ججز بحالی کا ایگزیکٹو آرڈر واپس لینے کی خبروں پر وزیراعظم کی زبانی تردید کافی ہے، جمہوری دور میں کوئی تصادم نہیں ہوگا ۔ بابر اعوان

ججز بحالی کا ایگزیکٹو آرڈر واپس لینے کی خبروں پر وزیراعظم کی زبانی تردید کافی ہے، جمہوری دور میں کوئی تصادم نہیں ہوگا ۔  بابر اعوان

بابر اعوان اسلام آباد میں وزیر اطلاعات قمرزمان کائرہ کے ساتھ ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتوں کے فیصلے بولنے چاہیئں، ان کی وقعت محض بیان جیسی نہیں ہونی چاہیے۔ جن اداروں میں سیاست کی اجازت نہیں وہاں سیاست بھی نہ کی جائے ۔ بابراعوان کا کہنا تھا کہ ہمیں آرٹیکل چھ کے بارے میں بتایا جارہا ہے، ہم اس آرٹیکل سمیت پورے آئین کے خالق ہیں، ہم نے ضیاء الحق کے مارشل لاء سے لے کر بارہ اکتوبرتک آرٹیکل چھ کو یاد رکھا ہے، وفاقی وزیرکا کہنا تھا کہ آرٹیکل چھ اس وقت بھی موجود تھا جب ایک آمرکو تین سال تک حکومت کرنے کی اجازت دے دی گئی۔ ہم آرٹیکل چھ کے ملزموں کے ڈسے ہوئے ہیں ۔ بابراعوان نے واضح کیا کہ ہم کوئی ایل ایف او، پی سی او یا ای سی او نہیں لائیں گے۔ اس کی توقع فضول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ احتساب یکطرفہ نہیں بلکہ آئین و قانون کے مطابق ہونا چاہیے ۔ ہم توقع کرتے ہیں عدالت عظمیٰ اصغرخان کیس کی سماعت بھی جلد کرے گی ۔ بابر اعوان نے بتایا کہ وزیراعظم اتوار کو قوم سے خطاب کریں گے اور صورتحال پر عوام کو اعتماد میں لیں گے ۔ بابر اعوان نے نیوز کانفرنس کے دوران میڈیا کے بعض اداروں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ خواہشات کبھی خبریں نہیں ہوتیں ، یہاں پر خواہشات کو خبریں بناکر پیش کیا جاتا ہے ، میڈیا نے وزراء کے بھاگنے کی خبریں چلائیں، ملک کے سربراہ کی لاش لے جانے والی ایمبولینس کی جگہ بھی بتادی لیکن ہم نے سب کچھ برداشت کیا۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں تحریری جواب جمع کرانے کا فیصلہ لیگل ٹیم کرے گی۔ وزیراعظم کی زبان پر اعتماد کرنا چاہیے ۔ قمرزمان کائرہ کا کہنا تھا کہ خبر کے حوالے سے تحقیقات کرائی جائیں گی۔ کسی کو خبر لانے والے کا پتا ہے تو وہ اس کا نام منظرعام پر لائے۔