پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں حکمران اتحاد نےمقامی حکومتوں کے ترمیمی بل برائے سال دو ہزار دس کی منظوری دے دی،جس کے بعد بلدیاتی الیکشن مذید ایک سال کیلئے التوا  کا شکار ہوگئے

پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں حکمران اتحاد نےمقامی حکومتوں کے ترمیمی بل برائے سال دو ہزار دس کی منظوری دے دی،جس کے بعد بلدیاتی الیکشن مذید ایک سال کیلئے التوا  کا شکار ہوگئے

پنجاب اسمبلی کا اجلاس ایک گھنٹے کی تاخیر سے ڈپٹی سپیکر رانا مشہود احمد خان کی زیر صدارت شروع ہوا، صوبائی وزیرقانون رانا ثنا اللہ خان نے
مقامی حکومتوں کا ترمیمی بل برائے سال دو ہزاردس پیش کیا۔بل میں الیکشن اتھارٹی ختم کرتےہوئے بلدیاتی انتخابات الیکشن کمیشن آف پاکستان کےزیرانتظام کرانےکی سفارش کی گئی جبکہ انتخابات کی مجوزہ تاریخ دینے کیلئے حکومت کو ایک سال کا وقت دیا گیا ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن نے بل پر پانچ ترامیم جمع کروائی تھیں جو کہ کثرت رائے سے مسترد کردی گئیں۔
بل پر بات کرتے ہوئے اپوزیشن کی رکن ڈاکڑ سامعیہ امجد نے کہا کہ حکومت بلدیاتی انتخابات نہیں کرانا چاہتی جبکہ صوبائی وزیرقانون رانا ثنا اللہ خان نے کہا کہ اس بل پرمعاشرے کے تمام طبقات کو اعتماد میں لینے کے بعد کابینہ کے اجلاس میں حتمی منظوری کیلئے پیش کیا جائے گا۔  
دوسری جانب اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران ارکان کی اکثریت کی طرف سے محکمہ تعلیم کے حوالے سے موصول ہونے والے جوابات پر شدید اعتراض کیا گیا۔ صوبائی وزیر تعلیم مجتبیٰ شجاع الرحمٰن کا کہنا تھا کہ تعلیم کا فروغ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
 
اجلاس کے دوران پیپلزپارٹی کے رکن شوکت بسرا نے جب پارٹی کی ایک رکن کے حوالے سے میڈیا رپورٹ پر بات کی تو
پی پی پی ارکان اور صوبائی وزیر قانون کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا ۔
 
اجلاس کی کارروائی مکمل ہونے پر ڈپٹی سپیکر نے اجلاس جمعہ کی صبح نو بجے تک ملتوی کردیا۔