کشمیر الیکشن سے دلبرداشتہ ایم کیو ایم نے بالاآخر وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے استعفی دیتے ہوئے اپوزیشن بینچوں پر بھیٹنے کا اعلان کردیا۔

کشمیر الیکشن سے دلبرداشتہ ایم کیو ایم نے بالاآخر وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے استعفی دیتے ہوئے اپوزیشن بینچوں پر بھیٹنے کا اعلان کردیا۔

تین سال اور چار ماہ تک مفاہمت کا سفر جاری رکھنے کے بعد ایم کیو ایم بالاخر
حکومت سے علحیدہ ہوگئی۔کراچی میں خورشید بیگم میموریل ہال میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کئی بار اس بات کو دھرایا کہ ہم نے آج کا فیصلہ انتہائی سوچ سمجھ کر کیا ہے۔ہم اس بار مرحلہ وار علیحدہ ہو کر حکومت کو بہتری کا کوئی موقع نہیں دے رہے بلکہ بیک وقت قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے مستعفی ہورہے ہیں۔انھوں نے اعلان کیا کہ ایم کیوایم اب اپوزیشن بینچوں پر بھیٹے گی اور ایم کیو ایم کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد خان اپنے عہدے سے استعفی دے دیں گے۔
ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ موجودہ دور حکومت میں ہمارے رکن صوبائی اسمبلی سمیت تین سو کارکنان کو شہید کیا گیا۔ ہمیں اپنے کارکنان ،سیاسی مخالفین ،ناقدین اور عوامی حلقوں کی جانب سے حکومت سے چمٹے رہنے کے تانے بھی سننے پڑے ۔
دوبارہ حکومت میں شامل ہونے کے سوال پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ آج کا فیصلہ کشمیر ایشو پر نہیں بلکہ ہم نے یہ فیصلہ ایم کیو ایم کے سینٹرز ،ممبر قومی و صوبائی اسمبلی، ایم کیو ایم کے تمام ونگز ،شعبہ جات ،زون اور سیکٹر کی مشاورت کے بعد کیا ہے اوراب ایم کیو ایم کا حکومت میں واپسی کا کوئی امکان نہیں
ڈاکٹرفاروق ستارکی پریس کانفرنس سےایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کامشترکہ اجلاس لندن اورکراچی میں منعقد ہواجہاں حکومت سے علیحدگی کے فیصلے کوحتمی شکل دی گئی