بھارتی یوم آزادی پر کشمیریوں کا دنیا بھر میں یوم سیاہ‘ مقبوضہ کشمیر میں ہڑتال‘ منی پور میں 4 بم دھماکے

بھارتی یوم آزادی پر کشمیریوں کا دنیا بھر میں یوم سیاہ‘ مقبوضہ کشمیر میں ہڑتال‘ منی پور میں 4 بم دھماکے

نئی دہلی + سرینگر + مظفر آباد (نیوز ایجنسیاں) بھارت کا یوم آزادی سنگینوں کے سائے تلے منایا گیا۔ سخت سکیورٹی کے باوجود ریاست منی پور میں 4 بم دھماکے ہوئے جن میں متعدد افراد زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ آزاد و مقبوضہ کشمیر سمیت دنیا بھر میں کشمیریوں نے یوم سیاہ منایا اور احتجاجی مظاہرے کئے۔ اس موقع پر مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال کی گئی۔ بھارت کے 65ویں یوم آزادی کے موقع پر دارالحکومت نئی دہلی کو فوجی چھاﺅنی میں بدل دیا گیا جہاں ہر طرف سکیورٹی کے سخت حصار قائم کئے گئے اور دارالحکومت کی اہم شاہراہوں پر سکیورٹی فورسز کے ناکے لگائے گئے۔ ملک بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ رہی۔ دارالحکومت دہلی میں پولیس کے ساتھ پیرا ملٹری فورسز کے دستے بھی تعینات کئے گئے تھے، مشتبہ سرگرمیوں پر نظر رکھنے کیلئے سی سی ٹی وی کیمرے لال قلعہ کے احاطے میں لگائے گئے جبکہ دن بھر ہیلی کاپٹروں سے بھی نئی دہلی کے اس علاقے کی فضائی نگرانی کی جاتی رہی جہاں بھارتی وزیراعظم جشن آزادی کی مرکزی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ بھارتی وزیراعظم کے لال قلعہ میں جشن آزادی کی 90 منٹ کی تقریر کے دوران اس علاقے کو نو فلائی زون بھی قرار دے دیا گیا۔ بھارتی یوم آزادی کے موقع پر ریاست منی پور کے علاقوں میں چار دھماکے بھی ہوئے۔ تین دھماکے ریاستی دارالحکومت امیفال اور ایک دھماکہ تھوبل شہر میں ہوا جہاں ابتدائی اطلاعات کے مطابق متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔ دوسری جانب کنٹرول لائن کے دونوں اطراف سمیت دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں نے بدھ 15 اگست کو بھارتی یوم جمہوریہ ہر سال کی طرح یوم سیاہ کے طور پر منایا ، جلسے جلوس احتجاجی مظاہرے و ریلیاں نکالی گئیں اور سیاہ پرچم لہرائے گئے۔ اس موقع پر مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال کی گئی اور مظاہرے کئے گئے اور عالمی برادری کی توجہ مسئلہ کشمیر اور کشمیری عوام کو درپیش مشکلات کی جانب مبذول کرائی گئی۔ حریت قیادت کو گرفتار و نظربند کر دیا گیا۔ مظاہروں و ریلیوں سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ بھارت ایک طرف جمہوری و سیکولر ملک ہونے کا دعویدار ہے اور یوم جمہوریہ منا رہا ہے تو دوسری طرف اس نے طاقت کے زور پر کشمیری عوام کے حق خوداردیت کو سلب کررکھا ہے جس سے بھارت کے اس دعوے کی قلعی کھل کر سامنے آئی ہے۔ اس دوران سرینگر اور مظفر آباد میں اقوام متحدہ کے مبصر دفاتر میں یادداشتیں بھی پیش کی گئیں۔ مقبوضہ کشمیر میں حریت کانفرنس کی اپیل پر وادی بھر میں مکمل ہڑتال کی گئی تمام کاروباری و تجارتی مراکز و تعلیمی ادارے بند رہے جبکہ مختلف مقامات پر نوجوانوں نے بھارت مخالف مظاہرے بھی کئے اور آزادی و اسلام کے حق میں جبکہ بھارتی حکومت کیخلاف نعرہ بازی کی گئی۔ ادھر مختلف علاقوں میں چھاپہ مار کارروائیوں کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ پولیس نے بھاری مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد کرنے کا دعوی کیا ہے جبکہ متعدد افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔دریں اثناءآزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد سمیت تمام ضلعی و صدر مقامات پر بھارتی یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کی مناسبت سے جلسے جلوسوں و مظاہروں اور ریلیوں کا اہتمام کیا گیا اور کشمیری بھائیوں سے مکمل اظہار یکجہتی کیا گیا۔ بھارتی یوم آزادی کے سلسلے میں سری نگر کے بخشی سٹیڈیم میں مختصر تقریب ہوئی وزیر اعلیٰ عبداللہ نے علامتی پریڈ سے سلامی لی۔ ادھر بھارت کے یوم آزادی پر برطانیہ سمیت یورپ بھر میں کشمیریوں نے مظاہرے کئے۔ مظفرآباد میں احتجاجی مارچ کیا گیا جبکہ سری نگر میں مکمل ہڑتال کی گئی۔