امریکہ نے پاکستان کی سویلین امداد کم کر دی‘ آئندہ ڈرون حملے پاکستانی قیا دت کو بتا کر کئے جائینگے: سی آئی اے

امریکہ نے پاکستان کی سویلین امداد کم کر دی‘ آئندہ ڈرون حملے پاکستانی قیا دت کو بتا کر کئے جائینگے: سی آئی اے

واشنگٹن (نمائندہ خصوصی +رائٹر + اے پی ) امریکہ نے پاکستان کو دی جانے والی سویلین امداد میں کمی کر دی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے کانگرس کو پیش کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ سال یہ رقم 1.5 ارب ڈالر تھی جو کم کر کے 1.1 ارب ڈالر کر دی گئی ہے‘ اس طرح سے پاکستان کو دی جانے والی سویلین امداد میں 40 کروڑ ڈالر کی کمی کی گئی تاہم رائٹر کے مطابق 2010ءمیں پاکستان کیلئے سویلین امریکی امداد 1.5 ارب ڈالر تھی جو کم کر کے رواں سال کیلئے ایک ارب ڈالر کی گئی ہے، آئندہ سال کیلئے سویلین امداد کے کوئی اعداد و شمار ظاہر نہیں کئے گئے تاہم امریکی انتظامیہ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ مالی وسائل پر بوجھ اور اسلام آباد کے ساتھ دشوار تعلقات کے باوجود پاکستان کی سویلین امداد جاری رکھی جائے گی، اسلام آباد کے ساتھ تعلق آسان نہیں مگر یہ خطے میں طویل المیعاد امریکی مفادات کے لئے ناگزیر ہے،خطے میں استحکام بہتر بنانے کا کم خرچ نسخہ پاکستان اور افغانستان کیلئے امریکی منڈی کو توسیع دینا ہے۔ امریکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے کانگرس کو پاکستان اور افغانستان کے بارے میں بھیجی گئی رپورٹ میں یقین دلایا ہے کہ اوباما انتظامیہ امریکی مالی وسائل پر بوجھ اور اسلام آباد کے ساتھ دشوار تعلقات کے باوجود پاکستان کی غیر فوجی امداد جاری رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے تاہم ساتھ یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ خطے میں استحکام کو بہتر بنانے کا کم خرچ نسخہ پاکستان اور افغانستان کیلئے امریکی منڈی کو توسیع دینا ہے۔ رپورٹ میں افغانستان کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امریکہ افغانوں کیلئے ایک ایسی بنیاد تعمیر کرےگا جس کے تحت وہ اپنے مستقبل کی ذمہ داری خود سنبھال سکیں۔ افغانستان کی سول امداد میں بھی کمی کی گئی ہے۔ امریکہ نے افغانستان کیلئے اقتصادی و انسانی امداد 4.1 ارب ڈالر سے کم کر کے 2.5 ارب ڈالر کر دی۔ رپورٹ میں امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ وہ مشرقی یورپ اور سابق سوویت ریاستوں کیلئے قائم کردہ انٹرپرائز فنڈ کی طرز پر امریکہ پاکستان انٹرپرائز فنڈ قائم کرنے کیلئے بھی کانگرس کی منظوری کی کوششیں کر رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اوباما انتظامیہ پاکستان کو امداد جاری رکھنا چاہتی ہے اور امریکی حکام پاکستان میں توانائی کے متعدد اور پانی کے بڑے پراجیکٹس پر کام کرنے کے خواہاں ہیں‘ رپورٹ میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ پاکستان کو کیری لوگر بل کے تحت سویلین امداد جاری رکھنی چاہئے۔ رائٹر کے مطابق امریکی حکام پاکستان میں نئے انفراسٹرکچر منصوبوں پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔ ان میں بجلی کی پیداوار اور پانی کی مینجمنٹ کے منصوبے شامل ہیں۔ دریں اثناءپاکستان اور افغانستان کے لئے خصوصی امریکی نمائندہ مارک گراسمین نے کہا ہے کہ فوجی انخلا کے بعد افغانستان کی ترقی کےلئے امداد کم کر دی جائے گی۔ امریکہ کی طرف سے افغانستان کےلئے سویلین امداد اس وقت بلند ترین سطح پر ہے۔ اس امداد میں افغانستان میں پولیس اور فوجی اہلکاروں کی تربیت پر خرچ ہونے والے اربوں ڈالر شامل نہیں جو امریکہ فراہم کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مستقبل میں افغانستان کےلئے امریکی امداد کی فراہمی میں زراعت، کان کنی، انفراسٹرکچر، توانائی، تعلیم ، فراہمی آب اور پیشہ وارانہ تعلیم جیسے اقتصادی ترقی کے کم لاگت اور طویل المےعاد منصوبوں پر توجہ مرکوز رکھی جائے گی۔ دریں اثناءامریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں سول امداد سے خود کو الگ کرنے سے امریکہ کے قومی سکیورٹی مفادات اور امریکہ کی سیاسی و فوجی کوششوں پر زد پڑے گی۔ گراونڈ پر موجود کمانڈر تصدیق کریں گے‘ ہماری وسیع تر حکمت عملی کا یہ حصہ ہے کہ افغانستان اور پاکستان میں سویلین امداد جاری رہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان میں اوباما کی جانب سے 2009ءمیں شروع کی گئی پالیسی سے نہ صرف امریکہ کو القاعدہ کو شکست دینے میں کامیابی ملی ہے بلکہ دونوں ممالک کی سول سوسائٹی اور اقتصادی صورتحال مضبوط ہونے میں مدد ملی ہے۔
واشنگٹن (نمائندہ خصوصی) ”وال سٹریٹ جرنل“ نے پاکستان میں ڈرون حملوں پر امریکی سی آئی اے، فوج اور سفارتی حکام کے درمیان پس پردہ شدید اختلافات ہونے کا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوجی اور سفارتی حکام کی جانب سے ڈرون حملوں سے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچنے کی شکایت کے بعد سی آئی اے نے ڈرون مہم میں خفیہ طور پر کچھ رعایتیں کی ہیں، آئندہ ڈرون حملوں کے فیصلوں میں محکمہ خارجہ سے مشاورت کی جائے گی ، حملوں کے بارے میں پاکستانی قیادت کو پہلے سے بتایا جائے گا اس کے علاوہ جب پاکستانی حکام امریکہ کا دورہ کریں گے تو اس دوران حملے روک دئیے جائیں گے۔ اخبار کے مطابق بعض امریکی حکام پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں کی پالیسی پر کھلم کھلا تنقید کر رہے ہیں جو صدر بارک اوباما کے دور میں بڑھے ہیں پردے کے پیچھے بہت سے اہم امریکی فوجی اور محکمہ خارجہ کے حکام صرف مخصوص اہداف کو نشانہ بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ امریکی حکام میں ڈرون حملوں پر اختلافات اس قدر بڑھ گئے کہ صدر بارک اوباما کو مداخلت کرنا پڑی اور اس حوالے سے وائٹ ہاوس نے رواں سال موسم گرما میں ڈرون پالیسی پر نظرثانی کی اگرچہ نظرثانی میں بنیادی طور پر سی آئی اے کے پروگرام کی حمایت کا اعادہ کیا گیا تاہم ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق سی آئی اے کے اندر اعتراف کیا گیا ہے کہ ڈرون پالیسی کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے حملے اس وقت کئے جائیں جب یہ سمجھا جائے کہ ان کا کچھ فائدہ بھی ہے محکمہ خارجہ نے ڈرون حملوں کے حوالے سے فیصلوں میں اہم کامیابی حاصل کی۔ ڈرون حملوں کی حکمت عملی میں تبدیلی کے لئے جون میں اجلاس ہوا جس میں صدر اوباما بھی شریک ہوئے۔ صدر اوباما نے کمیٹی تشکیل دی جس میں محکمہ خارجہ کو بھی شامل کیا گیا۔ نئے طریقہ کار کے مطابق اگر پاکستان میں امریکی سفیر ڈرون حملے پر اعتراض کرے تو سی آئی اے ڈائریکٹر ان سے بات کر کے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرے گا۔ اختلافات ختم نہ ہوں تو امریکی وزیر خارجہ کو بھی شامل کیا جائے گا لیکن حملہ کرنے کا حتمی اختیار سی آئی اے ڈائریکٹرکو ہوگا جبکہ آئندہ ڈرون حملوں کے فیصلوں میں محکمہ خارجہ سے بھی مشاورت کی جائے گی۔ ڈرون حملوں کے بارے میں پاکستانی قیادت کو پہلے سے بتایا جائے گا۔ اس کے علاوہ جب پاکستانی حکام امریکہ کا دورہ کریں گے تو اس دوران حملے روک دیئے جائیں گے۔ سی آئی اے نے پاکستانی حکام کے دورہ امریکہ کے موقع پر آپریشن معطل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس فیصلے کا مقصد ڈرون حملوں کا اختیار سی آئی اے سے واپس لینا نہیں بلکہ فیصلوں میں دیگر اداروں کی شمولیت ہے کیونکہ حملوں کے بارے میں سی آئی اے، فوج اور سفارتی حکام میں پس پردہ شدید اختلافات ہیں۔ رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاوس نے اب سی آئی اے کو غیر شناخت شدہ نچلے درجے کے دہشت گردوں کو نشانہ بنانے سے روک دیا۔ امریکی محکمہ دفاع اور محکمہ خارجہ کے حکام نجی طور پر یہ دلیل دے رہے ہیں کہ سی آئی اے ڈرون حملوں کے سفارتی نقصانات پر توجہ نہیں دیتی جن سے پاکستانی عوام کے امریکہ مخالف جذبات بڑھتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ڈرون پروگرام میں تبدیلی کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ سی آئی اے پیچھے ہٹ رہی ہے بلکہ اس نے حالیہ ہفتوں کے دوران پاکستان میں حقانی نیٹ ورک کے جنگجووں پرتوجہ بڑھائی ہے۔