آئین کے مطابق فیصلے کرتے رہیں گے چاہے آسمان گر پڑے : چیف جسٹس

آئین کے مطابق فیصلے کرتے رہیں گے چاہے آسمان گر پڑے : چیف جسٹس

اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ + ایجنسیاں) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ آئین پر عملدرآمد کے لئے عدلیہ کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔ سپریم کورٹ کا کام قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلوں پر بیرونی عوامل اثرانداز نہیں ہوتے۔ جسٹس شاکر اللہ جان کے اعزاز میں سپریم کورٹ بار کے افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عدلیہ نتائج سے بے پروا ہو کر آئین پر اس کی روح کے مطابق عمل کرتی رہے گی۔ سپریم کورٹ کا کام آئین کی بالادستی یقینی بنانا ہے۔ سپریم کورٹ آئین اور قانون سے رہنمائی لیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ یقینی بنایا جائے کہ تمام ادارے بھی آئین کے مطابق کام کریں۔ عدلیہ نے ریاست کے ستون کے طور پر آئین کی ذمہ داریاں نبھانی ہیں۔ سپریم کورٹ آئین کے مطابق فیصلے کرتی رہے گی خواہ آسمان ہی کیوں نہ گر پڑے۔ سپریم کورٹ قانون اور آئین سے رہنمائی لیتی ہے، شخصیات کو دیکھ کر فیصلے نہیں کئے جاتے۔ افراد اور اداروں کو کمزور ظاہر کر کے عدالتوں کو انصاف دینے سے روکا نہیں جا سکتا۔ عدلیہ ریاست کا اہم ستون ہے۔ تقریب میں سپریم کورٹ کے ججز اور سینئر وکلا نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ جج کے فیصلوں پر کوئی بیرونی عوامل اثرانداز ہوتے ہیں نہ ہی شخصیات کو مدنظر رکھ کر فیصلے کئے جاتے ہیں۔ چیف جسٹس نے جسٹس شاکر اﷲ جان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر یٰسین آزاد نے کہا کہ پارلیمنٹ آئین سے متصادم قانون نہیں بنا سکتی۔ وکلا متحد ہیں اگر کسی نے عدلیہ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو وکلا اٹھ کھڑے ہوں گے۔ عدلیہ آئین اور اسلامی تعلیمات سے متصادم قوانین کالعدم کر سکتی ہے۔ اسی طرح پارلیمنٹ کو بھی قانون سازی کا حق حاصل ہے۔ آئین کی بالا دستی تمام اداروں کے لئے یکساں ضروری ہے۔ ادارے اپنی آئینی حدود میں رہیں تو کوئی بھی آمر طاقت استعمال نہیں کر سکے گا۔ تمام اداروں کو ملک کی فکر کرنی چاہئے۔