صدر کے پارلیمنٹ سے خطاب کے موقع پر اپوزیشن کی جانب سے احتجاج کے لئے حکمت عملی طے کرنے کے لئے باہمی رابطے

صدر کے پارلیمنٹ سے خطاب کے موقع پر اپوزیشن کی جانب سے احتجاج کے لئے حکمت عملی طے کرنے کے لئے باہمی رابطے

ذرائع کے مطابق اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان نے اس سلسلے میں جے یو ائی فے کے امیر فضل الرحمان ،پیپلزپارٹی شیرپاؤ کے آفتاب شیر پاؤ ،مسلم لیگ ہم خیال کے سلیم سیف اللہ اور دیگر رہنماؤں سے رابطے کئے،چوہدری نثارعلی خان نے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے بھی فون پر بات چیت کی ہے، ذرائع کے مطابق مسلم لیگ نون نے صدر کے خطاب کے موقع پراحتجاج کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے اور امکان ہے کہ لیگی ارکان تقریر کے دوران مسلسل نعرے بازی اور ڈیسک بجاکر احتجاج کریں گے،دوسری جانب مولانا فضل الرحمان کی زیرصدارت جمعیت علمائے اسلام کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں پارلیمنٹ سے صدر کے خطاب کے دوران احتجاج کے بارے میں غور کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق جے یو آئی کے بیشتر ارکان نے بھر پوراحتجاج کی تجویز دی اور کہا کہ اب حکومت کو مزید چھوٹ نہیں دی جانی چاہیے۔ یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ اجلاس کے آغاز پر مولانا فضل الرحمان پوائنٹ آف آردڑ پر بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر جے یو آئی اجلاس سے واک آؤٹ کرجائے۔ مولانا غفورحیدری کا کہنا ہے کہ جے یو آئی کے حکومت کے ساتھ کئی معاملات پر تحفظات ہیں ،اجلاس میں احتجاج کا اثر صرف اسی صورت میں ہوگا جب اپوزیشن مل کراحتجاج کرے گی۔ اس سلسلے میں چوہدری نثار علی اپوزشن کا مشترکہ اجلاس بلائیں