سپریم کورٹ ، اٹھارہویں آئینی ترمیم میں ججوں کی تقرری سےمتعلق عبوری فیصلہ، پارلیمنٹ سے آرٹیکل ایک سو پجھتر اے پر نظرثانی کی سفارش، جبکہ دیگر شقوں پر فیصلہ جنوری دو ہزار گیارہ تک موخرکردیا گیا۔

سپریم کورٹ ، اٹھارہویں آئینی ترمیم میں ججوں کی تقرری سےمتعلق عبوری فیصلہ، پارلیمنٹ سے آرٹیکل ایک سو پجھتر اے پر نظرثانی کی سفارش، جبکہ دیگر شقوں پر فیصلہ جنوری دو ہزار گیارہ تک موخرکردیا گیا۔

اٹھارہویں ترمیم میں ججزکی تقرری کے معاملے پرعبوری فیصلہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے سنایا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ججز کی تقرری کے نئے طریقہ کارسےعدلیہ کی آزادی اورخودمختاری متاثر ہوئی ہے۔ ججز کی تقرری کے لیے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل درست نہیں ۔ فیصلے کے مطابق ججز کی تقرری کے لیے چیف جسٹس کی مشاورت ضروری ہے جبکہ جوڈیشل کمیشن میں چیف جسٹس کا صرف ایک ووٹ رکھا گیا ہے۔ اٹھارہویں ترمیم میں وضاحت نہیں کی گئی کہ  پارلیمنٹ تحلیل ہونے کی صورت میں ججز کی تقرری کا اختیار کس کے پاس ہوگا۔ سپریم کورٹ نے ججوں کے تقرر کی شق ایک سو پجھتر اے کو پارلیمنٹ کوواپس بھجواتے ہوئے نظر ثانی کی سفارش کی ہے۔ تاہم فیصلے میں کہا گیا ہے کہ  پارلیمنٹ کی  نظر ثانی تک آرٹیکل ایک سو پجھتر اے نافذ العمل رہےگا اورججوں کی تقرری اٹھارہویں ترمیم میں بیان کردہ نئے طریقہ کار کے مطابق ہوگی۔  جبکہ دیگر چیلنج کی گئی شقوں کے حوالے سے کارروائی اگلے برس جنوری تک ملتوی کردی گئی ہے۔