ہمیں اپنے زور بازو سے کشمیر کو آزاد کرانا ہے : مجید نظامی

مظفر آباد (نمائندہ خصوصی) کشمیری عوام گذشتہ 62 سال سے آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور ہمارے ان کے ساتھ دینی اور روحانی رشتے ہیں‘ ہم ان کی جدوجہد سے منہ موڑ کر باعزت طور پر زندہ نہیں رہ سکتے‘ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں مگر عالمی برادری نے اس پر منافقانہ خاموشی اختیار کی ہوئی ہے اس لئے ہمیں اپنے زور بازو سے کام لیتے ہوئے کشمیر کو ہر قیمت پر بھارتی قبضے سے آزاد کرانا چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار آبروئے صحافت اور نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین مجید نظامی نے اپنے ایک تہنیتی پیغام میں کیا جو مظفر آباد آزاد کشمیر میں نظریہ پاکستان فورم کے قیام کے افتتاحی اجلاس میں پڑھ کر سنایا گیا۔ یہ اجلاس الحاج گل زمان قاصد کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ مجید نظامی نے نظریہ پاکستان فورم کے نومنتخب عہدیداران کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر کے دارالحکومت میں نظریہ پاکستان فورم کا قیام تکمیل پاکستان کی جدوجہد میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کی بدولت اس علاقے میں پاکستان کے اساسی نظریے کو اور زیادہ فروغ حاصل ہو گا۔ مجید نظامی نے اپنے پیغام میں کہا کہ بھارت نے اپنی بحری افواج میں جدید ترین ایٹمی آبدوز شامل کر کے پاکستان کے حوالے سے اپنے مکروہ عزائم کا اظہار کر دیا ہے اور پاکستان کا نام نہاد دوست امریکہ بھی ہمارے ازلی و ابدی دشمن کی کھلم کھلا پشت پناہی پر اتر آیا ہے لہٰذا ہمارے حکمرانوں اور طبقہ اشرافیہ کو نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہئے اور اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے تمام ضروری اقدامات اٹھانے چاہئیں‘ چاہے اس پر امریکہ کتنا ہی ناخوش کیوں نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کو بھارت کو صاف صاف الفاظ میں بتا دینا چاہئے کہ اگر اس نے کشمیر پر اپنا غاصبانہ قبضہ نہ چھوڑا اور کشمیر سے پاکستان کی طرف آنے والے دریاؤں پر ڈیم تعمیر کرنے کا سلسلہ ترک نہ کیا تو ہمارے ایٹم بم اور میزائل اس کے خلاف استعمال ہونے کے لئے بالکل تیار ہیں‘ ایٹم بم اور میزائل اس لئے نہیں ہوتے کہ ان کی پوجا کی جائے یا انہیں شوکیس میں سجا کر رکھ دیا جائے بلکہ اس لئے ہوتے ہیں کہ ان کے ذریعے ہم اپنی سلامتی کا تحفظ کریں۔ مجید نظامی نے اپنے پیغام میں انتباہ کیا ہے کہ بھارت پاکستان کو آئندہ دس پندرہ سالوں میں ریگستان میں تبدیل کرنے کے ایک مذموم منصوبے پر عمل پیرا ہے جسے بھارت کی پاکستان کے خلاف آبی جارحیت سے تعبیر کیا جائے تو بے جا نہ ہوگا‘ وہ پاکستان کے باقی ماندہ دریاؤں چناب‘ جہلم اور سندھ کے پانیوں پر مکمل قبضہ کرنے کے لئے ہائیڈل پاور پروجیکٹس کی آڑ میں 62 سے زائد ڈیم تعمیر کر رہا ہے۔ علاوہ ازیں بھارت نے دریائے سندھ کا رخ موڑنے کے لئے بھی ایک بہت بڑے منصوبے پر کام شروع کر دیا ہے جس کے بعد ایک قطرہ پانی بھی پاکستان کی سرزمین میں داخل نہیں ہو سکے گا۔ انہوں نے کہا مجھے یقین ہے کہ مستقبل میں پاکستان اور بھارت کے درمیان اگر کوئی جنگ ہوئی تو وہ پانی کے مسئلے پر ہی ہو گی اسی لئے قائداعظمؒ نے 62 سال قبل کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا اور آج کے حالات نے ثابت کر دکھایا ہے کہ کشمیر واقعی ہماری شہ رگ ہے جسے دبانے کے لئے بھارت ہمارے خلاف نت نئے حربے استعمال کر رہا ہے‘ کوئی قوم اپنی شہ رگ کو دشمن کے حوالے کر کے زندہ نہیں رہ سکتی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ کشمیری پاکستان کی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں اس لئے انہیں حق خودارادیت دلانے کے لئے ان کی مادی و اخلاقی مدد کرنا ہم پاکستانیوں پر واجب ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستانی قوم نے ہر آزمائش میں کشمیری عوام کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔ اکتوبر 2005ء کے تباہ کن زلزلے کے موقع پر پاکستانیوں نے جس ایثار اور اخوت کا مظاہرہ کیا تھا وہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جا چکا ہے۔ مجید نظامی نے یقین دلایا ہے کہ انشاء اللہ آئندہ بھی کسی مشکل گھڑی میں پاکستانی قوم ہمیشہ کی طرح اپنے کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہو گی۔ مجید نظامی نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ نظریہ پاکستان فورم‘ مظفر آباد کے عہدیداران اور کارکنان اس خطے کی نازک صورتحال کے پیش نظر اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں گے اور کشمیری عوام میں نظریہ پاکستان‘ قائداعظمؒ اور علامہ محمد اقبالؒ کے نظریات و تصورات کے فروغ میں شب و روز کوشاں رہیں گے۔ قبل ازیں اجلاس میں اتفاق رائے سے نظریہ پاکستان فورم مظفر آباد کے عہدیداران کا انتخاب عمل میں لایا گیا جس کے تحت مشتاق احمد جوش صدر‘ خواجہ فاروق احمد قادری سینئر نائب صدر‘ پیر گل مجید خان نائب صدر‘ پروفیسر نعیم عباسی جنرل سیکرٹری‘ الطاف ندیم ڈپٹی سیکرٹری‘ راجہ ظفر حسین خان جائنٹ سیکرٹری‘ عبد الرزاق خان فنانس سیکرٹری‘ علامہ منظور قادری ڈپٹی فنانس سیکرٹری منتخب ہوئے جبکہ اتفاق رائے سے الحاج گل زمان قاصد سرپرست اعلیٰ اور سلیم پروانہ کو چیف آرگنائزر منتخب کیا گیا۔ اس موقع پر الحاج گل زمان قاصد نے حاضرین سے قومی عہد کے تحت حلف لیا۔ اجلاس میں نیشنل ہیڈ کوارٹرز لاہور سے نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ سلیم پروانہ نے نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے اغراض و مقاصد‘ خدمات پر روشنی ڈالی اور مجید نظامی سالار صحافت پاکستان کی مسئلہ کشمیر‘ متاثرین زلزلہ و بھارتی فائرنگ کے حوالہ سے خدمات و کردار پر روشنی ڈالی۔ اجلاس میں مرزا مظفر بیگ‘ نذیر احمد ملک‘ غازی گلزار بٹ‘ آفتاب درانی‘ امین احمد بٹ‘ عبد اللطیف کاشمیری‘ محفوظ انقلابی‘ قاضی منظور الحسن‘ نصیر اعوان‘ خورشید چودھری‘ اکبر مغل‘ سفیر رضا‘ اظہر اقبال میر‘ نعیم بزمی‘ عبد الرحیم عباسی‘ انصر محمود‘ حاجی لطیف اعوان‘ سرفراز میر‘ اشتیاق میر‘ راشد مغل‘ اعجاز کاظمی‘ سید ممتاز حسین نقوی اور دیگر کو ایگزیکٹو کونسل اور عہدیداروں سمیت بنیادی ممبر ہونے کا درجہ اور اعزاز حاصل ہوا۔ الحاج گل زمان قاصد‘ مشتاق جوش‘ پروفیسر نعیم عباسی‘ عبد الرزاق خان‘ خواجہ فاروق قادری‘ پیر گل مجید‘ الطاف ندیم‘ راجہ ظفر حسین خان‘ منظور قادری نے کہا کہ نظریہ پاکستان کے فروغ اور پیغام کو گھر گھر پہنچایا جائے گا۔ تقریب کے میزبان سلیم پروانہ تھے۔ الحاج گل زمان قاصد نے نومنتخب عہدیداروں سے حلف لیا اور مبارکباد دی۔