کوئٹہ: میٹروپولیٹن کارپوریشن کا بجٹ اجلاس منسوخ ہونے پر اپوزیشن، متحدہ کونسلروں کا احتجاج

کوئٹہ(بیورو رپورٹ)میٹروپولٹین کارپوریشن کا بجٹ اجلاس منسوخ ہونے کے خلاف اپوزیشن اور متحدہ کونسلروں نے میٹرو پولٹین کارپوریشن کی بلڈنگ کے سامنے سڑک پر احتجاجی مظاہرہ کیا یکجہتی کے طورپر پیپلز پارٹی بلوچستان کے صوبائی صدر علی محمد جتک نے بھی مظاہرے میں شرکت کی۔ اپوزیشن کے ارکان نے بجٹ کی کاپیوں کو پھاڑ دیا، مظاہرے میں 43اپوزیشن کے کونسلروں نے شرکت کی۔ تفصیلات کے مطابق میٹرو پولٹین کارپوریشن کا بجٹ 28دسمبر کومیٹرو پولٹین کے اجلاس میں پیش کیا گیا تھا۔ گنتی کے دوران اپوزیشن کے 41، اور حکومتی ارکان کے بھی 41 ووٹ گنتی ہوئے جس پر ڈپٹی میئر اور کنونیئر یونس بلوچ نے اجلاس 30دسمبر تک ملتوی کردیا تھا میئر کوئٹہ ڈاکٹر کلیم اللہ نے ڈپٹی میئر کو خط لکھا کہ خدشہ ہے کہ اجلاس میں خون خرابا ہوسکتا ہے اس لئے اجلاس کو منسوخ کیا جائے بجٹ 2016-17کی منظوری کیلئے ڈویژن کوارڈنیٹر کو بھیج دیا گیا جس کے خلاف اپوزیشن اور متحدہ اپوزیشن نے جمعہ کے روز میٹر پولٹین کارپوریشن کے دفتر کے سامنے سڑک پر احتجاجی مظاہرہ کیا اور بجٹ کی کاپیا ں پھاڑ کر ہوا میں لہرا دیں اور بجٹ کو مسترد کردیا چیئرمین مرزا حسین نے رولنگ دی کہ آج کے اجلاس میں 43کونسلروں نے شرکت کی ہے میئر کوئٹہ کے حکم پر میٹرو پولٹین کارپوریشن کی بلڈنگ میں داخل ہونے کے لئے تمام دروازوں پر تالے لگا دیئے گئے تھے اپوزیشن لیڈر عبدالرحیم کاکڑ نے کہاکہ میئر کوئٹہ اخلاقی طورپر اکثریت کھو چکے ہیں لہٰذا وہ فوری طورپر مستعفی ہوجائیں اور نئے میئر کا انتخاب کیا جائے۔ اگر میئر کے پاس اکثریت ہوتی وہ میٹر وپولٹین کارپوریشن ہال اور دوسرے دفاتر کو تالہ نہ لگاتے۔ ہماری احتجاج جاری رہے گا اگر میئر نے استعفیٰ نہ دیا تو ہم مزید سخت احتجاج کرینگے۔ پیپلز پارٹی بلوچستان کے صوبائی صدر حاجی علی محمد جتک نے احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہمارے سینے حاضر ہے گولیاں چلائیں آپ کے پاس گولیاں ختم ہوجائیگی ہمارے سینے ختم نہیں ہونگے۔ 2018عام انتخابات کا سال ہے، مرکز سمیت چاروں صوبوںمیں پیپلز پارٹی کی حکومت ہوگی۔ میئر کوئٹہ جس قدرکرپشن کر سکتے تھے۔ انہوںنے کرلی ہے اب حساب کا وقت آگیا ہے۔