سپریم کورٹ، اسلام آباد اور پشاورسکیورٹی معاہدوں کی منصوبہ بندی، کمیشن سے تفصیلات طلب، سیکیورٹی آلات کی خریداری شفاف ہونی چاہیئے۔ چیف جسٹس

سپریم کورٹ، اسلام آباد اور پشاورسکیورٹی معاہدوں کی منصوبہ بندی، کمیشن سے تفصیلات طلب، سیکیورٹی آلات کی خریداری شفاف ہونی چاہیئے۔ چیف جسٹس

چیف جسٹس افتخارچودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بنیچ نے شاہد اورکزئی کی اسلام آباد اور پشاورکو محفوط بنانے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ شاہد اورکزئی کا کہنا تھا کہ معاہدوں کو انجام دیتےوقت شفاف طریقہ اختیار نہیں کیا گیا ، پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین نے عدالت کو بتایا کہ سیف سٹی پراجیکٹس منصوبہ ابھی حتمی منظوری کے مرحلے میں ہے ، وزارت داخلہ کے وکیل نے بتایا کہ اس منصوبہ کے لئے چین قرض دے رہا ہے۔ چیف جسٹس نےاپنے ریمارکس میں کہا کہ شہروں کو محفوظ بنانا بری بات نہیں لیکن قوم کی قیمت پریہ قرضے لے کر یہ کام نہ کیا جائے جو قرضہ دے گا وہ اپنی شرائط بھی رکھے گا، انہوں نے کہا کہ یہ کیس انکا ذاتی مئسلہ نہیں بلکہ یہ پوری قوم کا مسئلہ ہے اور قوم کے پیسےکا درست استعمال ہونا چاہیئے، اس کا بوجھ عوام پرڈالنا ٹھیک نہیں ۔ عدالت نے حکم دیا کہ اس معاہدے میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ کیس کی مزید سماعت چارہفتے کے لیے ملتوی کردی گئی ہے۔