سوئس حکام کو خط : صدر کا نام نہ ہو تو غور ہو سکتا ہے‘ اٹارنی جنرل ۔۔ کبھی ان پر مقدمہ چلانے کیلئے نہیں کہا : جسٹس کھوسہ

سوئس حکام کو خط : صدر کا نام نہ ہو تو غور ہو سکتا ہے‘ اٹارنی جنرل ۔۔ کبھی ان پر مقدمہ چلانے کیلئے نہیں کہا : جسٹس کھوسہ

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت + نیٹ نیوز + نوائے وقت نیوز) عدالت عظمیٰ میں ”این آر او عملدرآمد کیس کے عدالتی فیصلے کے خلاف حکومت کی نظرثانی کی اپیل“ کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے اٹارنی جنرل کی سماعت کرنے والے 5 رکنی بنچ کی تبدیلی اور لارجر بنچ بنانے کی استدعا مسترد کر دی ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دئیے کہ لوگ عدالتی فیصلوں کو پڑھے بغیر تبصرے کرتے ہیں، عدالت نے اپنے احکامات میں کبھی نہیں لکھا کہ وزیراعظم صدر کے خلاف خط لکھیں یا صدر کے خلاف مقدمہ چلائیں۔ عدالت کا کہنا یہ ہے کہ سوئس حکام کو سابق اٹارنی جنرل ملک قیوم کی طرف سے لکھا گیا خط واپس لیا جائے۔ اس سے قبل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر عدالت کہے کہ سوئس حکام کو خط میں صدر کا نام شامل نہ ہو تو اس بارے میں حکم دیں تو اس پر سوچا جا سکتا ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس سرمد جلال عثمانی، جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس گلزار احمد اور جسٹس اطہر سعید پر مشتمل 5 رکنی خصوصی بنچ نے این آر او نظرثانی اپیل کی سماعت کی تو اٹارنی جنرل عرفان قادر نے دلائل دیتے ہوئے ”سماعت کرنے والے پانچ رکنی خصوصی پنچ“ پر اعتراض کیا اور کہا کہ نظرثانی اپیل کی سماعت وہی بنچ کر سکتا ہے جس نے فیصلہ سنایا تھا اس بنچ میں پہلے والے بنچ کا ایک جج نہیں، اپیل کی سماعت نہ کی جائے ان کا کہنا تھا کہ اپیل کی سماعت 17 رکنی بنچ کو کرنا چاہئے یا پھر سماعت اس وقت تک ملتوی کی جائے جب تک بنچ مکمل نہیں ہو جاتا، میری اپیل عدالت کے 12 جولائی کے فیصلے کے خلاف ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ این آر او عملدرآمد کیس میں جتنے بھی احکامات جاری کئے گئے ہیں وہ غیر قانونی ہیں کیونکہ عدالت اپنے فیصلوں میں ایڈوائس کا لفظ استعمال نہیں کر سکتی تھی۔ وزیراعظم عدالتی احکامات ماننے کے پابند ہیں نہ عدالت ان کو ایسا کرنے پر مجبور کر سکتی ہے۔ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے ان سے استفسار کیا کہ اگر وزیراعظم عدالتی احکامات پر عملدرآمد کے پابند نہیں تو ہمیں بتایا جائے کہ وہ کون سی اتھارٹی ہے جو عدالتی حکم پر عملدرآمد کرائے گی۔ جسٹس کھوسہ نے کہا کہ وزیراعظم عدالت کے سامنے جوابدہ ہیں۔ہ اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزیراعظم کو آئین کی شق 248 کی ذیلی شق (1) کے تحت مکمل تحفظ حاصل ہے، وہ عدالت کے سامنے جوابدہ نہیں۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ 500 سال پہلے کا نظریہ تھا کہ بادشاہ غلطی نہیں کرتا یہ نظریہ اب ختم ہو گیا، ہر کوئی جوابدہ ہے۔ سابق وزیراعظم نے اپنے مقدمے میں اپنے وکیل کے ذریعے کہا تھا کہ وہ آئین کی شق 248 کا سہارا نہیں لیں گے اگر آپ یہاں اس کا سہارا لیتے ہیں تو عدالت اس پر غور کر سکتی ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ وہ سابقہ وزیراعظم کی نہیں بلکہ نئے وزیراعظم کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ عدالت نے حدود سے تجاوز کرتے ہوئے مقننہ کی حدود میں مداخلت کی ہے، وہ اپنی حدود کے علاوہ کسی کو آئین کی تشریح کرنے نہیں دے رہی، سابق وزیراعظم نے تین بار عدالت میں پیش ہو کر عدالتی وقار کو بڑھایا تاہم عدالت کو وزیراعظم اور کسی عام شخص کے مقدمے میں فرق ضرور کرنا چاہئے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ عدلیہ یا پارلیمنٹ نہیں بلکہ آئین سپریم ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ موجودہ وزیراعظم کے ساتھ سابقہ وزیراعظم کی طرح سلوک نہ کیا جائے ان کے پاس اتھارٹی ہے کہ وہ کسی بھی ادارے کے احکامات مسترد کر دیں۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ان سے استفسار کیا کہ آئین کی وہ کون سی شق ہے جو وزیراعظم کو عدالتی احکامات ماننے کا پابند نہیں بناتی۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ملک کی پینسٹھ سالہ تاریخ میں کبھی وزیراعظم کو اس طرح طلب کیا گیا نہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ کرنے کے الزام میں اسے توہین عدالت کی سزا دی گئی۔ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ آئین کی شق 90 میں واضح ہے کہ صدر اور وزیراعظم سمیت دیگر انتظامی عہدےدار عدالتی احکامات ماننے کے پابند ہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزیراعظم عدالتی احکامات کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے نیب جیسے دیگر تحقیقاتی اداروں کو حکم دے سکتا ہے کہ وہ کام کرے، اس معاملے میں بھی نیب خط لکھا چکا ہے جو اپنے وضع کردہ قانون کے مطابق کام کرتا ہے۔ عدالت نیب کو بھی احکامات جاری نہیں کر سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عدالت عملدرآمد کرانا چاہتی ہے تو خود اقدامات کرے، وزیراعظم اپنی آئینی حدود میں رہ کر احکامات ماننے کے پابند ہیں۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ عدالت کسی ایک شخص کو تو سزا دے اور دوسرے کے لئے محتاط رہے، یہ کیسے ہو سکتا ہے، موجودہ بنچ عملدرآمد کرانے کا بنچ ہے جنہوں نے حکم جاری کیا تھا وہ تو چلے گئے۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ سوئس حکام کو خط لکھنے میں آخر کیا قباحت ہے؟ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ ایک چٹھی لکھی جا چکی ہے تو دوسری کے لکھنے میں کیا حرج ہے؟ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کبھی نہیں کہا وزیراعظم کو صدر کے خلاف خط لکھنا ہے، انہوں نے صرف کسی کو ذمہ داری دینی ہے کہ وہ خط لکھے، بہت سے لوگ عدالتی فیصلوں کو پڑھے بغیر اس پر تبصرہ کرتے ہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ڈاکٹر مبشر حسن کیس میں کہیں بھی وزیراعظم کو خط لکھنے کے بارے میں حکم نہیں دیا گیا، وہ حکم وفاقی حکومت کو دیا گیا ہے۔ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ اس فیصلے میں وفاقی حکومت کو احکامات دئیے گئے تھے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس کیس میں تمام فریقین میں خوف پایا جاتا ہے، ایک شوکاز نوٹس جاری ہوتا ہے تو ڈر کے مارے کام نہیں ہوتا، عدلیہ اور دیگر اداروں کے درمیان تصادم نہیں ہونا چاہئے اور اداروں کو ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہئے۔ جسٹس آصف سعید نے کہا کہ کسی کو خوف میں نہیں رہنا چاہئے، صدر، وزیراعظم اور عدلیہ اپنی حدود میں رہ کر کام کر رہے ہیں۔ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ خلیفہ وقت بھی قاضی کی عدالت میں پیش ہوئے تھے۔ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ اگر یہ قانون حضرت عمرؓ کے دور میں ہوتا تو وہ بھی قاضی کی عدالت میں پیش نہ ہوتے۔ سپریم کورٹ نے 12 جولائی کے حکمنامہ کے خلاف نظرثانی کی اپیل واپس لینے یا نہ لینے کے حوالے سے حکومت کو آج تک کی مہلت دے دی ہے، حکومتی جواب 24 گھنٹوں میں طلب کیا گیا ہے۔ ایک موقع پر جسٹس سرمد نے کہا کہ وزیراعظم قتل کر دے کیا وہ پھر بھی جوابدہ نہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت ایک وزیراعظم کو گھر بھیج چکی ہے، دوسرے کے ساتھ ایسا نہ کیا جائے۔ اس پر جسٹس کھوسہ نے کہا کہ کسی کو ایک جرم میں سزا ہو جائے تو دوسرے کو اس جرم میں سزا نہ ہو، یہ کوئی دلیل نہیں۔ جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ کیا نئے وزیراعظم نے اس بنیاد پر عدالتی حکم پر عمل نہ کرنے کا کوئی حکم جاری کیا ہے؟ تو اٹارنی جنرل نے کہا کہ صدر کے استثنیٰ پر وزیراعظم کا م¶قف جاننے کا ابھی موقع نہیں آیا۔ جسٹس آصف کھوسہ نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ کیا آپ کہنا چاہتے ہیں کہ 248 ٹو کے حوالے سے وزیراعظم نے رائے بنا لی ہے، خدا کے لئے ملک پر مہربانی کریں، یہ کوئی ایشو نہیں بہت سے اور ایشوز ہیں۔ آپ کی قانونی رائے کو جو سپورٹ چاہئے اس کے لئے عدالت تیار ہے، نظرثانی میں تو آرٹیکل دو سو اڑتالیس کا حوالہ دیا گیا ہے کیا آپ چاہتے ہیں کہ عدالت اس پر فیصلہ دے۔ اٹارنی جنرل نے عدالت سے سوچنے کے لئے وقت مانگا تو جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ اس پر بھی غور کیجئے گا کہ نظرثانی درخواست پر فیصلہ چاہتے ہیں یا واپس لیں گے، عدالت نے تو بہرحال فیصلہ دینا ہے۔