جنوبی وزیرستان: بارودی سرنگ پھٹنے سے 7 اہلکار زخمی، مہمند ایجنسی میں سکول تباہ

سوات/ مہمند ایجنسی (ریڈیونیوز+ثناءنیوز) مہمند ایجنسی میں شدت پسندوں نے ایک اور گرلز سکول دھماکہ خیز مواد لگا کر تباہ کردیا ہے جبکہ سوات اور دیر کے گرینڈ جرگے نے سرحدوں کی حفاظت اور شدت پسندی کیخلاف 5 ہزار افراد کا مسلح لشکر بنا لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز شدت پسندوں نے تحصیل یکہ غنڈ کے علاقہ کادو کور میں گرلز پرائمری سکول کو بارودی دھماکہ کرکے تباہ کیا۔ جس کے بعد انتظامیہ نے ملک عنایت سمیت گیارہ افراد کو گرفتار کرلیا۔ دوسری جانب پولیٹیکل انتظامیہ کی خصوصی ہدایات پر ایجوکیشن افسر نے تحصیل صافی میں تباہ شدہ تعلیمی اداروں کے درجنوں کلاس فور ملازمین کو برطرف کر دیا ہے۔ ادھر دیر اور سوات کے سرحدی علاقے تورمنگ میں گرینڈ جرگے سے خطاب کرتے ہوئے امن لشکر کے سربراہ ملک محمد زیب نے کہا کہ لشکر میں شامل رضا کار اپنے علاقوں کی حفاظت کیلئے تیار ہیں۔ آرمی چیف چاہیں تو یہ لشکر دیر اور سوات کے سرحدی علاقوں کی حفاظت کیلئے سکیورٹی فورسز کی مدد کرسکتا ہے۔ علاوہ ازین جنوبی وزیرستان کی تحصیل سروکئی کے علاقہ لوہا خان سرائے میں سکیورٹی فورسز کے اہلکار روڈ سروے میں مصروف تھے کہ اسی دوران بارودی سرنگ کا دھماکہ ہوگیا، جس سے 7 اہلکار زخمی ہوگئے، جن میں سے 2 کی حالت نازک ہے۔