے ہیں۔ عالمی سطح پر جہاد کو دہشت گردی قرار دیا جا رہا ہے پاکستان میں نیٹو فورسز کو اڈے فراہم کرنا مسلم امہ کی کمر میں خنجر گھونپنے کے مترادف ہے۔ کشمیری پاکستان کی بقاءکی جنگ لڑ رہے ہیں۔ مولانا امیر حمزہ نے کہا کہ ہم کشمیری بھائیوں کو یہ پیغام دینا چاہیے کہ پوری پاکستانی قوم ان کے ساتھ ہے۔ تحریک حرمت رسولﷺ میں شامل جماعتیں تحریک آزادی کشمیر میں ہراول دستے کا کردار ادا کریں گی مولانا محمد شفیع جوش نے کہا کہ کشمیریوں کا خون آخری حدوں کو چھو گیا ہے فوج جتنا زور مغرب پر لگا رہی ہے شمال کی سرحد اس سے زیادہ ضروری ہیں۔ مولانامحمد امجد خان نے کہا کہ پاکستان نے امریکہ کا ساتھ دیا خارجہ پالیسی تبدیل ہونی چاہیے۔ علامہ زبیر احمد ظہیر نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے حکومت پاکستان کی طرف سے بہت زیادہ بے حسی اختیار کی جارہی ہے۔ اللہ کی مدد کشمیریوں کےساتھ ہے کسی بیرونی مدد کے بغیر کشمیریوں کا اتنی لا زوال قربانیاں دینا اس بات کا واضح ثبوت ہے انہوںنے کہا کہ پوری قوم کشمیریوں کی پشت پر کھڑی ہے۔ مرزا محمد صادق جرال نے کہا کہ بھارت سے مذاکرات محض وقت کا ضیاع اور کشمیر کے لئے دی جانے والی قربانیاں ضائع کرنے کے مترادف ہیں۔ پیر نو بہار شاہ نے کہا کہ شہ رگ کشمیر کی تکلیف کو نہیں بھولنا چاہیے۔ علامہ علی غضنفر کراروی نے کہاکہ مسئلہ کشمیر پر پوری قوم متحد ہے۔ مولانا سیف الدین سیف نے کہا کہ جہاد کے علاوہ مسئلہ کشمیر کا اورکوئی حل نہیں ہے۔