لیلة القدر کی عظمت

لیلة القدر کی عظمت

ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی
لیلة القدر وہ بے مثال رات ہے جس میں قرآن حکیم نازل ہوا جس سے انسانیت کی تقدیر بدل گئی۔ اس رات میں ایسی کتاب نازل ہوئی جس میں بنی نوع انسان کو اپنی پہچان اور اپنے خالق کا عرفان حاصل ہوا۔ شاہ عبدالعزیز فرماتے ہیں کہ آسمان سے اس رات فرشتے اترتے ہیں اور علیین سے روحیں نازل ہوتی ہیں تاکہ باکمال انسانوں کے ساتھ ملاقات کریں اور ان کے اعمال کے انوار سے روشنی حاصل کریں اور اپنے محبوب اور معبود کی محبت کا جو جذبہ ان کے سینوں میں جوش مار رہا ہے اس کی لذت سے بہرہ ور ہوں۔“حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم کا ارشاد گرامی ہے کہ لیلة القدر کو جبرائیل فرشتوں کے ایک جم غفیر کے ساتھ اترتا ہے اور ملائکہ کا یہ گروہ ہر اس بندے کیلئے دعائے مغفرت اور التجائے رحمت کرتا ہے جو کھڑے ہوکر یا بیٹھے ہوئے اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول ہوتا ہے۔
شبِ قدر کو مندرجہ ذیل ناموں سے پکارا گیا ہے :-1 لیلة القدر -2 لیلة المبارکہ (سورة الدخان آیت 3)قدر کے معنی عظمت و شرف کے ہیں۔ سورة قدر میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ”بے شک ہم نے اس قرآن کو (لوح محفوظ سے آسمان دنیا کی طرف) شبِ قدر میں اُتارا اور آپ کو کچھ معلوم ہے کہ شبِ قدر کیا ہے۔“لیلة القدر (عبادت اور نیکی) ہزار مہینوں (کی متواتر عبادت اور نیکی) سے بہتر ہے۔ (یعنی اس سے بھی زائد ہے) ۔ فرشتے اور روح القدس اپنے رب کے حکم سے ہر ”امر خیر“ کیلئے اس ”رات“ میں اُترتے ہیں۔ یہ سلامتی اور امن کی رات ہے اور یہ کیفیت امن و خیر صبح کے نکلنے تک رہتی ہے۔
حضرت ابوذرؓ سے اس شب کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ حضرت عمر،ؓ حضرت حذیفہؓ اور صحابہ کرام ؓ سے بہت لوگوں کو اس میں کوئی شک نہ تھا کہ وہ رمضان کی ستائیسویں رات ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ اسے رمضان کی آخری دس راتوں میں تلاش کرو جب کہ مہینہ ختم ہونے میں 9 دن باقی ہوں یا سات دن یا پانچ دن باقی ہوں۔ (بخاری) اکثر اہل علم نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ حضور کی مراد طارق راتوں سے تھی۔ حضرت ابوبکرؓ سے روایت ہے کہ 9 دن باقی ہوں یا سات دن یا پانچ دن یا تین دن، یا آخری رات۔ مراد یہ تھی کہ ان تاریخوں میں لیلة القدر کو تلاش کرو۔ (ترمذی، نسائی)
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ شبِ قدر کو رمضان کی آخری دس راتوں میں سے طاق رات میں تلاش کرو۔ (بخاری، مسلم، احمد، ترمذی)
حضرت عائشہؓ اور حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ نے تا زیست رمضان کی آخری دس راتوں میں اعتکاف فرمایا۔حدیث مبارک ہے ”جو شخص شبِ قدر سے محروم ہو گیا گویا پوری بھلائی سے محروم ہو گیا اور شبِ قدر کی خیر سے وہی محروم ہوتا ہے جو کامل محروم ہو۔“ (ابن ماجہ) پہلی اُمتوں کی عمریں زیادہ ہوتی تھیں جنہیں طویل عبادت کی سعادت بھی حاصل رہی۔ بعد میں نبی¿ پاک کی اُمت کی عمر زیادہ سے زیادہ 70، 80 سال ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے یہ احسان فرمایا کہ ان کو شبِ قدر عطا فرما دی اور ایک شب قدر کی عبادت کا درجہ ہزار مہینوں کی عبادت سے زیادہ کر دیا۔حدیث میں آتا ہے ”جو شخص لیلة القدر میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے عبادت کے لئے کھڑا رہا اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔ (بخاری و مسلم)
امام غزالی (مکاشفة القلوب ص:91 690, ) میںارشاد فرماتے ہیں کہ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول کریم نے فرمایا ”جب لیلة القدر آتی ہے تو حضرت جبرائیلؑ فرشتوں کی جماعت کے ساتھ زمین پر اترتے ہیں اور کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر ذکر اللہ کرنے والے کیلئے دعا کرتے اور اس کو سلام کرتے ہیں۔“حضرت ابو ہریرہؓ کا فرمان ہے ”لیلة القدر میں زمین پر کنکر سے زیادہ تعداد میں فرشتے نازل ہوتے ہیں، چنانچہ ان کے نازل ہونے کے لئے آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔“شبِ قدر کی نشانی یہ ہے کہ وہ شب نہ زیادہ گرم ہوتی ہے اور نہ زیادہ ٹھنڈی بلکہ درمیانی ہوتی ہے۔
 حضرت عبدالقادرجیلانی ؒ( غنیة الطالبین ص22)
 میںحضرت ابن عباسؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم نے ارشاد فرمایا جب شبِ قدر آتی ہے تو حق تعالیٰ، حضرت جبرائیلؑ کو حکم فرماتے ہیں کہ اپنے ساتھ سدرہ پر رہنے والے ستر ہزار فرشتوں کو لیکر زمین پر اتر جاﺅ۔ فرشتوں کے پاس نور کے جھنڈے ہوتے ہیں پھر جب یہ فرشتے زمین پر اتر آتے ہیں تو حضرت جبرائیلؑ اور تمام فرشتے چار جگہ جھنڈے گاڑھ دیتے ہیں۔ کعبہ اقدس کے پاس، روضہ اطہر کے پاس، مسجد بیت المقدس کے پاس اور مسجد طور سینا کے پاس۔ پھر جبرائیلؑ فرشتوں کو دنیا میں پھیل جانے کا حکم فرماتے ہیں۔ فوراً فرشتے دنیائے اسلام میں پھیل جاتے ہیں اور کوئی محلہ گجر، حجرہ اور کشتی جس میں مومن مراد اور مومنہ خواتین ہوں باقی نہیں رہتا کہ فرشتے وہاں نہ گئے ہوں، ہاں جس گھر میں کتا یا سور یا شراب یا ناپاک آدمی یا تصویر ہو ، وہاں نہیں جاتے۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس بیان کرتے رہتے ہیں اور لا الہ الا اللہ پڑھتے رہتے ہیں اور امت محمدیہ کے لئے استغفار کرتے رہتے ہیں۔ جب صبح صادق کو پو پھٹنے لگتی ہے تو آسمان پر پھر جاتے ہیں۔
 شب قدر کی دعا :
امام غزالی (مکاشفة القلوب ص 691 )میں فرماتے ہیں :
”حضرت عمرؓ سے مروی ہے کہ حضور اکرم نے فرمایا کہ جس نے ماہ رمضان کی ستائیسویں شب صبح تک زندہ کی (یعنی عبادت کی) تو وہ مجھے رمضان کے قیام سے زیادہ عزیز ہے۔“
حضرت عائشہ صدیقہؓ کی روایت ہے کہ رسول اکرم نے فرمایا کہ جس نے لیلة القدر کو شب بیداری کی اور جس رات میں دو رکعت پڑھیں اور اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگی اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دے گا اور اس نے اللہ تعالیٰ کی رحمت میں غوطہ لگا لیا اسے جبرائیلؑ اپنا پَر لگائیں گے اور جس کو حضرت جبرائیلؑ پَر لگائیں گے وہ جنت میں داخل ہو گا۔حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ میں نے حضور سے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! اگر مجھے شبِ قدر معلوم ہو جائے تو اس میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا کہ یہ دعا پڑھو :
اَللّھُمَّ اِنَّکَ عَفُوُ ¾ کَرِی±مُ ¾ تحِبُّ ال±عَف±وَ فَاع±فُ عَنَّا
”یعنی اے اللہ! تو معاف فرمانے والا ہے۔ معاف کرنا تجھے پسند ہے تو مجھے معاف فرما دے۔