بینظیر سے ڈیل ہوئی تھی کہ الیکشن سے پہلے واپس نہیں آئیں گی‘ این آر او سب سے بڑی غلطی تھی‘ قوم سے معافی مانگتا ہوں : مشرف

لندن (آصف محمود سے) سابق صدر پرویز مشرف نے اپنی سیاسی جماعت ”آل پاکستان مسلم لیگ“ کے قیام کا باقاعدہ طور پر اعلان کرتے ہوئے اس میں اپنی شمولیت کا اعلان کیا ہے۔ تقریب میں نثار میمن‘ لالہ نثار‘ شیر افگن نیازی‘ میجر جنرل (ر) راشد قریشی اور فواد چودھری شریک تھے۔ کمپیئرنگ نعیم بخاری نے کی۔ سنٹرل لندن کے وائٹ ہال میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملکی تاریخ کے سب سے متنازعہ ڈکٹیٹر نے کہا کہ میرے دور حکومت کے آخری دنوں میں مجھ سے بعض سیاسی غلطیاں ہوئیں میں اپنی ان تمام غلطیوں پر قوم سے معافی مانگتا ہوں جن سے پاکستان اور قوم کو نقصان ہوا۔ انہوں نے کہا کہ این آر او جاری کرنا میری بڑی غلطی تھی یہ سیاسی شراکت داروں کے کہنے پر جاری کیا۔ این آر او جاری کرنے پر قوم سے معافی مانگتا ہوں۔ غلطیاں انسانوں سے ہی ہوتی ہیں ان سے پاک صرف اللہ کی ذات ہے۔ غلطیوں سے بہت کچھ سیکھا توقع ہے آئندہ ایسی غلطیاں نہیں ہونگی میں چاہتا ہوں کہ سیاسی زندگی کا آغاز صاف ستھرے طور پر ہو اور عوام میری حمایت کریں‘ یہ دھرتی آج رو رو کر کہہ رہی ہے کہ مجھے بچاﺅ۔ لوگ پریشان حال ہیں ان کے پاس پیسے نہیں مایوسی اور ناامیدی کی فضا ہے‘ وقت آ گیا ہے کہ ملک کو قائداعظمؒ کے خواب کی تعبیر بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بننے کے فائدے امیروں نے لئے غریب صرف خیرات پر زندہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو سے ڈیل ہوئی تھی کہ وہ الیکشن سے قبل پاکستان نہیں آئیں گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ تیسری بار وزیراعظم بننے پر پابندی ختم کی جائے ان کے کیسز معاف کئے جائیں‘ انہیں وزیراعظم بننے دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ہم نے ذاتی جاگیر بنا رکھا ہے‘ ہم سیاست میں آ چکے ہیں خاندانی سیاست اور اقربا پروری کا خاتمہ کر دیں گے۔ پاکستان میں ایسی کوئی قیادت موجود نہیں جو عوام کو روشنی دکھا سکے۔ مایوسی اور ناامیدی چھائی ہوئی ہے مگر ہم پاکستان کو دوبارہ قائداعظمؒ کا پاکستان بنائیں گے۔ باتوں کا وقت گزر گیا عملی طور پر کچھ کرنے کا وقت ہے‘ پاکستان میں امیر قانون کو اپنے فائدے کیلئے استعمال کرتے ہیں جبکہ قانون کی سب سزائیں غریبوں کیلئے ہیں۔ آزادی کے تمام پھل امیروں جبکہ غریب خیرات پر رہ رہا ہے۔ ان کی جماعت بھوک‘ غربت‘ بیروزگاری اور ناخواندگی کے خلاف جہاد کریگی۔ کچھ عناصر ٹی وی چینلز پر ہمارے خلاف جھوٹا پراپیگنڈہ کرتے ہیں میں خود ان کا جواب دونگا۔ عوام ناخوش ہیں اور اگر عوام ناخوش ہوں تو ملک ختم ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے 9 سالہ دور حکومت میں آخری سال کچھ فیصلے ہوئے جن سے میرے عوام ناخوش ہیں۔ ان فیصلوں کے پیچھے کچھ وجوہات تھیں چند فیصلے ایسے بھی تھے جو سیاسی غلطیاں تھیں اور ان کی وجہ سے قوم کو سیاسی نقصان پہنچا۔ ہم نے اپنے دور حکومت میں امیروں کے دل میں خدا کا خوف ڈالا اور عوام کو بااختیار بنایا لیکن بدقسمتی سے آج پاکستان واپس پیچھے کی طرف جا رہا ہے۔ نیا معاشرتی نظام قائم کریں گے جو تیسری دنیا کے ممالک میں ایک مثال بنے۔ آل انڈیا مسلم لیگ کا جذبہ دوبارہ پیدا کیا جائیگا آل پاکستان مسلم لیگ میں قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ جیسے لوگ پیدا ہونگے۔ آل پاکستان مسلم لیگ کے منشور کا اعلان کرتے ہوئے پرویز مشرف نے خارجہ تعلقات پراپنی پالیسی بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان امن کے ساتھ رہنا چاہتا ہے‘ کسی ایک بھی پاکستانی کو کسی کے حوالے نہیں کرنا چاہئے‘ ڈاکٹر قدیر نے ایٹمی پھیلاﺅ میں کردار ادا کیا تھا۔ ہم بھارت کے ساتھ مکمل امن کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں بین الاقوامی سطح پر روشن خیالی کی پالیسی کو اپنایا جائیگا۔ دنیا بھر کے مسلمانوں کے الجھے ہوئے سیاسی ایشوز سلجھائیں گے۔ انہوں نے خاندانی سیاست کے خاتمے اور مضبوط بلدیاتی نظام قائم کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کوئی قانون قرآن و سنت کے منافی نہیں بن سکتا۔ اسلامی فلاحی ریاست کے فرائض کیا ہیں ہمیں معلوم ہے۔ مرد اور عورت کی معاشرے میں برابری ہونی چاہئے۔ امیر اور غریب طبقے میں فرق ختم کر دیں گے۔ زیادہ صوبوں کا حل عوامی امنگوں سے تلاش کریں گے۔ انہوں نے 50 گھروں سے زیادہ والے گاﺅں میں ہر صورت بجلی پہنچانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن معاشرے کی سب سے بڑی لعنت ہے۔ رشوت خوری کا پوری قوت سے خاتمہ کیا جائیگا۔ ہر کام میرٹ پر کریں گے۔ پاکستان کی ترقی دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے تک ممکن نہیں۔ دہشت گردی کے خلاف اس کے خاتمے تک جنگ جاری رکھیں گے۔ پاکستان کی سالمیت کے خلاف اگر کوئی گروپ آواز اٹھائے گا تو اسے کچل دیا جائیگا۔ القاعدہ ہمارے پہاڑوں میں چھپی ہے۔ اسے کوئی حق نہیں کہ وہ ہمارے علاقے میں رہ کر دہشت گردی کرے‘ انہوں نے کہا کہ بھٹکے ہوئے طالبان سے جنگ کریں گے۔ معیشت ملک میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کی جماعت جی ڈی پی کو 6 فیصد سے اوپر لے کر جائے گی۔ پاکستان حکومت پر بین الاقوامی اعتماد اور بھروسہ پیدا کیا جائے گا تاکہ بین الاقوامی سرمایہ کار پاکستان پر اعتماد کرے۔ پاکستان میں 19500 میگاواٹ بنانے کی صلاحیت ہے لیکن صرف 10000 میگاواٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے۔ قیمتوں کو کنٹرول کرنا سب سے پہلی ذمہ داری ہونی چاہئے‘ غریبوں کو اشیائے ضرورت سستی قیمتوں پر بیت المال یا یوٹیلٹی سٹورز سے دی جائیں۔ وہ میڈیا کی مکمل آزادی پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ وہ ہی تھے جنہوں نے میڈیا کو آزادی دی‘ انہوں نے کہا کہ وہ میڈیا سے نہیں ڈرتے‘ میڈیا سے وہ لوگ ڈرتے ہیں جو کچھ چھپاتے ہیں۔ میڈیا ایمانداری سے رپورٹنگ کرے‘ جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ کہنا ملک کے لئے نقصان دہ ہے۔ تمام محب الوطن پاکستانی آل پاکستان مسلم لیگ میں شامل ہوں۔ انہوں نے تمام سیاسی‘ غیر سیاسی اور خصوصاً نوجوانوں کو جماعت میں شمولیت کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج تربیت یافتہ ہے‘ پاک فوج کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حصہ لینا چاہئے‘ پاکستان کی عدالتوں میں میرے خلاف کوئی مقدمہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضروری نہیں ڈکٹیٹر فوجی وردی ہی میں ہو‘ سویلین بھی بدترین ڈکٹیٹر ہو سکتا ہے۔ صدر‘ وزیراعظم اور آرمی چیف پر چیک اینڈ بیلنس ہونا چاہئے۔ کچھ بھی ہو جائے نیشنل کونسل کی طرز کا سیاسی نظام بنایا جانا چاہئے۔