اللہ کے گھر(مسجد) میں آنے کے آداب

 اللہ کے گھر(مسجد) میں آنے کے آداب

 محمد اسلم لودھی
 مسجد میں داخل ہونے سے پہلے انسان کے ذہن میں اس کے آداب کا خیال ضرور ہوناچاہئے کہ وہ کس عظیم ہستی کے گھر میں داخل ہورہا ہے، اس کے برعکس بالعموم ہمیں نہ اپنے لباس کا خیال ہوتا ہے نہ ہی ہم اپنے ذہن کو دنیاوی تصورات سے پاک کرتے ہیں۔ماہ رمضان شروع ہونے کو ہے آئیے ہم مسجد کے آداب جاننے کی جستجو کریں:
 مسجد میں آنے سے پہلے کوشش کی جائے کہ انسانی جسم بالکل پاک اور کپڑے بالکل صاف ہوں۔ گھر سے وضو کرکے اگر مسجد کی جانب روانہ ہواجائے تو راستے میں جتنے قدم اٹھتے ہیں ان تمام قدموں پر نیکیاں نامہ اعمال میں لکھی جاتی ہیںتاہم مسجد میں پہنچ کر وضو کرنا بھی افضل ہے۔لباس اس طرح کا ہو کہ اس پر کسی قسم کی کوئی تصویر نہ ہو اور نہ ہی کوئی تحریری لکھی ہوئی جو کسی دوسرے نمازی کی یکسوئی میں خلل کا باعث بنے۔ مسجد میں آکر حتی المقدور دنیاوی گفتگو سے پرہیز کیاجائے قہقہہ مارنا اور مسکرانا اپنے نامہ اعمال کو خراب کرنے کے مترادف ہے۔کوشش کی جائے کہ اگر سب سے پہلی صف میں جگہ آسانی سے میسر ہوتو وہاں بیٹھ کر ذکر الٰہی کیا جائے۔ اگر خطیب صاحب درس دے رہے ہوں تو مکمل یکسوئی اختیار کی جائے۔اول تو موبائل پاس نہیں ہوناچاہئے اور اگر موبائل موجود ہوتو اسے استعمال کرنے سے ہر ممکن اجتناب کرناچاہئے اور اس کی گھنٹی مکمل طورپر بندہونی چاہئے ۔
امام صاحب کے سلام پھیرتے ہی بد حواسی میں اٹھ کر باہر بھاگنے کی کوشش نہ کریں کیونکہ اس طرح نہ صرف مسجد کی توہین ہوتی ہے بلکہ جو نمازی ابھی نماز پڑھ رہے ہیں ان کی نماز اور یکسوئی میں بھی خلل پڑتا ہے۔
کوشش کی جائے کہ فجر،عصر یا عشاءکی سنتیں گھر میں پڑھ کے مسجد میں آئیں نماز با جماعت شروع ہوجائے تو سنتیں پڑھنے کی بجائے فرض نماز کی ادائیگی کیلئے جماعت میں شامل ہوجائیں کیونکہ فرض نماز سنتوں سے زیادہ افضل ہے۔اگر چھوٹ جانے والی سنتیں نماز فجر کی ہوں تو وہ سورج نکلنے کے بعد نماز اشراق کے ساتھ ادا کی جائیں۔ اس وقت تک مسجد میں بیٹھ کر قرآن پڑھا جائے یا ذکر الٰہی کیاجائے یہ عمل زیادہ افضل ہے۔ بزرگوں کا احترام ملحوظ خاطر رکھیں۔
 دعا کی قبولیت کے اوقات:فرض نماز کے فوراً بعد،بارش کے دوران،جب خوف خدا سے جسم کانپ جائے،جب رقت طاری ہوجائے اور آنکھوں سے آنسو بہہ نکلیں۔ دعا اس طرح مانگیں جیسے آپ کے سامنے موجود ہے۔دعا کے اول و آخر میں نبی کریم پر درود پاک پڑھنا نہ بھولیے گا کیونکہ وہی دعا افضل تصور ہوتی ہے جس میں اول و آخر درود پاک شامل ہوتا ہے۔حدیث مبارکہ ہے کہ فرض نماز کے فوراً بعد جو مسلمان آیت الکرسی پڑھتا ہے صرف موت ہی اسے جنت میں داخل ہونے سے روکے ہوئے ہے اس لئے ہر فرض نماز کے بعد اطمینان سے آیت الکرسی پڑھیں،استغفار، کلمہ طیبہ، کلمہ شہادت،سورة اخلاص اور اللھم اجرنی من النار پڑھیں پھر امام کے ساتھ دعا مانگنا افضل ترین عبادت ہے کیونکہ اجتماعی دعا زیادہ جلد شرف قبولیت حاصل کرتی ہے۔
 نماز سے فراغت کے بعد دھکم پیل کی بجائے اطمینان سے مسجد سے باہر نکلیں اور کوشش کریں کہ کسی دوسرے سے آپ کاجسم نہ ٹکرائے اور نہ ہی کسی نماز پڑھنے والے کے سامنے سے آپ کا گزر ہو۔نماز عشا اور تراویح پڑھنے کے بعد کوشش کی جائے کہ باوضو ہوکر بستر پر لیٹا جائے۔ علمائے کرام کے نزدیک باوضو سونے والوں کی روحیں خانہ کعبہ کا طواف کرتی ہیں اور سوتے میں فرشتے کروٹیں بدلتے ہیں اگر اس رات موت واقع ہوجائے تو انسان کسی حساب کتاب کے بغیر ہی جنت میں پہنچ جاتا ہے اور قیامت کے روز وضو کی حالت میں ہی اٹھایاجائے گا۔دن اور رات میںجب بھی سونے کی حاجت ہوتو بطور خاص ماہ رمضان میں باوضو ہوکر سونا بہت ہی فائدہ مند ہے۔