بابری مسجد کیس کا فیصلہ قانون‘ تاریخ یا عقیدے کی بنیاد پر ہوا؟ بی بی سی

دہلی (بی بی سی اردو) بابری مسجد کے متعصبانہ فیصلے کے حوالے سے بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بنیادی سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ فیصلہ قانون‘ تاریخ یا عقیدے کی بنیاد پر ہوا۔ بھارتی اخبارات نے بھی مقدمہ کے مختلف پہلووں کو اجاگر کیا ہے۔ ہندوستان ٹائمز کی ایک سرخی تھی کہ ”فیصلہ حیرت انگیز اور پنچائتی نوعیت کا ہے“۔ ہندوستان ایکسپریس نے سرخی لگائی کہ ”آستھا عقیدے کی جیت ہوئی“۔ سابق وزیر اعلیٰ ملائم سنگھ یادیو نے کہا کہ فیصلہ افسوسناک اور مذہب کی بنیا د پر کیا گیا۔ فلمساز آنند پٹھورن نے کہا کہ ”ہندو شریعت کا فیصلہ ہے“۔ بی بی سی کے مطابق سپریم کورٹ کے سرکردہ وکیل‘ پرشانت بھوشن‘ راجیو دھون‘ پی پی راو کا کہنا ہے کہ یہ اسی طرح کا فیصلہ ہے جیسے پنچائتیں سناتی ہیں اور مکمل ہندووں کے حق میں ہے۔ انڈین ایکسپریس کی سرخی تھی رام برقرار ایودھیا کی زمین تقسیم کی جائے۔ ایڈووکیٹ یوسف مچھالا‘ صحافی خلیل زاہد اور سونے کے تاجر شری پال جین کا کہنا ہے کہ مسلمانوں سے دھوکہ ہوا۔