ایم کیو ایم نے ایک بار پھر وفاقی اورسندھ حکومت سے علیحدگی کااعلان کر دیا،جبکہ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔

ایم کیو ایم نے ایک بار پھر وفاقی اورسندھ حکومت سے علیحدگی کااعلان کر دیا،جبکہ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔

کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران وفاقی اور سندھ حکومت سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے مرکزی رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ایم کیو ایم کا حکومت سے علیحدگی کا فیصلہ جذباتی نہیں، وقت آگیا ہے کہ پیپلز پارٹی کے آمرانہ فیصلوں سے عوام کو آگاہ کیا جائے ،انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بار بار وعدہ خلافی کی جاتی رہی ،وفاقی اور صوبائی کابینہ میں ایم کیو ایم کے وزارء کو کوئی اختیار ات حاصل نہیں تھے جبکہ وہ جمہوریت کے استحکام کے لیے حکومت کا ساتھ دیتے رہے،فاروق ستار نے کہا کہ ایم کیو ایم پر دباؤ بڑھانے کےلئے کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ کی گئی،موجودہ حکومت میں ایم پی اے سمیت متحدہ کے تین سو کارکن قتل کئے گئے،رحمان ملک پر تنقید کرتے ہوئے فاروق ستار کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر داخلہ نے کشمیری مہاجرین کی ایک نشت پیپلز پارٹی کو دینے کے لیے دباؤ ڈالا مگر ہم اپنے موقف پر ڈٹے رہے ،انہوں نے واضح کیا کہ وفاق اور سندھ میں ایم کیو ایم اب اپوزیشن بنچوں پر بیٹھے گی۔ ادھر گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں اور انہوں نے اپنا استعفی صدر کو بھجوادیا ہے۔