سانحہ کارسازکو رونما ہوئے آج چار برس بیت گئے، لیکن ابھی تک دھماکوں کے ملزم بے نقاب نہیں ہوسکے ۔

سانحہ کارسازکو رونما ہوئے آج چار برس بیت گئے، لیکن ابھی تک دھماکوں کے ملزم بے نقاب نہیں ہوسکے ۔

اٹھارہ اکتوبر دوہزارسات کوسابق وزیراعظم اورپیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو آٹھ سالہ جلاوطنی کےبعد کراچی پہنچیں تو چاروں صوبوں سےتعلق رکھنےوالےپیپلزپارٹی کےکارکن انکےاستقبال کیلئےکراچی پہنچ گئے۔ لیکن بےنظیربھٹوکی واپسی سےسیاسی تبدیلی کی امید کرنےوالےکارکنوں کی بڑی تعداد کواس وقت خون میں نہلادیا گیاجب شاہراہ فیصل کارسازپردوخودکش دھماکوں کے نتیجےمیںایک سوچالیس سےزائد کارکن جاں بحق جبکہ چھ سوسےزائد زخمی ہوگئےتاہم ان دھماکوں میں پیپلزپارٹی کی چیئپرپرسن نظیربھٹومحفوظ رہیں ۔واقعہ کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو نے اس وقت کے صدر پرویز مشرف کو تین خط لکھے جن میں تین افراد کو اپنے لئے خطرہ قرار دیا ۔ادھرحکومت کیجانب سےتحقیقات کیلئےٹریبیونل قائم کرکےتحقیقات کا آغازبھی کیا گیا لیکن یہ سلسلہ بغیر کسی نتیجے کے سیاست کی نذر ہوگیا۔ دوہزار آٹھ میںپیپلز پارٹی حکومت میں آئی لیکن سانحہ کی تحقیقات کے حوالے سے کوئی پیش رفت ہوئی اور نہ ہی ذمہ داروں کو بے نقاب کیا جاسکا۔