عوام کوسیاسی مقدمات سے کوئی دلچسپی نہیں، عدالتوں کے رات کو کام کرنے سے لوگوں کا بھلا ہوگا اورشاید آئی جے آئی کی تخلیق پررقوم کی تقسیم کے خلاف دائررٹ پیٹیشن کی باری بھی آجائے گی۔ بابر اعوان

عوام کوسیاسی مقدمات سے کوئی دلچسپی نہیں، عدالتوں کے رات کو کام کرنے سے لوگوں کا بھلا ہوگا اورشاید آئی جے آئی کی تخلیق پررقوم کی تقسیم کے خلاف دائررٹ پیٹیشن کی باری بھی آجائے گی۔ بابر اعوان

بابر اعوان نے یہ باتیں لاہورمیں ڈاکٹرفخرالدین چودھری کے بھائی کی وفات پرتعزیت کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب میں کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری ملازمت میں سیاست نہیں ہوسکتی، کچھ لوگ اداروں کی آڑ میں سیاست کررہے ہیں۔ پاکستان کو ہمیشہ غیرآئینی اقدامات سے پیچھے دھکیلا گیا لیکن اب جمہوریت دیوار بن گئی ہے۔ بابراعوان کا کہنا تھا کہ آئین بنانے اورتبدیل کرنے کا اختیارصرف پارلیمنٹ کو حاصل ہے۔ حکومت آئین کے تحت بنی ہے، حکومت کے خلاف کسی بھی کارروائی کا مطلب پارلیمنٹ اورآئین کے خلاف کارروائی ہوگا۔ جس کی عوام اجازت نہیں دیں گے۔ وفاقی وزیرقانون نے جمہوری کلچرکے فروغ کی ضرورت پر زوردیتے ہوئے کہا کہ ملکی تقدیرکے فیصلے اندازے یا پیشین گوئی پرنہیں، عوام کے ووٹوں کے ذریعے ہی ہوسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام یہ نہیں بھولے کہ میاں نواز شریف کی حکومت کو ہٹایا گیا تو تب بھی یہی عدالتیں موجود تھی، لیکن سب زیرزمین رہیں۔
بابراعوان نے کراچی میں ٹارگٹ کلنگ پرافسوس کا اظہارکیا اورواقعات کی مذمت کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مزید متحرک کردار کی ضرورت پر زوردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یکم نومبرکو سینیٹ اورقومی اسمبلی کے الگ، الگ اجلاس ہوں گے لیکن اس میں ججوں کی بحالی کا ایگزیکٹو آرڈرزیربحث نہیں لایا جائے گا۔ انہوں نے زوردیا کہ میڈیا کسی بھی اطلاع کی تصدیق ضرورکرلیا کرے۔