امن کی ضمانت نہیں دے سکتے‘ شریعت محمدی ہتھیار نہیں پھینکیں گے‘ طالبان

مینگورہ (مانیٹرنگ ڈیسک) کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی نے کہا ہے کہ مالاکنڈ ڈویژن میں حکومت نے جن حالات میں دارالقضا کے قیام کا اعلان کیا ان حالات میں قیام امن کی ضمانت نہیں دے سکتے جبکہ کالعدم تحریک طالبان سوات نے کہا ہے کہ قاضی مولانا صوفی محمد کے معیار کے مطابق ہوا تو قبول کرینگے۔ گزشتہ شب صوبائی حکومت سرحد کی جانب سے دارالقضا کے قیام کے اعلان کے بعد ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان حاجی مسلم خان نے کہا کہ دارالقضا کے قیام کا خیر مقدم کرتے ہیں کیونکہ ہم نے اس لئے ہتھیار اٹھائے اور لوگوں نے جانیں دیں۔ البتہ اسے کسی کے ماتحت نہیں ہونا چاہئے جبکہ حکومت نے معاہدے میں اس کے قیام کے ساتھ ہمارے ساتھی قیدیوں کی رہائی بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی نظام کے خاتمے کیلئے امریکی آسکتے ہیں اس لئے ہتھیار رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہتھیار مسلمانوں کا زیور ہے جسے ہم نہیں چھوڑ سکتے۔ کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ صوفی محمد کے ترجمان امیر عزت نے کہا کہ صوفی محمد نے آج تنظیمی اجلاس طلب کر لیا ہے جس میں اس حکومتی اقدام پر غور کیا جائے گا تاہم حکومت کو دارالقضا کے قیام سے قبل سیز فائر کرنا چاہئے تھا۔ ان حالات میں ہم امن کی ضمانت نہیں دے سکتے۔
طالبان