پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ملک سے پلاٹ کلچر ختم کرنے کے لئے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ملک سے پلاٹ کلچر ختم کرنے کے لئے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے

چودھردی نثارعلی خان کا کہنا ہے کہ جرنیل، بیوروکریٹس سیاست دان اور جج سب پلاٹوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چودھری نثارعلی خان کی صدارت میں ہوا جس میں وزارت خواراک و زراعت کے مالی سال دو ہزار سات اور دو ہزار آٹھ کے آڈت اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔  اجلاس میں بتایا گیا کہ پاسکو نے ایم ڈی ہائوس، پروٹوکول آفس اور مکینکل سینٹرکے لئے بیس کروڑ اسی لاکھ روپے کے پانچ پلاٹس خریدے ہیں تاہم پاسکو بورڈ سے اس کی منظوری نہیں لی گئی۔ جس پر کمیٹی کے چیئرمین چودھری نثارعلی خان کا کہنا تھا کہ غریب آدمی کو چھت میسر نہیں اور ایک جرنیل کے پاس آٹھ، آٹھ پلاٹس ہیں۔ پلاٹ حاصل کرنے کے لئے جج جھوٹے بیان حلفی جمع کراتے ہیں جس کی مثال پوری دنیا میں نہیں ملتی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ مالی سال دو ہزارسات میں تین لاکھ میٹرک ٹن گندم ایک سو پچاسی ڈالر فی ٹن کے حساب سے برآمد کی گئی جبکہ گندم بحران کی وجہ سے دو ہزار آٹھ میں پندرہ لاکھ ٹن گندم چار سو ڈالر فی ٹن کے حساب سے درآمد کرنا پڑی، اس فیصلے سے قومی خزانے کا بتیس کروڑ بیس لاکھ ڈالرز کا نقصان ہوا جس پر کمیٹی نے گندم برآمد کرنے والی تیرہ کمپنیوں، ایف بی آر اور وزارت خوراک و زراعت کو پندرہ دنوں میں ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیا۔ اجلاس کے دوران سیکرٹری خوراک و زراعت نے کابینہ کے اجلاس میں شرکت کی اجازت چاہی جس پر چودھری نثار نے انہیں کابینہ کے اجلاس میں شرکت سے روک دیا اور کہا کہ وزیراعظم کو بتا دیں کہ ہمیں ان سے زیادہ آپکی ضرورت ہے۔