اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد ہی نگران سیٹ اپ کیلئے بات ہو سکتی ہے : چودھری نثار

اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد ہی نگران سیٹ اپ کیلئے بات ہو سکتی ہے : چودھری نثار

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی + نوائے وقت نیوز + ایجنسیاں) قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ ن کے رہنما چودھری نثار نے کہا ہے کہ حکومت کیساتھ نگران حکومت کے معاملے پر مذاکرات نہیں ہورہے۔ نگران سیٹ اپ پر حکومت کیساتھ مذاکرات کی آئینی ضرورت بھی نہیں ہے۔ اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد ہی نگران سیٹ اپ کیلئے بات ہو سکتی ہے۔ ساڑھے 4 سالوں میں وعدوں کا قبرستان بنانے والوں سے کیوں بات کی جائے۔ عید کے بعد اپوزیشن جماعتوں سے نگران سیٹ اپ پر بات کرینگے اور نگران وزیراعظم کیلئے 2 نام پیش کرونگا۔کسی غیر ملکی کے اشارے پر فوج، ملک کو جنگ میں نہ دھکیلے۔ شمالی وزیرستان میں آپریشن کی باتیں قابل تشویش ہیں۔ فوجی آپریشن کو عوامی حمایت نہیں ہوگی۔ فوجیوں کو اس میں نہ جھونکا جائے۔ جنرل کیانی پارلیمانی قرارداد اور اے پی سی قرارداد کا پاس کریں۔ حکومت سے کوئی رابطہ ہے نہ مستقبل میں ایسا ہونے کی توقع ہے۔ الیکشن میں حمایت کیلئے صدر کی طرف سے رقم بانٹی جا رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز پنجاب ہاﺅس میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ صدر زرداری کی طرف سے اربوں روپے الیکشن میں حمایت حاصل کرنے کیلئے دئیے جارہے ہیں۔صدر کی طرف سے میڈیا ہاﺅسز، نمائندوں اور اینکرز کو اربوں روپے دینے کے حقائق سامنے لائیں گے۔ 20 ویں ترمیم کے بعد نگران سیٹ اپ میں حکومت کا کردار ثانوی ہے۔ اب نگران حکومت کا ذمہ دار الیکشن کمشن ہے۔ نگران سیٹ اپ پر حکومت کے اپوزیشن سے رابطوں کے دعوے اپنی ساکھ بچانے کے مترادف ہیں۔ اسمبلی کی تحلیل تک نگران سیٹ اپ کیلئے مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ صدر زرداری اسمبلی کی مدت ایک سال مزید نہیں بڑھا سکتے۔ موجودہ حالات میں حکومت سے کسی قسم کا سیاسی رابطہ نہ ہے اور نہ ہی مستقبل قریب میں ہونے کی کوئی توقع کی جا سکتی ہے، عسکری قیادت کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ آل پارٹیز کانفرنس اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی قراردادوں کا احترام کرے اور کسی غیر ملکی اشارے پر کسی صورت پاکستان کے کسی علاقے کو جنگ میں نہ دھکیلا جائے۔ علاوہ ازیں چودھری نثار علی خان سے بدھ کو یہاں پنجاب ہاﺅس میں جرمنی کے اسلام آباد میں متعین سفیر سیرل نن نے تفصیلی ملاقات کی۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور پاک جرمن تعلقات پر تفصیلی تبادلہ کیا گیا۔ مسلم لیگ (ن) کے ایک ترجمان کے مطابق ملاقات کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے چودھری نثار نے کہا کہ جرمنی نے پاکستان میں جدید انفراسٹرکچر کی تعمیر اور ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔