صدرمملکت کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران مسلم لیگ نون کا احتجاج ہوا تو پھر آپشن ہمارے پاس بھی موجود ہیں ۔ راجہ ریاض

صدرمملکت کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران مسلم لیگ نون کا احتجاج ہوا تو پھر آپشن ہمارے پاس بھی موجود ہیں ۔  راجہ ریاض

صدرمملکت کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کو پرامن طریقے سے منعقد کرانے کیلئے جہاں وفاق کی سطح پرحکومتی ٹیم حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں سے رابطے میں مصروف ہے وہیں پیپلزپارٹی نے قومی اسمبلی میں اپنی سب سے بڑی حریف جماعت مسلم لیگ نون کے ساتھ نرم اور گرم کی پالیسی اختیار کی ہوئی ہے۔ ذمہ دار زرائع کے مطابق پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نون کی صوبائی حکومت پر یہ بات واضح کرچکی ہے کہ قومی اسمبلی میں صدر کے خطاب کے دوران ہلڑ بازی کی گئی تو اس کا ردعمل پنجاب اسمبلی کے رواں سیشن کے دوران ہی سامنے آئے گا اور وزیراعلی کے انتخاب، سستی روٹی، صوبے میں امن و امان کی صورتحال اور ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے معاملے پر صوبائی محکمہ پروسکیوشن کی کارکردگی پر اسمبلی میں شدید احتجاج کیا جائے گا۔ دوسری طرف صوبائی اسمبلی میں موجود مسلم لیگ قاف کے ارکان مونس الہی کی گرفتاری کے بعد شہبازحکومت کے خلاف پیپلزپارٹی کی جانب سے کھولے جانے والے ہر محاز پر مکمل تعاون کی یقین دہانی کراچکے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں مسلم لیگ نون کا رویہ آئندہ کیلئے پنجاب کی سیاست کا رخ متعین کردے گا۔