راجہ نادر پرویز نے مسلم لیگ ن چھوڑ دی، اعلان کرتے ہوئے آبدیدہ

فیصل آباد (نمائندہ خصوصی) ممتاز مسلم لیگی رہنما اور سابق وفاقی وزیر راجہ نادر پرویز خان نے مسلم لیگ (ن) سے اپنی سیاسی وابستگی ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے او ر کہا کہ انہیں موجودہ سیاسی رنگ اور پس منظر میں مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نوازشریف اپنی ہی جماعت کے اندر بے بس نظر آتے ہیں۔ سیاسی لٹیروں، چوروں، لینڈ مافیا اور پراپرٹی ڈیلر بنے سیاست دانوں کے خلاف جہاد کا اعلان کرتا ہوں انہیں فیصل آباد سمیت ملک بھر میں جہاں جہاں ممکن ہو سکا بے نقاب کر کے کیفر کردار تک پہنچانے کی پوری کوشش کروں گا۔ اگر مسلم لیگ (ن) نے ایسی لینڈ مافیا اور پراپرٹی ڈیلروں کو اپنی صفوں سے باہر نہ نکال پھینکا تو ان کو خطرناک نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ چودھری نثار مسلم لیگ (ن) کے اندر میر جعفر، میر صادق کا کردار ادا کر کے پارٹی کو بہت نقصان پہنچا چکے ہیں اور مزید پہنچا رہے ہیں۔ جاوید ہاشمی جیسا دبنگ اور نظریاتی لیڈر ان کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) چھوڑنے پر مجبور ہو گیا اور ان کے بعد میں مسلم لیگ (ن) سے جا رہا ہوں۔ چودھری نثار کو مبارک ہو مگر وہ افسوس بھی کریں کہ میں سیاست نہیں چھوڑ رہا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کے ہمراہ ان کے صاحبزادے رضا نادر، حسن نادر، پولیٹیکل سیکرٹری اکرم بابر اور سابق تحصیل ناظم صدر مصباح الدین ضیغم کے علاوہ درجنوں مسلم لیگی کارکن بھی موجود تھے۔ راجہ نادر پرویز نے کہا کہ وہ اپنی 27 سالہ اور اپنے خاندان کی مسلم لیگ سے 70 سالہ وابستگی کے باوجود مسلم لیگ (ن) سے تعلق ختم کر رہے ہیں مگر کسی بھی سیاسی جماعت کو جوائن نہیں کر رہے۔ انہوں نے کہا کہ 1985ءسے لے کر آج تک میں نے اپنی سیاست میں ایک روپے کی جائیداد اور کاروبار کا، فیکٹریوں کا اضافہ نہیں کیا۔ میرے اثاثے 1985ءسے لے کر آج تک چیک کئے جا سکتے ہیں اگر ذرا سا بھی اضافہ نکلا تو میں ہمیشہ کے لئے سیاست کو خیرباد کہہ دوں گا۔ مسلم لیگ(ن) کے لئے بے شمار قربانیوں اور خدمات کے باوجود مجھے مسلسل نظرانداز کیا جا رہا تھا اور مشرف دور میں (ق) لیگ کی طرف سے بار بار گھر آ کر آفروں کو ٹھکرا دیتا رہا کہ لوٹا نہیں بن سکتا، ضمیر فروشی نہیں کر سکتا۔ اس کے باوجود 2008ءکے عام انتخابات کے لئے جب کہ پارلیمانی بورڈ کے اجلاس میں خود شہباز شریف نے بتایا کہ حلقہ این اے 85 کے لئے میری ٹکٹ کنفرم ہے مجھے ٹکٹ نہیں دیا گیا۔ اس مرتبہ میاں محمد نوازشریف نے بلایا تھا اور انہیں ملاقات میں بتایا کہ اگر حلقہ این اے 85 سے اکرم انصاری کو وہ این اے 82 میں لے جائیں تو انصاریوں کے 22 سے 25 ہزار ووٹوں کی بناءپر وہ قومی اسمبلی کے دونوں حلقہ این اے 82 اور مجھے این اے 85 میں لے جانے کی بدولت پر مسلم لیگ (ن) کی کامیابی کو یقینی بنا سکتے ہیں مگر وہ لوگ جو 1985ءسے میری طرف سے سیاسی میدان میں قدم رکھنے کو برداشت نہیں کر رہے تھے انہوں نے ایسا نہ ہونے دیا۔ میں نے مسلم لیگ (ن) کی طرف سے اصول اور نظریات کی بنیاد پر قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 81 اور این اے 82 سے ٹکٹ کی آفر کو ٹھکرایا تھا اور وہ لوگ جو گاڑیاں اور کروڑوں روپیہ مانگ کر ٹکٹ دینے کی باتیں کرتے ہیں ان کو گھاس نہیں ڈالی۔ آج مسلم لیگ (ن) میں وہ لوگ آ گئے ہیں جو مشرف کے بھی ساتھی تھے اور زرداری کے بھی ساتھی رہے۔ میں نے مسلم لیگ (ن) اور نوازشریف، شہباز شریف کے لئے مار کھائی، قربانیاں دیں مگر مشکل وقت میں ان کا ساتھ نہ چھوڑا مگر اب جبکہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت قائم ہونے والی ہے نظریات اور اصولوں کی بنا پر مسلم لیگ (ن) سے علیحدگی کا اعلان کر رہا ہوں۔ میں فیصل آباد شہر اور اس کے شہریوں کو بچانے کے لئے ہروقت تیار ہوں اور میدان عمل میں نکل آیا ہوں۔ اس شہر کو چوروں، ڈاکو¶ں، لٹیروں، لینڈ مافیا، سیاست کے خول میں پراپرٹی ڈیلروں اور مسلم لیگ (ن) سمیت تمام جماعتوں کے گاڑیاں اور کروڑوں روپیہ لے کر ٹکٹوں کی فروخت کرنے والوں کے خلاف جدوجہد کا آغاز کریں گے۔ مجھے سابق وفاقی وزیر میاں زاہد سرفراز نے مشرف کا پیغام دیا کہ آل پاکستان مسلم لیگ میں آ جائیں مگر میں نے انکار کیا۔ مشرف اگر میرے بیٹے کی شادی پر آیا تھا تو اس کے علاوہ سابق صدر رفیق تارڑ خود چودھری نثار اور چھ سابق چیف آف آرمی سٹاف بھی میرے بیٹے کے دعوت ولیمہ پر موجود تھے۔ میں نہیں مانتا کہ نوازشریف کی سوچ اس دعوت ولیمہ پر اتنی چھوٹی ہو مگر مفاد پرست ٹولہ اور وہ لوگ جو روز اول سے نہیں چاہتے تھے کہ میں سیاست کروں انہوں نے اپنے تیر چلائے تاہم میں سیاسی جدوجہد جاری رکھوں گا۔ جب نوازشریف جلاوطن تھے تو مسلم لیگ (ن) کو زندہ رکھنے کے لئے ہر ممکن حد تک کام کیا۔ قربانیاں دیں اور جیلیں کاٹیں۔ 2002ءکے انتخابات میں فیصل آباد بھر میں مسلم لیگ (ن) کی مہم چلائی اور پنجاب میں جب صرف مسلم لیگ کے پاس قومی اسمبلی میں 14 نشستیں تھیں فیصل آباد سے جب مسلم لیگ (ن) کا کوئی ٹکٹ نہیں لے رہا تھا مسلم لیگ (ن) کو بھرپور مہم چلا کر چار قومی اسمبلی کی نشستیں دلوائیں۔
راجہ نادر پرویز