سندر شریف کے سکندر اور مینڈنگ ہارٹس

سندر شریف کے سکندر اور مینڈنگ ہارٹس

تحریر ۔ عزیزظفر آزاد
حضرت علی ہجویر ی کے شہر لاہور میں ایک مردخدا نے اتحاد ملت اور اتفاق امت پر مبنی سلسلہ خیر کا آغا زکیا ۔ حضرت عالی مرتبت قبلہ سید وجیہہ سیما عرفانی نے ساری زندگی خیر کا علم بلند کیا ۔ خیر تقسیم کی اور خیر کے چراغ روشن کرتے کرتے اپنے رب تک جاپہنچے بعدازاں درس و تدریس کا سلسلہ جاری رہا ۔ آپ کے فرزند عالی مقام حضرت سید حبیب عرفانی نے برصغیر میں اپنے اسلاف کی کہکشاں کی طرح درخشاں و تاباں تاریخ کو آگے بڑھاتے ہوئے کارخیر کو تعلیمی میدان تک محدود نہیں رکھا بلکہ عوام الناس کی صحت کے مسائل سے بھی نمٹنے کا عہد راثق کر رکھا ہے ۔پنجاب بھر کے مختلف شہروں اور قصبوں میں خیر کے علم بلند اور عزم عام کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔خیرکے تمام کام الاخیار فاﺅنڈیشن میں سموکر میدان عمل میں دعوت عمل دے رہے ہیں ۔ سندر شریف آستانہ اولیاءحضرت وجیہہ سیما عرفانی عوام الناس کے لئے خیرو برکات و عافیت کا ملجا و منبع کی صورت اختیا ر کر چکا ہے ۔ پنجاب بھر میں سندر شریف کے سکندر کے جاری کر دہ عرفانیہ سکول و میڈیکل سنٹر مخلوق خدا کی خدمت میں معمور نظر آتے ہیں ۔ کوٹ ادووھ جیسے دور دراز علاقے میں جاکر گورنمنٹ سکول برائے طالبات کی سیلاب سے تباہ حال عمارت کو ستر لاکھ کی لاگت سے تعمیر نو کرائی اب الاخیار فاﺅنڈیشن نے ایک اہم ترین مسئلے کے حوالے سے کمر بستہ نظر آرہی ہے۔ ایسے بچے جن کو پیدائشی طور پر دل کے مسائل کا سامنا ہے خصوصا دل میں سوراخ ہونے کے باعث زندگی سے مجبور و محروم ہو جاتے ہیں جن کی تعداد ہر ایک ہزار میں آٹھ بتائی جاتی ہے ان ہزار گھرانوں میں زندگی کی خوشیاں برپا کرنے کےلئے خانقاہ عالیہ سندر شریف سے عزم ثمیم کا اعلان ہوا ہے ۔ راقم نے اپنے بچپن میں اس موذی مرض سے نبردآزما خوش نصیب گھرانہ دیکھا ہے ۔ سید حبیب وارثی راقم کے والد کے دوست تھے ان کی اہلیہ چینی تھیں تین بیٹیوں کے بعد ایک بیٹا نومی تھا جو اس نامراد بیماری کا شکار تھا ۔نومی عام بچوں کی طرح کھیل کود میں حصہ نہیں لے سکتا تھا اکثر اس کے ہاتھ پاﺅں پیلے اور ہونٹ نیلے ہوجا یا کرتے ۔ نومی کی بہنوں اور والدہ کی بے بسی اوراذیتیں میرے ذہن میں نقش ہیں جنہیں تحریر میں لانا محال ہے ۔ایک دن نومی کے لندن میں علاج کی نوید ملی آج نومی چار بچوں کا باپ اور متوسط کاروباری انسان ہے ۔نومی کے علاوہ اپنے گردو نواح اس مرض میں مبتلا تمام بچوں کو مرتے اور والدین کو ہاتھ ملتے سسکیاں بھرتے آہ و فغاںکرتے پایا ۔
رائل پام کلب لاہور میںدرگاہ عالیہ سندر شریف کے سجادہ نشین سید حبیب عرفانی نے الاخیار فاﺅنڈیشن کے زیر اہتمام (Mending Hearts)سلسلہ جاری کرنے کا اعلان کیا ۔ سید وجیہہ سیما ثانی کے وجدان وعرفان سید حبیب کے بعد آپ کے صاحبزادے سید اخیار حبیب عرفانی نے بھی بدرجہ اتم دیکھنے کو ملا ۔ سید اخیار امراض کی تفصیل اس کی ممکنہ تشخیص محرکات اثرات اور مکمل سرجری تک ایک بڑی سکرین پر شرکاءکے لئے آگاہی کا اہتمام اور بیان کیا ۔ سید اخیار ایک ایک نکتہ کھول کھول کر اس روانی اور مہارت سے بیان کر رہے تھے کہ محفل میں موجود شرکاءکو گمان تھا کہ شاید سید اخیار مینڈنگ ہارٹ سرجن کے سند یافتہ ہیں مگر بعد میں معلوم ہوا وہ ماس کمیونیکیشن میں لندن میٹرو پولیٹن یونیورسٹی سے پوسٹ گریجوایٹ ہیں ۔ گفتگو کے عنوان کی کی نوعیت کے باعث محفل میں بڑی حساسیت اور جذباتیت کا غلبہ رہا ۔ڈاکٹر اجمل نیازی گل نوخیز اور ارشاد عارف کی باتوں نے محفل کو گرما دیا مگر سرجی میڈ کے ڈاکٹر شیخ ظفر نے جب بتایا کہ منصوبے کے لئے انہوں نے دس کروڑ مختص کر دیے ہیں اور شہر لاہور میں چھ کینال کا قطعہ زمین حاصل کیا گیا ہے جہاں مینڈنگ ہارٹس کا یونٹ بھی ہوگا ۔ ڈاکٹر کرنل عابد حسین نے بتایا کہ ان کے پاس صاحب درد اور اہل دل ڈاکٹروں کی ایک وسیع ٹیم موجود ہے جو اپنا وقت قوم کے بچوں کی قیمتی جانیں بچانے کےلئے وقف کر چکے ہیں کیا یہ خانقاہ کی کرامت نہیں کہ آج جب علم و طب منافع بخش تجارت بن چکی ہے اسے عبادت کے مقام سے روشناس کرادیا ۔آفریں ہے اس ماحول پر جو دلوں کو بدل ڈالتا ہے ۔
ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ پیدائشی طور پر تقریبااسی کے قریب دل کے ایسے امراض ہیں جو سرجری کے ذریعے ٹھیک ہو سکتے ہیں الاخیار فاﺅنڈیشن ان مستحق مریض بچوں کا علاج کرنے کی ذمہ داری اٹھاتا ہے جن کے والدین علاج کا بوجھ برداشت نہیں کرپاتے کیونکہ پاکستان میں اس مرض کے علاج کی سہولت ناپید ہیں جس سے مرض اور مریضوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے مگر فاﺅنڈیشن جہادی بنیادوں پر رجسٹریشن کا آغاز کر چکی ہے ۔محفل میں چند مریض بچے اور ان کے لواحقین بھی فاﺅنڈیشن کے فیضان عام کی تعریف کرتے سنائی دیے ۔ رائل پام کلب میں سجی یہ محفل جذبوں ولولوں ایثار و اخلاص سے لبریزو فکر انگیز تھی ۔تاریخ شاہد ہے کہ ہندوستان میں آنے والی ہر تہذیب یہاں غرق ہوگئی مگر مسلم تمدن نے ہندوستان کی کایا پلٹ دی آج بھی خانقاہ اجمیر یا دہلی میں نظام الدین اولیاء، سلطان باہو کا کارواں ہو یا علی ہجویری کی درگاہ ہر خاص و عام کےلئے علاج و معالجہ تعلیم و تدریس کے علاوہ نہ ختم ہونے والے لنگر کا سلسلہ ہزاروں بھوکے سیر ہو کر پیٹ بھرتے ہیں ایسا ہی ایک سورج سندر کے سکندر کی خانقاہ عالیہ سے طلوع ہوتا ہے جو دور دور تک علم کی روشنی شفا کی تابندگی اخلاق کی شائستگی اور روح کی تازگی کے انوار ضوفشاں کرتا جا رہا ہے یہاں ٹوٹتے دلوں کو جوڑنے او رمیلے دلوں کو دھونے کا عمل عام ہے خدا کرے کہ وطن عزیز کے طول و ارض میں خانقاہ سیاست کی خباثت سے نکل کر خدمت کی ریاضت کو فوقیت دے تاکہ وطن عزیز کو کرہ ارض میں ایک مثالی اسلامی ریاست کا نمونہ بنا کر پیش کیا جاسکے جس کی تمنا بانیان پاکستان نے کی تھی اور لاکھوں شہیدوں کی روحیں اس منظر کی منتظر ہیں ۔