بلوچستان : بم دھماکے جھڑپوں میں دو سیکورٹی اہلکار شہید تین دہشت گرد ہلاک‘ تحصیل خار میں کمانڈر کا گھر بم سے تباہ کر دیا گیا

سبی+ ڈیرہ مراد جمالی+ قلعہ سیف اللہ+ کوئٹہ (نوائے وقت نیوز + وقت نیوز + ایجنسیاں) بلوچستان کے مختلف شہروں میں بم دھماکے اور جھڑپوں کے دوران 2 سکیورٹی اہلکار شہید 4 زخمی ہوگئے جبکہ 3 دہشت گرد مارے گئے۔ تفصیلات کے مطابق سبی چاکر روڈ پر نصب بم دھماکے کے نتیجے میں ایک سکیورٹی اہلکار شہید جبکہ 3 اہلکاروں سمیت 4 افراد زخمی ہوگئے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق نامعلوم افراد نے چاکر روڈ پر ایک درخت کے اوپر بم نصب کررکھا تھا۔ ایف سی کی گاڑی درخت کے نیچے سے گزری تو بم کا زوردار دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں ایک سکیورٹی اہلکار محمد لقمان شہید ہوگیا جبکہ نائیک مجیب اللہ سپاہی محبوب علی، زاہد حسین اور سویلین محمد بشیر زخمی ہوگئے جن کو فوری طور پر سی ایم ایچ منتقل کردیا گیا۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنیوالے ادار ے موقع پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ پولیس کے مطابق دھماکہ ریموٹ کنٹرول تھا۔ دھماکے سے قریبی گھروں اور دکانوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ ادھر قلعہ سیف اللہ میں ایف سی کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ایک دہشت گرد مارا گیا۔ علاوہ ازیں ضلع لورالائی میں نامعلوم مسلح افراد نے لیویز تھانے پر حملہ کردیا اور اہلکاروں سے سرکاری اسلحہ چھین کر فرار ہوگئے۔ لیویز ذرائع کے مطابق لورالائی کے علاقے میختر کے قریب لیویز تھانے پر نامعلوم مسلح افراد نے اچانک حملہ کردیا۔ فائرنگ کے تبادلے کے دوران کالعدم تحریکی طالبان سے تعلق رکھنے والا ایک دہشت گرد ہلاک ہوگیا، دہشت گردوں نے تھانے میں گھس کر اہلکاروں کو یرغمال بنالیا اور انہیں زدوکوب بھی کیا۔ بعد میں ملزمان نے تھانے کو آگ لگا دی اور فرار ہوگئے۔ ادھر ڈیرہ مراد جمالی میں پولیس کی گاڑی پر دہشت گردوں نے فائرنگ کر دی جس سے ایک پولیس اہلکار شہید ہوگیا، پولیس کی جوابی فائرنگ سے ایک حملہ آور ہلاک ہو گیا۔ ادھر کوہلو کے علاقے کاہان میں بھی سکیورٹی فورسز نے سرچ آپریشن کرکے بارودی سرنگیں، اسلحہ، ڈیٹونیٹرز اور دو موٹر سائیکلیں قبضے میں لے لیں۔
2 اہلکار شہید

خیبر ایجنسی/باجوڑ+ پشاور (نیوز ایجنسیاں+ نوائے وقت رپورٹ) خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ کے سکیورٹی انتظامات 5 برس بعد پولیٹیکل انتظامیہ کے سپرد کردی گئی، کئی چیک پوسٹوں پر خاصہ دارفورس کو تعینات کر دیا گیا۔ پولیٹیکل انتظامیہ حکام کے مطابق تحصیل باڑہ میں ستمبر 2009ءسے دہشت گردوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری ہے تاہم باڑہ بازار اور قبیلہ شلوبر سے دہشت گردوں کے خاتمے کے بعد فورسز نے سکیورٹی انتظامات کو پولیٹیکل انتظامیہ کے سپرد کردیا ہے۔ انتظامیہ نے باڑہ بازار اور قبیلہ شلوبر میں خاصہ دار فورس کی نئی چیک پوسٹیں قائم کرکے 5 برس بعد خاصہ دار فورس کو تعینات کیا ہے۔ دوسری جانب پشاور کے علاقہ گلبرگ میں سرچ آپریشن کے دوران 100سے زائد مشتبہ افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔جمعرات کو پولیس کے مطابق تھانہ گلبرگ کی حدود میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ مشترکہ سرچ آپ±ریشن کیاگیا۔ غیر قانونی طور پر پشاور میں مقیم افغان باشندے بھی حراست میں لئے گئے ہیں۔ بنوں میں سرچ آپریشن کے دوران 12 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ ادھر تحصیل خار میں دہشت گرد کمانڈر اسماعیل کا گھر بم سے تباہ کر دیا گیا جبکہ شب قدر میں سرج آپریشن کے دوران 43 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق تحصیل خار کے علاقے پشین میں کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے کمانڈر اسماعیل کے گھر میں د ھماکہ خیز مواد رکھ کر گھر کو اڑا دیا گیا تاہم دھماکہ میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ واضح رہے کہ کمانڈر اسماعیل کالعدم تنظیم کا کمانڈر ہے اور شدت پسند کارروائیوں میں ملوث تھا۔ دوسری جانب پولیس کے چار سدہ کے نواحی علاقے ننگی اور شب قدر میں آپریشن کے دوران 43 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا اور انہیں پوچھ گچھ کے لئے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ ادھر باجوڑ، تحصیل خار کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز اور پولیٹیکل انتظامیہ کا مشترکہ سرچ آپریشن کے دوران تین عسکریت پسندوں کے مکانات مسمار کر دئیے گئے۔ ادھر پولیس نے بدین میں سرچ آپریشن کے دوران 7 افغانوں کو گرفتار کر لیا جبکہ رحیم یار خان میں سرچ آپریشن کے دوران 30 منشیات فروشوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ نوائے وقت رپورٹ کے مطابق ساہیوال پولیس نے سرچ آپریشن کر کے غیر قانونی طور پر مقیم 25 افغانی حراست میں لے لئے۔

سرچ آپریشن