سانحہ داتا دربار کے ملزم گرفتار نہ ہونے کےخلاف ”عظمت علی ہجویریؒ“ کارواں

لاہور (اپنے نمائندے سے) تحفظ ناموس رسالت محاذ کے زیراہتمام سانحہ داتا دربار کے ملزمان کی عدم گرفتاری اور پنجاب حکومت کی سردمہری کے خلاف اور قیام امن کے حق میں عظمت داتا علی ہجویریؒ کاروان چلایا گیا۔ کارواں کا آغاز داتا دربار سے ہوا۔ کاروان میں موٹرسائیکل سمیت متعدد کاریں اور بڑی گاڑیاں بھی شامل تھیں۔ کاروان داتا دربار سے شروع ہو کر ٹیکسالی گیٹ، مینار پاکستان سے مختلف راستوں سے ہوتا ہوا ناصر باغ اختتام پذیر ہوا۔ اس موقع پر مال روڈ سمیت ملحقہ سڑکوں پر ٹریفک جام رہی اور شہریوں کو سخت مشکلات پیش آئیں۔ کاروان کی قیادت علامہ رضائے مصطفی نقشبندی، مولانا محمد علی نقشبندی، ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی، محمد ضیاءالحق نقشبندی، مولانا نعیم جاوید نوری اور دیگر نے کی کاروان کے دوران چیئرنگ کراس چوک میں سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین حاجی محمد فضل کریم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں کا اقتدار عارضی اور داتا کی حکمرانی دائمی ہے داتا کی دہلیز پر گرنے والا خون رائےگاں نہیں جائے گا۔ ہم نے ٹریلر چلایا ہے کہ 8۔ اگست کو انسانوں کا سمندر داتا کی چوکھٹ پر اجتماعی حاضری کےلئے لاہور کا رخ کرے گا۔ اشرف آصف جلالی نے کہا کہ امریکہ کے پالتو دہشت گرد آج امریکہ کو گالی دے کر منافقت کر رہے ہیں۔ پیر اطہرالقادری نے گورنر ہاﺅس کے سامنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب دہشت گردی کا خاتمہ اور ملک میں امن قائم کر کے دم لیں گے۔ صاحبزادہ صفدر شاہ گیلانی نے پریس کلب کے سامنے خطاب کرتے ہوئے کہا ہم دہشت گردوں کا شکار ہونے والے ایک ایک مسلمان کے خون کا حساب لیں گے۔ علامہ رضائے مصطفی نقشبندی نے کہا کہ ہم سانحہ داتا دربار پر مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کرنے والے بے حس حکمرانوں سے اقتدار چھین لیں گے۔ دہشت گردوں سے ڈرنے والی مسلم لیگ (ن) اپنا انتخابی نشان شیر تبدیل کر لے۔کاروان کے شرکاءاور اس میں شریک مرکزی رہنما صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ کی برطرفی کا مطالبہ کرتے رہے۔ کاروان کے اختتام پر سانحہ مارگلہ اور سیلاب میں جاں بحق ہونے والوں کےلئے دعا بھی کروائی گئی۔