2018ء میں ناچنے گانے والے فارغ ہو جائیں گے ‘ متنازعہ فیصلے ملک برباد کرتے ہیں: نوازشریف

کوئٹہ(امجد عزیز بھٹی)مسلم لیگ (ن) کے مرکزی صدر اور سابق وزیراعظم میاں محمد نوا زشریف نے کہاہے کہ احتساب کے نام پر نواز شریف سے انتقام لیا جارہا ہے مائنس ون کا جب کوئی بہانہ نہ ملا تب بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کو بنیاد بناکر منتخب وزیراعظم کو نا اہل کردیا جسے عوام پلس کریں وہ مائنس نہیں ہوسکتا جنہوں نے کہاکہ نواز شریف صادق اور امین نہیں رہا وہ خودآمروں کے دور میں پی سی او کے تحت حلف لیتے رہے ہیں آج کوئٹہ اور بلوچستان کی عوام نے بھی اعلان کردیا ہے کہ نواز شریف کو نا اہل کرنے کا فیصلہ نامنظور ہے۔ یہ بات انہوں نے ایوب سٹیڈیم کوئٹہ میں پشتونخواملی عوامی پارٹی کے زیراہتمام خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کی 44ویں برسی کے موقع پر جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ نواز شریف نے کہاکہ چار سال میں کوئی کرپشن سیکنڈل سامنے نہیں آیا ایک روپے کی بھی کرپشن اور لین دین کی ہو تو نواز شریف خود فیصلہ تسلیم کرکے گھرچلا جاتا۔ پہلے پنجاب پھر ایبٹ آباد اور آج کوئٹہ والوں نے بھی نواز شریف کی بے دخلی کو نامنظور کہہ دیا ہے انہوں نے کہاکہ جس طرح 6ہیرے چن کر جے آئی ٹی بنائی گئی اور کس طرح ایک بینچ نے بار بار کبھی دو، کبھی تین اورکبھی پانچ کی اکثریت سے فیصلے سنائے اسکی پاکستان کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے فیصلوں سے ملک تباہ اور برباد ہوتے ہیں اورانتشار پیدا ہوتا ہے اگر ایسے مائنس ون کا سلسلہ چلانا ہے تو اسے کوئی نہیں مانے گا 2018ء میں عوام کو فائنل فیصلہ کرنا ہوگا جسے نہ مارشل لائ،نہ پانچ لوگ تبدیل کرسکتے ہوں اسے صرف عوام تبدیل کرسکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلو چستان کے لوگ کھرے اور سچے ہیں انہوں نے ہر آزمائش میں پورا اتر کر ملک کا پرچم جھکنے نہیں دیا مجھے بلوچستان کے لوگوں پر فخر ہے کہ انہوں نے نفرت کی آگ بھڑکانے والوں کو ناکام کیا دہشت گردی کا مقابلہ کیا ہے میرا سلام ہاتھ اٹھاکرقبول کریں چار سال پہلے بلوچستان کی جو حالت تھی وہ سب کے سامنے ہے لیکن ہماری حکومت کے چار سالوں میں بلوچستان میں مثالی ترقی آئی ہے گوادر سے کوئٹہ کا سفر 24گھنٹے سے کم ہوکرچند گھنٹوں کا رہ گیا ہے۔ یہاں میٹروبس بھی بنائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ کرکٹر خان جو میٹرو بس کو جنگلہ بس کہتا تھا اسکی وجہ سے پشاور پہلے سے بھی زیادہ خراب ہوگیا ہے وہاں جو نیا پاکستان بن رہا تھا وہ نہیں بنااب کرکٹر ویسی ہی جنگلہ بس پشاور میں گزشتہ چار سال سے بنانے کی کوشش کررہا ہے جسے شہباز شریف نے ملتان، لاہور، اسلام آباد پنڈی میں بناکر فعال بھی کردیا ہے اب پاکستان میں بجلی وافر ہوتی جارہی ہے انشاء اللہ جلد زیرو لوڈشیڈنگ ہوگی ہم نے کراچی کو ٹھیک کیا ہے۔ آج پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہورہا ہے ناچنے گانے والے 2018ء میں فارغ ہونگے میں 2018ء کے الیکشن میں دوبارہ آؤں گا۔ میاں نواز شریف نے بلوچستان کے عوام سے سوال کیا کہ میں 2018ء کے الیکشن میں دوبارہ آؤں گا کیا آپ میرا نواب ثناء اللہ زہری اور محمود خان اچکزئی کاساتھ دیں گے جس پر جلسے کے شرکاء نے مثبت جواب دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ جب آپ ہمارا ساتھ دو گے تو پھر ’’ستے خیراں ‘‘یعنی سب ٹھیک ہے۔ خان عبدالصمد خان اچکزئی نے آئین اورقانون کی حکمرانی پر سمجھوتہ نہیں کیا جیلیں کاٹیں، ظلم سہے ہم نے انکے نظریے پر عمل کرکے دکھایا ہے انکا وژن تھا کہ ملک میں آئین وقانون کی بالادستی ہوبلوچستان اور افغانستان ترقی کریں ہم سب بھائیوںکی طرح رہیں ہمارا بھی یہی وژن ہے محمود خان اچکزئی آج اپنے والد کے مشن کی پیروی کر رہے ہیں جس میں نواز شریف کو اپنے شانہ بشانہ پائیں گے ہم قانون کی حکمرانی کو ممکن بنائیں گے ہم زبانی جمع خرچ کرنے کی بجائے عملی اقدامات پرانحصار کرتے ہیں جلد ہی بلوچستان ترقی کا مرکز اور گوادراس شاہراہ پر اہم شہر ہوگا ہم بلوچستان کی پسماندگی کودور کررہے ہیں جو گیس گلستان تک پہنچی تھی اور مجھے نا اہل کردیا گیا اسے چمن تک پہنچانا ہے کچھی کینال منصوبے سے 70ہزار ایکٹر اراضی سیرآب ہوئی ہے جبکہ فیز ٹو میں 1لاکھ 40ہزارایکڑاراضی سیرآب ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ 2018ء میں عوام اپنا فیصلہ سنائے گی اور ہمارے سرخرو کرے گی۔ انہوں نے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام کے ووٹ سے حکومتیں آئیں اور اسی کے ووٹ سے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ کروڑوں عوام کے ووٹ سے وزیراعظم منتخب کیا جاتا ہے جبکہ پانچ لوگ مل کر اسے منصب سے ہٹا دیتے ہیں۔ نواز شریف نے کوئٹہ کی عوام کو بتایا کہ ناچنے گانے والے لوگ 2018 میں فارغ ہوجائیں گے جبکہ سندھ، خیبر پی کے اور پنجاب آپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین و رکن قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ پاکستان 20کروڑ انسانوں کا ملک ہے یہاں پرکوئی کسی پر احسان نہیں کررہا ہم نے فیصلہ کرنا ہے کہ پاکستان اداروں کیلئے ہے یا ادارے پاکستان کیلئے ہیں اگر کوئی فوجی ڈکٹیٹر بنے گا تو قسم کھاتا ہوں کہ ڈکٹیٹرکے خلاف سڑکوں پر ہونگے جو پشتون غیر جمہوری قوتوں کا ساتھ دے گا وہ بے غیرت ہے یہ وطن ہمیں عزیز ہے اور ہم نے اس کیلئے قربانیاں دی ہیں آخر ہم سے کس قسم کی وفاداری چاہتے ہیں اگر نواز شریف وعدہ کریں کہ پارلیمنٹ طاقت کاسرچشمہ ہوگی یہاں آئین اورقانون کی حکمرانی اور عوام کو حقوق ملیں گے تو بلا شرط انکے ساتھ کھڑا ہوں سردارعطاء اللہ مینگل کے پاس میڑھ لیکر جانے اور نواب خیربخش مری مرحوم کے بچوں کو واپس بلانے کیلئے تیار ہوں، پاکستان میں ہر ادارے میں کرپشن ہے لیکن اگر کسی ایک شخص کے خلاف کرپشن کے نام پر انتقام لیا جائے تو یہ کسی صورت قابل قبول نہیں۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ نواز شریف ایسے وقت میں کوئٹہ آئے ہیں جب وہ زیر عتاب ہیں بلوچستان کے عوام نے آج عظیم الشان جلسہ منعقد کرکے پشتونوں اوربلوچوں کا سرفخر سے بلند کردیا۔ ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیلاجارہا ہے ہمیں ملکر ججوں،جرنیلوں،صحافیوں، سیاستدانوں کی گول میز کانفرنس بلانی چاہئے جس میں یہ فیصلہ ہو کہ ماضی میں جو ہوا اسے بھول جائیں اور اب پاکستان کو مضبوط بنائیں اگر خطے سے دہشت گردی دور کرلیں تو طاقت کا سرچشمہ یہاں آجائے گا ہم نہ پاکستان کے مخالف ہیں اور نہ پاکستان کیخلاف لڑنے والے لوگ ہیں جہاں انصاف نہیں ہوگا وہاں تو گھر میں بھی لڑائیاں ہوتی ہیں ہم کسی کو ڈرانا نہیں چاہتے لیکن جب نا انصافیاں ہوں تو ملک ٹوٹتے ہیں۔
نواز شریف