آفاقی … تیرا نام تا قیامت زندہ رہے

آفاقی … تیرا نام تا قیامت زندہ رہے

علی سفیان آفاقی اپنے تخلص کی وجہ سے یونیورسل تھے اور رہیں گے۔ شخصیت ایسی کہ پہلی نظر میں لاغر جسم دیکھ کر ایسے محسوس ہوتا کہ ہسپتال سے Discharge ہو کر سیدھے آفس آگئے ہیں۔ ان کی صحت اور ماٹو قائد اعظم سے کافی ملتے تھے یعنی کام کام اور کام۔ ضعیف جسم دیکھ کر کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ آفاقی صاحب اس قدر محنتی اور کام سے اس قدر پیار کرتے تھے۔ بہت کم صحافی ہونگے جنہوں نے اتنا زیادہ اور پرکشش لکھا ان کی تحریریں بوجھ نہیں بلکہ قاری انہیں شوق اور لگن سے پڑھتا تھا۔ وہ اپنے فن میں بے مثال باکمال اور لاجواب تھے۔ جو کچھ بھی لکھا خوب لکھا۔ فیملی کے نہ صرف بانی بلکہ ’’God Father‘‘ تھے۔ اور ہمیشہ رہیں گے ’’فیملی‘‘ ان کی تخلیقی صلاحیتوں کا شاہکار ثابت ہوا۔جس طرح مجید نظامی کی جگہ کوئی پُر نہیں کر سکتا‘ اسی طرح آفاقی بھی بے مثال تھے۔
جب پاکستان کے قیام کا اعلان ہوا۔ تو آفاقی صاحب میرٹھ شہر بھارت میں رہائش پذیر اور بھارتی شہری تھے۔ مگر پاکستان سے ان کی وابستگی والہانہ تھی۔ جس روز پاکستان کا قیام عمل میں آیا اسی دن سے آفاقی کی نظر میں بھارت انہیں دوسرے درجے کا ملک محسوس ہونے لگا۔ لاہور کے بارے میں آفاقی صاحب کا تاثر یہ تھا کہ لاہور مشرق کا پیرس ہے۔ میرٹھ میں آفاقی کے ساتھ لاہور کا ایک لڑکا اقبال پڑھتا تھا۔ اقبال جب چھٹیاں گزار کر واپس میرٹھ گیا تو وہ اپنے ساتھ لاہور کے بارے میں ہزاروں داستانیں لے کر گیا۔ آفاقی کے پوچھنے پر اقبال بتاتا۔ یار آفاقی کیا بتائوں لاہور تو پرستان ہے۔ پرستان۔ نسبت روڈ مال روڈ میکلوڈ روڈ انارکلی، کرشن نگر، ماڈل ٹائون یہ علاقے تو ایسے ہیں کہ پیرس سے بڑھ کر۔ آفاقی اقبال سے لاہور کے بارے میں مزید اشتیاق سے پوچھتا۔ لاہور کی سڑکیں اور بازار کیسے ہیں عمارتیں اور سکول کیسے ہیں۔ باغ اور تاریخی عمارتیں کیسی ہیں۔ اقبال جواب میں آفاقی کو ایسا نقشہ کھینچ کر بتاتا کہ آفاقی لاہور کے نادیدہ عاشق ہو گئے اور آفاقی نے دل میں فیصلہ کر لیا کہ پاکستان جائیں گے اور لاہور ہی میں رہیں گے۔ چاہے ادھر کی دنیا ادھر ہو جائے۔ قیام پاکستان کے اعلان کے بعد لاہور سے آفاقی کی وابستگی اور بھی بڑھ گئی۔ آگے کا حال آفاقی سے اپنی زبانی سنئیے۔جون کی اداس شام کو جب ہم ٹانگے میں لدے بھرے واہگہ سے ماڈل ٹائون پہنچے تو مایوسی ہوئی۔ یہ شہر خوباں فسادات کی آگ میں جھلس کر رہ گیا تھا۔ پھر سوچا کہ فسادات اور حالات نے لاہور کا حلیہ وقتی طور پر بگاڑ دیا ہے۔ تھوڑے دنوں بعد یہ واقعی مشرق کا پیرس بن جائے گا۔ہمارے خوابوں اور خیالوں کا پاکستان خاص طور پر لاہور آج بھی نظروں سے اوجھل ہے۔ البتہ بیانات کے ذریعے بہت سے حکمران لاہور کو ایشیا کا پیرس بنانے کا اعلان کر چکے وعدے بھی کرتے رہے مگر انہوں نے کون سے وعدے پورے کئے ہیں۔ جو لاہور کو پیرس بنانے کا وعدہ پورا کریں گے؟آفاقی صاحب کا روزنامہ نوائے وقت سے تعلق 1950ء سے بنا تھا 1949ء کو جب آفاقی لاہور ماڈل ٹائون آیا تو اکثر گھروں میں نوائے وقت دیکھا۔ اخبار بینی کا شوق رکھنے کی وجہ سے نوائے وقت کا مطالعہ بھی کیا ان دنوں لاہور کے جو اخبارات مشہور تھے ان میں ’’زمیندار‘‘ ’’احسان‘‘ امروز اور مغربی پاکستان شامل ہیں انگریزی اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ قیام پاکستان کے بعد شائع ہونے والا انگریزی اخبار پاکستان ٹائمز لاہور سے شائع ہوتے تھے۔ ’’ڈان‘‘ دہلی سے کراچی منتقل ہو چکا تھا۔ جس کے مدیر وہی الطاف حسین صاحب تھے۔ جو دہلی میں اس کے ایڈیٹر تھے۔نوائے وقت اور حمید نظامی کا نام ایک دوسرے کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوتا تھا۔ نوائے وقت حمید نظامی کی تخلیق تھا پہلے انہوں نے مسلمانوں کے حقوق اور مسائل کی وکالت کرنے کے جذبے سے پندرہ روزہ نوائے وقت جاری کیا تھا اس سے پہلے بھی وہ صحافی تھے اور لاہور میں مسلمانوں کی واحد نیوز ایجنسی ’’اورنیٹ پریس‘‘ کے چیف ایڈیٹر تھے۔ حمید نظامی نے امتیاز کے ساتھ MA کیا تھا۔ اس زمانے میں یہ بہت بڑی ڈگری تھی۔ وہ چاہتے تو بڑی سے بڑی سرکاری ملازمت حاصل کر سکتے تھے۔ لیکن صحافت ان کا مشن اور زندگی کا مقصد تھا۔
علی سفیان آفاقی نے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز 1951ء تسنیم سے کیا۔ پھر چٹان سے نوائے وقت اور نوائے وقت سے آفاق میں۔ آفاق میاں ممتاز دولتانہ فنانس کر رہے تھے جو نوائے وقت کے دشمن تھے لہذا نوائے وقت کے تمام سٹاف کو توڑ کر آفاق میں لے گئے نوائے وقت میں سوائے زاہد چودھری کے سب غائب ہو گئے۔ نوائے وقت مکمل طور پر خالی ہو گیا۔یہ نوائے وقت کو نقصان پہنچانے کی سازش تھی لیکن اس سے نوائے وقت کو کوئی فرق نہیں پڑا بلکہ آفاق بند ہو گیا آفاق بند ہوا تو ایک ہفت روز ’’اقدام‘‘ نکالا اس میں چلا گیا بہت اچھا پرچہ تھا اس زمانے میں قادیانیوں کے خلاف تحریک چلی تھی اور لاہور میں پہلا مارشل لاء لگا جو اعظم خان جرنیل نے لگایا۔ ہم نے کبھی دیکھا نہ تھا کہ فوجی اسلحہ اور سنسناتی ہوئی گولیاں اب توخیر فوج اور گولیاں مذاق ہی بن گیا ہے اس زمانے میں جرائم بھی بہت کم تھے اس زمانے میں قادیانی تحریک کے سلسلے میں گرفتاریاں شروع ہوئیں تو مولانا عبدالستار خان نیازی مسجد وزیر خان میں بند ہو کر بیٹھ گئے جسے چاروں طرف سے فوج نے گھیر رکھا تھا۔ ان تک پہنچنا اور ان سے ملنا ایک کار دارد سے کم نہ تھا میری بڑی خواہش تھی کہ ان سے ملا جائے سو میں میاں شفیع صاحب کے ساتھ لاہور کی تنگ و تاریک گلیوں میں چھپتا چھپاتا وہاں پہنچا مجھے آج بھی یاد ہے کہ مسجد وزیر خاں میں مولانا نیازی مسجد میں دوزانوں بیٹھے ہوئے قرآن کی تلاوت کر رہے تھے۔ اور ان کے زانوں پر ننگی تلوار رکھی ہوئی تھی۔ مجھے وہ منظر بھولتا نہیں مسجد میں لواحقین اور تحریک کے حامی افراد کا ہجوم تھا اور ہر طرف مسجد کے باہر مسجد کے اردگرد گھروں کی چھتوں پر فوج کے مسلح جوان پہرہ دے رہے تھے اس زمانے میں مسجد کا اتنا احترام ہوتا تھا کہ لوگ کسی صورت مسجد میں داخل ہو کر گرفتاری کا انتہائی اقدام نہیں کرتے تھے اور جب وہ مسجد جانے لگے تو مسجد کے باہر سے انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
’’اقدام‘‘ سے میں آثار میں آ گیا۔ آثار مولانا اختر علی خاں کے بیٹے منصور علی خاں نے نکالا تھا۔ یہ ’’زمیندار‘‘ کے بند ہونے کے بعد اس کی جگہ نکلا گیا تھا۔ آثار کے ظہور الحسن ڈار ایڈیٹر مقرر ہوئے اور مجھے جائنٹ ایڈیٹر کی ذمہ داری دی گئی۔ منیر نیازی انتظار حسین اور مسعود اشعر کو بھی ہم وہاں لے گئے تھے۔ ’’آثار‘‘ میں جب مولانا اختر علی خان آ گئے تو ہمارا گزارہ مشکل ہو گیا۔ لہٰذا مہینہ ڈیڑھ مہینہ کے بعد ہم نے ’’آثار‘‘ چھوڑ دیا پھر فلمی صحافت کرتا رہا، مختلف پرچوں میں لکھتا رہا۔ فلمی صحافت کا آغاز اور فلم کے صفحہ کا آغاز میں نے کیا۔ اس زمانے میں کسی اخبار میں فلم کی خبر نہیں چھپتی تھی۔ اسی زمانے میں ایک نئی نئی لڑکی نگہت سلطانہ کراچی سے لاہور آئی وہ یہاں ایک فلم میں کام کر رہی تھی کہ نورجہاں سے اس کا جھگڑا ہو گیا اور اس نے میڈم پر کیس کر دیا۔ لوگوں کو فلم اور فلمی لوگوں سے ہمیشہ بہت دلچسپی رہی تو مجھے خیال آیا کہ کیوں نہ ہم نگہت سلطانہ کا انٹرویو چھاپیں کہ آخر یہ قصہ کیا ہے؟ نورجہاں کو تو سارا برصغیر جانتا تھا مگر نگہت کو کوئی نہیں جانتا تھا۔ میں نے نگہت کا انٹرویو لیا۔ اس نے ایسے ہی گپ شپ لگائی، مجھے پتہ تھا کہ زیادہ تر گپیں ہیں لیکن میں نے اس کو بڑی فلاوری زبان میں لکھ کر داستان کی شکل میں اخبار کے پورے صفحہ پر چھاپ دیا۔ تصویریں وغیرہ خوب نمایاں لگا کر شائع کر دیا۔ دوسرے دن دفتر گیا تو انتظار حسین کہنے لگے تم تو آج پٹو گے، ایک صفحہ لگا دیا فلم پر۔ آج خیریت نہیں۔ سویرے دفتر پہنچتے ہی مجھے پتہ چلا کہ میر سرور صاحب (منیجنگ ایڈیٹر) مجھے صبح سے بُلا رہے ہیں۔ میں گیا ان کے کمرے میں، ہمارا ایجنٹ بیٹھا ہوا تھا کہہ رہا تھا کہ مجھے تو آپ مزید پرچہ چھاپ کر دیں۔ اس زمانے میں آفاق روزانہ 5000 بِکتا تھا جو سرکولیشن کے حساب سے قیامت تھی اور ایجنٹ 1000 پرچہ مزید مانگ رہا تھا۔ میں تو سوچ رہا تھا کہ میری اب تو واقعی نوکری گئی۔ لیکن سرور صاحب نے کہا کہ آفاقی یہ تو لوگوں نے بڑا پسند کیا۔ اور یوں یہ فلمی صفحہ شروع ہوا۔ میں تو ویسے ہی شوقین تھا بعد میں امروز نے بھی فلم کی خبریں چھاپنا شروع کر دیں۔ اسی زمانے میں میڈم نوجہاں سے میری زندگی کی پہلی ملاقات ہوئی۔
فلم والے خود میٹر، تصویریںپہنچاتے تھے اور خوشامد کرتے تھے کہ یہ چھاپیں۔ ہیروئن فلم کے پرچوں کے دفاتر میں خود جا کر اپنے ٹائٹل اور انٹرویو چھپواتی تھیں۔ خیر یوں روزناموں کی صحافت میں فلمی صحافت کا آغاز ہوا۔ آئی اے رحمان پاکستان ٹائمز اور مسعود اشعر امروز میں تھے۔ ہمارے بہت اچھے دوست تھے۔ انہوں نے کہا کہ بھئی ان کے ہاں بھی فلمی صفحہ ہونا چاہئے چنانچہ ان کو میں سٹوڈیو لے کر گیا۔ میرا تو شوق تھا وہ لوگ تو نہیں جاتے تھے وہ ہم سے ہی خبریں لے کر گزارہ کر لیتے تھے۔ مگر اب تو یہ حالت ہے کہ رنگین ایڈیشن چھپ رہے ہیں۔ خیر بعد میں آفاق چھوڑ دیا۔ پھر آفاق دوبارہ نکالا تو دوبارہ میاں دولتانہ صاحب اس کے پیچھے تھے اور سعید سہگل اس کے چیئرمین تھے اور ایڈیٹر غلام رسول میر صاحب۔ پھر وہ حالات ہوئے کہ ’’نوائے وقت‘‘ کے دفتر کے تمام بندے توڑ گئے۔ نظامی صاحب سے پرانی دشمنی تھی اور وہ چاہتے تھے کہ کسی طرح صرف ایک دن کے لئے ’’نوائے وقت‘‘ بند ہو جائے۔ حمید نظامی جو کبھی دفتر نہیں آتے تھے ایک روز دفتر آئے اور وہی دن تھا جب پورے دفتر میں صرف ایک آدمی موجود تھا اور وہ دفتر آ کر بیٹھ گئے۔ وہ واقعی مکمل صحافی تھے۔ نیوز میں، ایڈیٹوریل ہر جگہ خود کام کیا۔ کچھ جرنلزم ڈیپارٹمنٹ سے لوگوں کو بلوایا اور آفاق والے حیران رہ گئے۔ جب دوسرے روز نوائے وقت اپنے اسی انداز اور خوبصورتی اور زبردست خبروں کے ساتھ مارکیٹ میں موجود تھا۔ بہرکیف دولتانہ صاحب کی ’’نوائے وقت‘‘ بند کروانے کی سازش ناکام ہو گئی۔ ایک سال بعد دوبارہ آفاق بند ہو گیا جبکہ نوائے وقت روزِ اول سے چل رہا ہے۔
ادارہ نوائے وقت اور فیملی جناب مجید نظامی اور علی سفیان آفاقی کی صحافتی خدمات کی وجہ سے تا قیامت احسان مند رہے گا۔