رمضان کی برکات

رمضان کی برکات

سید ابوالاعلیٰ مودودی
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: تم پر رمضان کا مبارک مہینہ آیا ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے تم پر روزے فرض کئے ہیں۔ اس میں آسمان (یعنی جنت) کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور سرکش شیاطین باندھ دئیے جاتے ہیں۔ اس میں اللہ کی طرف سے ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے۔ جو اس رات کی بھلائی سے محروم رہا وہ بس محروم ہی رہ گیا۔ (احمد‘ نسائی)
برکت کا مفہوم
برکت کے اصل معنی افزائش کے ہیں۔ رمضان کے مہینے کو مبارک مہینہ اس لئے کہا گیا ہے کہ اس کے اندر بھلائیاں نشوونما پاتی ہیں اور نیکیوں کو افزونی نصیب ہوتی ہے۔ اس کے برعکس برائیاں بڑھنے کے بجائے سکڑتی چلی جاتی ہیں اور ان کی ترقی رک جاتی ہے۔ ماہ رمضان کے بزرگ بابرکت ہونے کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ اس کے دنوں‘ گھنٹوں یا منٹوں میں فی نفسہ کوئی ایسی برکت شامل ہے جو لوگوں کو خود بخود حاصل ہو جاتی ہے‘ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس مہینے میں اللہ تعالیٰ تمہارے لئے ایسے مواقع پیدا کر دیتا ہے۔ جن کی بدولت تم اس کی بے حد وحساب برکات سے فائدہ اٹھا سکتے ہو۔ اس مہینے میں ایک آدمی اللہ تعالی کی جتنی زیادہ عبادت کرے گا اور نیکیوں کے جتنے زیادہ کام کرے گا‘ وہ سب اس کے لئے زیادہ سے زیادہ روحانی ترقی کا وسیلہ بنیں گے۔ اس لئے اس مہینے کے بزرگ اور بابرکت ہونے کا مطلب درحقیقت یہ ہے کہ اس کے اندر تمہارے لئے برکتیں سمیٹنے کے بے شمار مواقع فراہم کر دئیے گئے ہیں۔
رمضان میں فیاضی
حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ کا طریقہ یہ تھا کہ جب رمضان آتا تھا تو آپ ہر اسیر کو رہا کر دیتے تھے اور ہر سائل کو کچھ نہ کچھ دیتے تھے۔ (بیہقی)
رسول اللہ کی شفقت‘ رحم دلی‘ نرمی‘ عطا‘ بخشش اور فیاضی کا جو حال عام دنوں میں تھا وہ تو تھا ہی‘ کہ یہ چیزیں آپ کے اخلاقِ کریمانہ کا حصہ تھیں‘ لیکن رمضان المبارک میں خاص طور پر ان میں اضافہ ہو جاتا تھا۔ اس زمانے میں چونکہ آپ معمول میں کہیں زیادہ گہرائی سے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتے اور اللہ کے ساتھ آپ کی محبت میں شدت آجاتی تھی‘ اس لئے آپ کی نیکیاں بھی عام دنوں کی بہ نسبت کہیں زیادہ بڑھ جاتی تھیں۔ جیساکہ خود حضور کا ارشاد ہے کہ عام دنوں میں فرض ادا کرنے کا جو ثواب ملتا ہے‘ وہ رمضان میں نفل ادا کرنے پر ملتا ہے۔ اس لئے آپ رمضان کے زمانے میں بہت کثرت سے نیکیاں کرتے تھے۔ یہاں حضور کے عمل میں دو چیزیں مثال کے طور پر بیان کی گئی ہیں۔ اسیروں کو رہا کرنا اور مانگنے والوں کو دینا۔
رسول اللہ کے اس عمل کے بارے میں کہ آپ رمضان میں ہر قیدی کو رہا کر دیتے تھے‘ محدثین کے درمیان بحثیں پیدا ہوئی ہیں۔ مثلاً ایک سوال یہ پیدا ہوا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی جرم کی پاداش میں قید ہے تو اس کو محض رمضان کے مہینے کی وجہ سے رہا کر دینا یا سزا نہ دینا کس طرح انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہو سکتا ہے؟ اس بنا پر اس قول کی مختلف توجیہات کی گئی ہیں۔ بعض محدثین کے نزدیک اس سے مراد جنگی قیدی ہیں۔ بعض کے نزدیک اس سے مراد وہ لوگ ہو سکتے ہیں جو اپنے ذمے کا قرض ادا نہ کر سکنے کی وجہ سے ماخوذ ہوں۔
نبی ان کی طرف سے ان کا قرض ادا کرکے ان کو آزاد کر دیتے تھے۔ اس طرح کی بعض دوسری توجیہات بھی اس قول سے متعلق کی گئی ہیں۔ اگر غور کیا جائے تو اس کی ایک اور شکل بھی ہو سکتی ہے‘ مثلاً آج کل کے زمانے میں ایک طریقہ پیرول پر رہا کرنے کا ہے‘ یعنی قیدی کو قول لے کر رہا کر دینا۔ قیدی کو اس امید پر رہا کر دیا جاتا ہے وہ رہائی کی مدت ختم ہونے کے بعد خود واپس آجائے گا۔ وہ معاشرہ ایسا تھا کہ اس میں اس بات کا اندیشہ نہیں تھا کہ جس قیدی کو رہا کیا جا رہا ہے‘ وہ یہ خیال کرکے کہ اب مجھے کون پکڑتا ہے‘ کسی ایسی جگہ فرار ہو جائے گا‘ جہاں سے اس کو پکڑنا ممکن نہ رہے گا۔ وہ تو ایسے لوگ تھے کہ اگر ان سے کوئی قصور سرزد ہو جاتا تھا تو خود آکر اس کا اعتراف کرتے تھے تاکہ ان کو سزا دے کر پاک کر دیا جائے۔ اس لئے ہو سکتا ہے کہ نبی کے مذکورہ عمل کی یہ شکل رہی ہو کہ حضور ایسے لوگوں کو‘ جن کی سزا معاف نہ ہو سکتی تھی‘ رمضان کے زمانے میں مشروط طور پر رہا کر دیتے ہوں تاکہ وہ رمضان کا مبارک زمانہ اپنے گھروں پر گزاریں۔ واللہ علم بالصواب
روزہ اور قرآن
حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: روزہ اور قرآن بندے کی شفاعت کرتے ہیں۔ روزہ کہتا ہے کہ اے رب! میں نے اس کو دن بھر کھانے (پینے) اور شہوات سے روکے رکھا‘ تو میری سفارش اس کے حق میں قبول فرما‘ اور قرآن کہتا ہے کہ (اے رب!) میں نے اسے رات کو سونے سے روکے رکھا‘ تو اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما‘ پس دونوں کی شفاعت قبول فرما لی جائے گی (بیہقی)
اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ روزہ اور قرآن کوئی جان دار ہیں‘ جو کھڑے ہو کر یہ بات کہتے ہیں بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ ایک روزہ دار کا روزہ رکھنا اور قرآن پڑھنے والے کا قرآن پڑھنا دراصل خود اپنے اندر ایک شفاعت رکھتا ہے۔ جب روزہ دار اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے کہ اس بندے نے روزہ رکھا تو اس پیشی کے ساتھ ساتھ روزے کی یہ شفاعت بھی موجود ہوتی ہے کہ یہ بندہ آپ کی خاطر دن بھر بھوکا پیاسا رہا۔ یہ چھپ کر کھا پی سکتا تھا اور دوسری خواہشات بھی پوری کر سکتا تھا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ اس بندے نے چونکہ آپ کی خاطر دن بھر بھوک پیاس برداشت کی ہے اور اپنی دوسری خواہشات پر بھی پابندیاں عائد کئے رکھی ہیں‘ اس لئے اس کے قصور معاف فرما دیجئے۔
اسی طرح ایک شخص رات کو جو قرآن مجید پڑھتا ہے‘ جب وہ قرآن اللہ کے حضور پیش کیا جاتا ہے کہ آج اس بندے نے اتنا قرآن پڑھا ہے تو قرآن کا وہ پیش کیا جانا ہی خود اپنے اندر ایک شفاعت رکھتا ہے، اور وہ شفاعت یہ ہے کہ اس بندے نے دن بھر کے روزے سے تھکا ماندہ ہونے کے باوجود آپ کی رضا جوئی کی خاطر رات کو (نماز میں) کھڑے ہو کر قرآن پڑھا‘ اس لئے اس کے گناہ معاف کر دئیے جائیں۔
نبی کریم نے فرمایا: ”اور یہ وہ مہینہ ہے جس کے آغاز میں رحمت ہے‘ وسط میں مغفرت ہے اور آخر میں دوزخ سے رہائی ہے“ (البیہقی)۔ گویا ادھر اس مبارک مہینے کی آمد پر آپ روزہ رکھنا شروع کرتے ہیں ادھر اللہ کی رحمت آپ پر سایہ فگن ہو جاتی ہیں۔ پھر رمضان کے وسط تک پہنچتے پہنچتے اللہ تعالیٰ آپ کے قصوروں سے درگزر فرما لیتا ہے اور آپ کی مغفرت ہو جاتی ہے۔ اس طرح جب آپ رمضان کے آخر تک پہنچتے ہیں تو ادھر آپ آخری روزہ رکھتے ہیں‘ ادھر آپ کو دوزخ کے خطرے سے آزادی حاصل ہو جاتی ہے۔
امت کی مغفرت
ایک مقام پر حضور نے یہ ارشاد فرمایا: ”رمضان کی آخری رات میں میری امت کی مغفرت ہو جاتی ہے۔“ امت کی مغفرت ہو جانے کا یہ مطلب نہیں کہ ان لوگوں کی بھی مغفرت ہو جاتی ہے جو نہ روزے رکھیں اور نہ دوسرے احکام کی پیروی کریں بلکہ یہ مغفرت امت کے ان لوگوں کی ہوتی ہے جو روزے رکھتے ہیں اور احکام خداوندی کی پیروی کرتے ہیں۔ اس زمانے میں یہ بات قابل تصور ہی نہ تھی کہ کوئی شخص رسول اللہ کی امت میں بھی ہو اور پھر روزہ نہ رکھے۔ اس وقت پوری کی پوری امت روزہ رکھتی تھی۔ رمضان کا سارا زمانہ خدا کی عبادت میں گزارتی تھی۔ ہر طرح کی برائیوں سے بچتی تھی اور عام دنوں سے بڑھ کر نیکیاں کرتی تھی۔ اس لئے یہاں اس امت کی مغفرت کا ذکر کیا گیا ہے ورنہ اس سے مراد وہ لوگ کیسے ہو سکتے ہیں کہ جب رمضان آتا ہے تو ان کی بے راہ روی اور سرکشی میں کچھ اور بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ روزہ رکھنا تو ایک طرف رہا الٹ برسرعام بے تکلفی سے کھاتے پیتے ہیں۔ رمضان کی آخری رات کو ایسے لوگوں کی مغفرت ہونے کا کیا سوال پیدا ہوتا ہے بلکہ اس رات شاید ان کے خلاف مقدمہ فوج داری (Prosecution Case) مکمل ہو جاتا ہو گا۔
قیام اللیل اور تراویح
حضرت زید بن ثابتؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے مسجد میں کھجور کے پتوں کی چٹائی سے ایک حجرہ بنوایا۔ کئی راتوں تک اس میں نماز پڑھی یہاں تک کہ بہت سے لوگ آپ کے پیچھے جمع ہو گئے۔ پھر ایک رات لوگوں نے حضور کی آواز نہ سنی۔ انہوں نے گمان کیا کہ حضور سو گئے ہیں۔ بعض نے کھنکارنا شروع کیا کہ آپ حجرے سے نکل کر ان کی طرف تشریف لے آئیں۔ آنحضور نے باہر آکر فرمایا: مجھے تمہاری کیفیت معلوم ہے۔ مجھے یہ خوف ہوا کہ کہیں تم پر یہ نماز فرض نہ کر دی جائے اور اگر یہ چیز تم پر فرض ہو جاتی تو تم اس کو ادا نہ کر پاتے۔ اے لوگو! اس کو اپنے گھروں میں پڑھو۔ آدمی کی بہترین نماز اس کے گھر کی ہے‘ ماسوائے فرض نمازوں کے“۔ (متفق علیہ)
حضرت جابرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجد میں نماز پڑھے تو اپنی نماز میں سے کچھ حصہ گھر کیلئے بھی رکھ لے۔ اس نماز کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس گھر میں بھلائی کر دے گا۔“ (مسلم)
حضرت ابو ذرغفاریؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ کے ساتھ روزہ رکھا۔ آپ نے تراویح میں ہمارے ساتھ قیام نہ کیا‘ یہاں تک کہ صرف سات دن رہ گئے۔ 24 رمضان کی رات کو حضور نے ہمارے ساتھ قیام کیا‘ یہاں تک کہ تہائی رات گزر گئی۔ جب چھ راتیں باقی رہ گئیں تو آپ نے پھر ہمارے ساتھ قیام نہ کیا۔ جب پانچ راتیں رہ گئیں تو حضور نے پھر قیام فرمایا یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کاش آپ اس سے زیادہ قیام فرماتے۔ آپ نے فرمایا: آدمی جس وقت امام کے ساتھ نماز پڑھتا ہے یہاں تک کہ فارغ ہو جاتا ہے تو اس کیلئے ساری رات کا قیام لکھا جاتا ہے۔ جب چار راتیں باقی رہ گئیں تو آپ نے پھر ہمارے ساتھ قیام نہ کیا۔ جب تین راتیں باقی رہ گئیں تو آپ نے اپنے گھر والوں کو جمع کیا اور اپنی عورتوں کو اور لوگوں کو بھی جمع کیا اور ہمارے ساتھ کھڑے ہوئے۔ اس موقع پر ہمیں فلاح کے فوت ہو جانے کا خطرہ ہوا (یعنی سحری کھانے سے رہ جانے کا خوف ہوا) پھر بقیہ راتوں میں قیام نہیں کیا“۔
(ابو دا¶د‘ ترمذی‘ نسائی‘ ابن ماجہ)
حضور اکرم نے باقی دن جو تراویح نہیں پڑھائی تو اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تراویح فرض نہیں بلکہ سنت ہے۔ حضور نے لوگوں کو جمع بھی کیا اور نہیں بھی کیا۔ لوگوں کو ازخود جمع ہو جانے سے روکا بھی نہیں‘ تراویح پڑھائی بھی ہے اور نہیں بھی۔ اس طرح آنحضور نے اپنے عمل سے یہ بتا دیا کہ فرض‘ واجب، سنت اور نفل کیا ہیں۔ تراویح نفل ہے جس پر آنحضور نے خود عمل کیا ہے مگر اس کو لازم نہیں کیا۔
معتکف کی نیکیاں
حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے معتکف (اعتکاف کرنے والا) کے بارے میں فرمایا: اعتکاف کرنے والا چونکہ (اعتکاف کے زمانے میں) گناہوں سے رکا رہتا ہے‘ اس لئے اس کے حق میں وہ تمام نیکیاں لکھی جاتی ہیں جو تمام نیکیوں پر عمل پیرا ہو۔ (ابن ماجہ)
اعتکاف کرنے والا اعتکاف کی وجہ سے رکا ہوا تو گناہوں سے ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کا معاملہ اس کے ساتھ یہ ہے کہ اس کے حق میں وہ تمام نیکیاں بھی لکھی جاتی ہیں جو اس دوران میں وہ مسجد سے باہر ہونے کی صورت میں کرتا.... یعنی یہ بات تو نہیں لکھی جاتی کہ اگر وہ مسجد سے باہر رہتا تو یہ بدی کرتا‘ لیکن یہ لکھا جاتا ہے کہ اگر وہ باہر رہتا تو یہ نیکی کرتا۔
قرآن اور لیلة القدر
اس مہینے میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے۔ اس سے مراد لیلة القدر ہے یعنی وہ رات جس میں قرآن مجید نازل ہوا۔ جیساکہ خود قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے:
ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل کیا ہے اور تم کیا جانو کہ شب قدر کیا ہے۔ شب قدر ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید کا نزول انسانیت کیلئے عظیم الشان خیر کی حیثیت رکھتا ہے اور انسان کیلئے اس سے بڑی کوئی خیر نہیں ہو سکتی۔ اس لئے فرمایا گیا کہ وہ رات جس میں یہ قرآن مجید نازل ہوا ہے‘ ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے۔ دوسرے لفظوں میں پوری انسانی تاریخ میں کبھی ہزار مہینوں میں بھی انسانیت کی بھلائی کیلئے وہ کام نہیں ہوا ہے‘ جو اس ایک رات میں ہوا ہے۔ ہزار مہینوں کے لفظ کو گنے ہوئے ہزار نہ سمجھنا چاہئے بلکہ اس سے بہت بڑی کثرت مراد ہے۔ چنانچہ اس رات میں‘ جو اپنی بھلائی کے لحاظ سے ہزار مہینوں سے بھی افضل ہے‘ جس آدمی نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی اور اس سے لو لگائی‘ اس نے بہت بڑی بھلائی حاصل کر لی کیونکہ اس رات میں بندے کا اللہ کی طرف رجوع کرنا یہی معنی تو رکھتا ہے کہ اسے اس رات کی اہمیت کا پورا پورا احساس ہے‘ اور وہ یہ جانتا ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے نبی نوع انسان پر یہ کتنا بڑا احسان کیا ہے کہ اپنا کلام نازل فرمایا۔ اس لئے جس آدمی نے اس رات میں عبادت کا اہتمام کیا‘ گویا اس نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور اپنے عمل سے یہ ثابت کیا کہ اس کے دل میں قرآن مجید کی صحیح قدر و قیمت کا احساس موجود ہے۔
لیلة القدر کی تلاش
اس مقام پر یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ لیلة القدر کے متعلق یہ وضاحت نہیں کی گئی ہے کہ وہ کونسی رات ہے۔ نبی نے جو کچھ بتایا ہے وہ بس یہ ہے کہ وہ رات رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں آتی ہے یعنی وہ رات اکیسویں ہو سکتی ہے بائیسویں نہیں‘ تئیسویں ہو سکتی ہے چوبیسویں نہیں‘ وعلیٰ ہذا القیاس‘ وہ آخری عشرے کی طاق رات ہے۔ یہ فرمانے کے بعد اس بات کو بغیر تعین کے چھوڑ دیا گیا کہ وہ کونسی رات ہے۔ عام طور پر لوگ ستائیسویں رمضان کے بارے میں یہ خیال رکھتے ہیں کہ وہ لیلة القدر ہے لیکن یہ بات قطعیت کے ساتھ نہیں کہی جا سکتی کہ رمضان کی ستائیسویں شب ہی لیلة القدر ہے۔ البتہ جو بات تعین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے وہ فقط یہ ہے کہ وہ آخری عشرے کی کوئی طاق رات ہے۔
لیلة القدر کا قطعی طور پر تعین نہ کرنے میں یہ حکمت کارفرما نظر آتی ہے کہ آدمی ہر طاق رات میں اس امید پر اللہ کے حضور کھڑا ہو کر عبادت کرے کہ شاید یہی لیلة القدر ہو۔ لیلة القدر اگر اس نے پالی تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ جس چیز کا طالب تھا وہ اسے مل گئی۔ اس کے بعد اس نے چند مزید راتیں اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزاریں تو وہ اس کی نیکی میں مزید اضافے کی موجب بنیں گی....
اس مقام پر ایک اور بات بھی ذہن نشین رہنی چاہئے کہ چونکہ ساری دنیا میں رمضان کی تاریخیں ایک نہیں ہوتیں اور ان میں ردوبدل ہوتا رہتا ہے‘ اس لئے یہ بات یقین سے کہنا مشکل ہے کہ کس آدمی کو واقعی وہ اصل رات میسر آگئی ہے۔ اس کے لئے ایک طالب صادق کو ہر رمضان میں اسے تلاش کرنا چاہئے۔
رمضان کا جو آخری عشرہ اعتکاف کیلئے مقرر کیا گیا ہے اس میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ اعتکاف کا ثواب آدمی کو الگ ملے اور چونکہ اعتکاف کی حالت میں اس کی تمام طاق راتیں عبادت میں گزریں گی‘ اس لئے اس بات کی توقع کی جا سکتی ہے کہ اسے ان میں کبھی نہ کبھی وہ رات بھی لازماً مل جائے گی۔
بعض لوگ اپنی جگہ لیلة القدر کی تلاش کے معنی یہ سمجھتے ہیں کہ رات کو باہر نکل کر یہ دیکھا جائے کہ فضا میں کوئی ایسی علامت پائی جاتی ہے جس سے یہ ظاہر ہو کہ یہ قدر کی رات ہے۔ فضا میں کوئی ایسا نور برس رہا ہے جس سے اس کا لیلة القدر ہونا ثابت ہو جائے لیکن دراصل یہ طرز فکر مطابق حقیقت نہیں ہے۔ بے شک یہ نور برستا ہے لیکن یہ نور تو پورے رمضان میں اور رمضان کی ہر رات میں برستا ہے‘ البتہ اس کیلئے وہ آنکھیں چاہئیں جو اس کو دیکھ سکیں۔ یہ نور درحقیقت آپ کی عبادت کے اندر برستا ہے۔ یہ نور خدا کی رضا طلبی کے اندر آپ کے انہماک میں‘ بھلائیوں کیلئے آپ کے ذوق و شوق میں اور عبادت کیلئے آپ کے خلوص و اہتمام میں اور فی الجملہ آپ کے ایک ایک فعل میں برستا ہے۔
بڑی محرومی
نبی کریم نے فرمایا: جو اس رات کی بھلائی سے محروم رہا وہ بس محروم ہی رہ گیا۔ (احمد‘ نسائی) اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایک شخص اس رات میں اللہ کی عبادت کیلئے کھڑا نہیں ہوتا تو گویا اسے قرآن مجید کی اس نعمت عظمیٰ کا احساس ہی نہیں ہے جو اس رات میں اللہ تعالیٰ نے اتاری تھی۔ اگر اسے اس بات کا احساس ہوتا تو وہ ضرور رات کے وقت عبادت کیلئے کھڑا ہوتا اور شکر ادا کرتا کہ اے اللہ! یہ تیرا احسان عظیم ہے کہ تو نے مجھے قرآن جیسی نعمت عطا فرمائی ہے۔ بے شک یہ بھی تیرا احسان ہے کہ تو نے مجھے کھانے کیلئے روٹی اور پہننے کے لئے لباس عنایت فرمایا۔ لیکن تیرا اصل احسان عظیم مجھ پر یہ ہے کہ تو نے مجھے ہدایت دی اور دین حق کی روشنی دکھائی۔ مجھے تاریکیوں میں بھٹکنے سے بچایا اور علم حقیقت کی وہ روشن شمع عطا کی جس کی وجہ سے میں دنیا میں سیدھے راستے پر چل کر اس قابل ہوا کہ تیری خوشنودی حاصل کر سکوں۔ پس جس شخص کو اس نعمت کی قدر و قیمت کا احساس ہو گا وہ اس رات میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کیلئے کھڑا ہو گا اوراس کی بھلائی لوٹ لے جائے گا۔ لیکن جو شخص اس رات میں ادائے شکر کیلئے خدا کے حضور کھڑا نہیں ہوا وہ اس کی بھلائی سے محروم رہ گیا اور درحقیقت ایک بہت بڑی بھلائی سے محروم رہ گیا۔
ہمیشہ کا روزہ
حضرت مسلم قرشیؓ سے روایت ہے کہ میں نے یا کسی اور شخص نے رسول اللہ سے صوم دھر (یعنی ہمیشہ روزہ رکھنے) کے متعلق سوال کیا (کہ اس کا کیا حکم ہے؟)۔ اس کے جواب میں آپ نے فرمایا: تمہارے بال بچوں کا بھی تم پر حق ہے۔ رمضان کے روزے رکھو اس سے ملحقہ مہینے‘ یعنی شوال کے (چھ دنوں کے) روزے رکھو ،اور پھر ہر بدھ اور جمعرات کو بھی روزہ رکھ لیا کرو۔ اس طرح گویا تم ہمیشہ روزہ رکھنے والے شمار ہو گے۔ (ابو دا¶د ترمذی)
معلوم ایسا ہوتا ہے کہ قدیم زمانے میں چونکہ رہبانیت کا بہت زور تھا اس لئے اہل مذاہب میں راہب‘ سنیاسی اور جوگی وغیرہ قسم کے لوگ صوم دھر کو بڑی فضیلت اور اہمیت دیتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ نیک آدمی وہ ہے جو صائم الدھر ہو۔ یہی وجہ ہے کہ حضور سے صوم دھر کے متعلق بکثرت پوچھا گیا ہے اور آپ نے لوگوں کو بکثرت اس کے متعلق احکام بتائے ہیں۔ پیش نظر حدیث کے مطابق جب آپ سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے پوچھنے والے سے فرمایا کہ تمہارے بال بچوں کا بھی تم پر حق ہے یعنی جو شخص صوم دھر ہو وہ بال بچوں کے حقوق ادا نہیں کر سکتا۔ اس سے پہلے ایک حدیث میں تفصیل سے یہ بتایا جا چکا ہے کہ تمہارے نفس کا تم پر حق ہے‘ تمہاری آنکھوں کا اور تمہارے پاس ملاقات کیلئے آنے والوں کا تم پر حق ہے اور صوم دہر کے ساتھ یہ حقوق تم خوش اسلوبی سے ادا نہیں کر سکتے۔ اس طرح گویا حضور نے عبادات کے سلسلے میں انتہا پسندی کا راستہ بند فرما دیا اور ہر ایسے شخص کیلئے جو فرائض سے زائد عبادت کرنا چاہتا ہے ایک اعتدال کا طریقہ مقرر فرما دیا۔