2017ءمیں بھی دہشت گردی، حکمرانوں کی کرپشن بڑے خطرات ہیں : طاہر القادری

لاہور(آن لائن ) ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ پائیدار امن کے قیام کی راہ میں ابھی انتظامی، سیاسی اور مذہبی انتہاپسندانہ روےے حائل ہیں۔ انہوں نے عیسوی سال 2017ءکی آمد پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں انفرادی اور اجتماعی سطح پر ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے اور روےے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے امن پسند عوام کے دامن پر جو انتہا پسندی اور عدم برداشت کا داغ لگایا گیا ہے اسے دھونا ہوگا ۔2017ءمیں بھی سب سے بڑا خطرہ دہشتگردی ،انتہاپسندی اور حکمرانوں کی کرپشن ہوگا، اس حوالے سے عوام کو اپنا سیاسی ،جمہوری کردار ادا کرنا ہوگا۔ حکومتوں اور پارلیمنٹ کا قبلہ صرف عوام درست کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت ،خوشحالی اور ترقی کے اعداد و شمار اور اشاریوں کی اس وقت تک کوئی اہمیت نہیں جب تک عام آدمی کی زندگی میں بہتری نہیں آتی۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی جمہوریت کےلئے خود احتسابی اور شفافیت ناگزیر ہے۔ گورننس کے اعتبار سے 2016ءایک بدترین سال تھا۔بنیادی انسانی حقوق پامال ہوئے ،احتساب اور احتسابی قوانین کا مذاق اڑایا گیا۔ 2016ءمیں بھی شہدائے ماڈل ٹاﺅن کے ورثاءکو انصاف نہ مل سکا۔ پاناما لیکس کے ملزمان کا احتساب ہوانہ نیوز لیکس کے مجرم کیفر کردار کو نہ پہنچ سکے، سانحہ کوئٹہ کمیشن کی سفارشات پر عمل نہیں کیا گیا، قومی ایکشن پلان کو سبوتاژ کیا گیا، یہ 2016ءکی تلخ یادیں ہیں۔
طاہر القادری