پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ شہبازشریف کی تعریف کے معاملے پر رانا ثنا اللہ خان اور راجہ ریاض میں نوک جھوک ہوگئی

پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ شہبازشریف کی تعریف کے معاملے پر رانا ثنا اللہ خان اور راجہ ریاض میں نوک جھوک ہوگئی

سپیکر پنجاب اسمبلی کی زیر صدارت اپوزیشن کی ریکوزیشن پرطلب کیا جانے والا صوبائی اسمبلی کا اجلاس متعدد بارہنگامہ آرائی کا شکار ہوا۔ پہلی مرتبہ حکومتی بنچوں کی جانب سے دو مرتبہ کورم مکمل نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی مگراپوزیشن کے ارکان نے اجلاس جاری رکھنے کیلئے کورم برقراررکھا۔ ایوان میں پہلی مرتبہ ہنگامہ آرائی متحدہ مجلس عمل کے پارلیمانی لیڈرنورحیدرنیازی کے اس پوائنٹ آف آرڈر پر ہوئی جس میں انہوں نے اسمبلی میں ایک نجی فرم کی جانب سے گورنر ہائوس لاہورمیں کی جانے والی ماڈلنگ کی جانب کروائی اورپیپلز پارٹی کی اعلی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنایا تاہم قائد حزب اختلاف نے ان اطلاعات کو بے بنیاد قرار دیا۔ ابھی یہ بحث جاری ہی تھی تحریک التواء پروزیرقانون اورقائد حزب اختلاف کے درمیان نوک جھوک کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ جس میں رانا ثنا اللہ خان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت سے علیحدگی سے قبل راجہ ریاض کابینہ کے اجلاس میں شہبازشریف کی اس حد تک تعریفیں کرتے تھے جسے دیکھ کرمسلم لیگی وزراء بھی شرمندہ ہو جاتے۔ دوسری طرف راجہ ریاض کا کہنا تھا کہ کوئی یہ بات ثابت کردے تو وہ مستعفی ہوجائیں گے۔ نوک جھوک جاری تھی کہ پیپلزپارٹی کے اشرف خان سوہنا اس میں کود پڑے جن کا کہنا تھا کہ لیگی وزراء شہباز شریف کے خوف سے کام نہیں کررہے۔ اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکررانا مشہود کی زیر صدارت جاری ہے۔