الیکشن کمیشن ووٹر لسٹیں دسمبر تک درست کرے۔ اگر یہ معاملہ عدالت کے پاس آیا تو عدالت اس ضمنی الیکشن کو غیرقانونی قراردے دے گی ۔ چیف جسٹس

الیکشن کمیشن ووٹر لسٹیں دسمبر تک درست کرے۔ اگر یہ معاملہ عدالت کے پاس آیا تو عدالت اس ضمنی الیکشن کو غیرقانونی قراردے دے گی ۔ چیف جسٹس

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں جسٹس خلجی عارف حسین اور جسٹس تصدق حسین جیلانی پر مشتمل تین رکنی بینچ نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی اس درخواست کی سماعت کی جس میں الیکشن کمیشن کی لسٹوں میں موجود ساڑھے تین کروڑ سے زائد ووٹوں کو بوگس قرار دیکر چیلنج کیا گیا تھا۔عمران خان کی طرف سے حامد خان ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اورموقف اختیار کیا کہ ووٹرلسٹوں میں جب تک بوگس ووٹ موجود ہیں اس وقت تک کوئی بھی الیکشن قانونی نہیں ہو سکتا ۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کی ووٹرلسٹوں پر تمام ووٹرزکی تصاویر لگائی جائیں ۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد خان نے عدالت کو بتایا کہ ووٹرلسٹوں میں غیر مستند ووٹرز کے اخراج کا عمل جاری ہے تمام ووٹرلسٹیں سولہ جولائی سے ہونے والے ملک گیر گھر گھر سروے میں چیک کر لی جائیں گی اور سولہ دسمبر تک آویزاں کر دی جائیں گی جبکہ پریذائیڈنگ آفیسرز کے پاس موجود لسٹوں پر تصاویربھی موجود ہوں گی تاہم سکیورٹی نکتہ نظر کے پیش نظر یہ لسٹیں عام نہیں ہوں گی ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگر ووٹرلسٹیں ٹھیک ہوں تو کسی کو الیکشن کے بعد جلوس نکالنے کی ضرورت پیش نہ آئے ۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن کی تشکیل کے بغیر ہونےوالے ضمنی الیکشن میں کامیاب ہونے والے ارکان پارلیمنٹ کی قانونی حیثیت کیا ہے؟جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ یہ الیکشن قانونی نہیں تھے ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ الیکشن کمیشن اس معاملے کا جلد ازجلد فیصلہ کرے اگر یہ معاملہ عدالت کے پاس آیا تو عدالت اس ضمنی الیکشن کو غیرقانونی قراردے دے گی ۔ کیس کی سماعت غیرمعینہ مدت کیلئے ملتوی کر دی گئی۔