جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اگر تمام ادارے آئینی دائرہ کار میں رہ کر کام کریں تو تصادم ہو گا نہ ہی جمہوری نظام کو خطرات لاحق ہوں گے۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اگر تمام ادارے آئینی دائرہ کار میں رہ کر کام کریں تو تصادم ہو گا نہ ہی جمہوری نظام کو خطرات لاحق ہوں گے۔

پشاورمیں مولانا مفتی محمود کے حوالے سے کتاب کی تقریب رونمائی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اگر جے یو آئی حکومت سے علیحدگی اختیار کر لیتی تو اٹھارویں ترمیم کے ذریعے ملکی آئین کو سیکولر بنا دیا جاتا ۔ انہوں نے کہا کہ تمام مذہبی قوتیں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے غیر مسلح جدوجہد پر متفق ہیں تاہم حکومت کو یہ واضح کر دینا چاہیے کہ آپریشن کی بدولت دہشت گردی میں اضافہ ہی ہوا ۔ انہوں نے این آر او سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ این آر او وزراء کو کابینہ سے فارغ کرنے کے بارے میں وزیر اعظم سے پوچھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یوں لگتا ہے کہ حکومت نے طالبان کو بڑا فریق تسلیم کرلیا ہے اور مذاکرات کا ذریعے ملک میں حالات جلد بہتر ہو جائیں گے ۔